تحریر: صحت ڈیسک
ذیابیطس، جسے عام زبان میں شوگر بھی کہا جاتا ہے، دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والی ایک دائمی بیماری ہے۔ یہ اس وقت ہوتی ہے جب جسم خون میں موجود گلوکوز (شکر) کو مؤثر طریقے سے استعمال نہیں کر پاتا یا لبلبہ (Pancreas) مناسب مقدار میں انسولین پیدا نہیں کرتا۔ انسولین وہ ہارمون ہے جو خون میں موجود شکر کو جسم کے خلیوں تک پہنچا کر توانائی میں تبدیل کرتا ہے۔
اگر ذیابیطس کو بروقت قابو نہ کیا جائے تو یہ دل، گردوں، آنکھوں، اعصاب اور خون کی نالیوں کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔
ذیابیطس کی اقسام
1۔ ٹائپ 1 ذیابیطس
اس قسم میں جسم کا مدافعتی نظام خود ہی لبلبے کے انسولین بنانے والے خلیوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اس کے مریضوں کو زندگی بھر انسولین لینا ضروری ہوتا ہے۔ یہ بیماری زیادہ تر بچوں اور نوجوانوں میں دیکھی جاتی ہے۔
2۔ ٹائپ 2 ذیابیطس
یہ ذیابیطس کی سب سے عام قسم ہے۔ اس میں جسم انسولین تو بناتا ہے، لیکن اسے مؤثر انداز میں استعمال نہیں کر پاتا۔ زیادہ وزن، جسمانی سرگرمی کی کمی، غیر متوازن غذا اور خاندانی تاریخ اس کے بڑے اسباب ہیں۔
3۔ حمل کے دوران ذیابیطس (Gestational Diabetes)
یہ بعض خواتین میں حمل کے دوران پیدا ہوتی ہے۔ اگرچہ زیادہ تر زچگی کے بعد ختم ہو جاتی ہے، لیکن ایسی خواتین میں مستقبل میں ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ذیابیطس کی علامات
- بار بار پیشاب آنا
- بہت زیادہ پیاس لگنا
- غیر معمولی بھوک محسوس ہونا
- وزن میں اچانک کمی
- جلد تھکن محسوس ہونا
- نظر دھندلا جانا
- زخموں کا دیر سے بھرنا
- جلد یا پیشاب کی بار بار انفیکشن ہونا
- ہاتھوں اور پاؤں میں جھنجھناہٹ یا سن ہونا
ابتدائی مرحلے میں بعض مریضوں میں کوئی واضح علامت ظاہر نہیں ہوتی، اس لیے باقاعدہ طبی معائنہ ضروری ہے۔
ذیابیطس کے اسباب
- موروثی عوامل
- موٹاپا
- جسمانی سرگرمی کی کمی
- زیادہ میٹھی اور چکنائی والی غذاؤں کا استعمال
- ذہنی دباؤ
- بڑھتی عمر
- ہائی بلڈ پریشر اور کولیسٹرول
ممکنہ پیچیدگیاں
اگر شوگر طویل عرصے تک قابو میں نہ رہے تو درج ذیل پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں:
- دل کا دورہ اور فالج
- گردوں کی خرابی
- بینائی متاثر ہونا یا نابینا پن
- اعصابی کمزوری
- پاؤں میں زخم اور انفیکشن
- خون کی نالیوں کو نقصان
تشخیص
ذیابیطس کی تشخیص خون کے مختلف ٹیسٹوں سے کی جاتی ہے، جن میں شامل ہیں:
- فاسٹنگ بلڈ شوگر (Fasting Blood Sugar)
- رینڈم بلڈ شوگر (Random Blood Sugar)
- HbA1c ٹیسٹ
- اورل گلوکوز ٹولرینس ٹیسٹ (OGTT)
علاج
ذیابیطس کا مکمل علاج موجود نہیں، لیکن مناسب احتیاط اور علاج کے ذریعے اسے مؤثر انداز میں کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
علاج میں شامل ہیں:
- ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق ادویات یا انسولین
- متوازن غذا
- روزانہ کم از کم 30 سے 45 منٹ چہل قدمی یا ورزش
- وزن کو مناسب حد میں رکھنا
- بلڈ شوگر کی باقاعدہ جانچ
- ہائی بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کو قابو میں رکھنا
ذیابیطس سے بچاؤ
ٹائپ 2 ذیابیطس سے بڑی حد تک بچاؤ ممکن ہے اگر:
- صحت بخش غذا اختیار کی جائے۔
- روزانہ ورزش کی جائے۔
- میٹھے مشروبات اور جنک فوڈ سے پرہیز کیا جائے۔
- تمباکو نوشی اور شراب سے دور رہا جائے۔
- مناسب نیند لی جائے۔
- وزن کو متوازن رکھا جائے۔
- 35 سال کی عمر کے بعد یا خطرے کی صورت میں باقاعدگی سے شوگر کی جانچ کرائی جائے۔
غذائی احتیاط
ذیابیطس کے مریضوں کو چاہیے کہ:
- سبز پتوں والی سبزیاں، دالیں، سالم اناج اور پھل مناسب مقدار میں استعمال کریں۔
- چینی، مٹھائیاں، کولڈ ڈرنکس اور زیادہ میٹھی اشیاء سے پرہیز کریں۔
- سفید آٹے، بیکری مصنوعات اور تلی ہوئی غذاؤں کا کم استعمال کریں۔
- پانی مناسب مقدار میں پئیں۔
- کھانا ایک ساتھ زیادہ کھانے کے بجائے تھوڑی تھوڑی مقدار میں کئی بار کھائیں۔
نتیجہ
ذیابیطس ایک ایسی بیماری ہے جسے نظر انداز کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، لیکن بروقت تشخیص، متوازن غذا، باقاعدہ ورزش، مناسب علاج اور صحت مند طرزِ زندگی اختیار کر کے اس پر کامیابی سے قابو پایا جا سکتا ہے۔ معمول کے طبی معائنے اور ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل نہ صرف بیماری کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ اس سے پیدا ہونے والی سنگین پیچیدگیوں سے بھی بچایا جا سکتا ہے۔