رونالڈو کے ورلڈ کپ کریئر کا آنسوؤں کے ساتھ اختتام: ’میری آنکھوں میں بھی آنسو ہیں اور یہی اس عظیم کھلاڑی کا ورثہ ہے‘

فٹبال کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شمار ہونے والے کرسٹیانو رونالڈو کا ورلڈ کپ میں سفر پرتگال کی سپین کے ہاتھوں ایک صفر سے شکست کے ساتھ بالآخر اس سب سے بڑے اعزاز کے بغیر اختتام پذیر ہو گیا۔

ڈلاس میں کھیلے گئے اس میچ کے اختتام پر جب پرتگال کو آخری 16 کے مرحلے میں سپین کے ہاتھوں 1-0 کی شکست کا سامنا کرنا پڑا تو رونالڈو کی ورلڈ کپ داستان آنسوؤں کے ساتھ ختم ہوئی۔

میکل میرینو کے انجری ٹائم میں کیے گئے فیصلہ کن گول نے سپین کو کوارٹر فائنل میں پہنچا دیا جبکہ پرتگال اور رونالڈو کے عالمی کپ کے خواب بھی ٹوٹ گئے۔

41 سالہ رونالڈو اپنے شاندار کیریئر میں پانچ بار بیلون ڈی اور جیت چکے ہیں، پانچ مرتبہ چیمپئنز لیگ کا ٹائٹل اپنے نام کر چکے ہیں اور سنہ 2016 میں پرتگال کو یورپی چیمپیئن بنانے میں بھی اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔

کلب اور قومی ٹیم کی سطح پر وہ 976 گول کر کے عالمی ریکارڈ قائم کر چکے ہیں جبکہ چھ مختلف ورلڈ کپ ٹورنامنٹس میں گول کرنے والے واحد فٹبالر بھی ہیں۔

اس کے باوجود، ورلڈ کپ ٹرافی ان کے ہاتھ نہ آ سکی۔ وہ اس اعزاز کے سب سے قریب 2006 کے ورلڈ کپ میں پہنچے تھے، جب پرتگال سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا تھا۔

رونالڈو پہلے ہی اعلان کر چکے تھے کہ یہ ان کے کیریئر کا آخری ورلڈ کپ ہو گا تاہم جب میچ کے بعد ان سے قومی ٹیم کے مستقبل کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’میں اپنے خاندان سے ملوں گا اور پھر سکون سے بیٹھ کر مستقبل کے بارے میں فیصلہ کروں گا۔‘

یہ سوال بحث کا موضوع بنا رہے گا کہ اگر کرسٹیانو رونالڈو کو ہر میچ میں لازمی کھلانے کا دباؤ نہ ہوتا تو کیا پرتگال اس ورلڈ کپ میں زیادہ بہتر کارکردگی دکھا سکتا تھا یا نہیں۔
بی بی سی کے مبصر اور سابق انگلش سٹرائیکر کرس سٹن اس معاملے پر اپنی رائے میں بالکل واضح ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’وہ میدان میں دادا کی طرح آہستہ آہستہ چل رہے تھے، اسی لیے پرتگال باہر ہوا۔ کرسٹیانو رونالڈو نے کوئی خاص اثر نہیں چھوڑا، وہ کچھ بھی نہیں کر پائے۔‘

کرس سٹن نے پرتگال کے کوچ روبرٹو مارٹینز کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ’مارٹینز آخر کر کیا رہے ہیں؟ کسی ایک کھلاڑی کی خاطر آپ اتنی رعایت اور خوشامد کیسے کر سکتے ہیں؟ پرتگال کی ناکامی کی بڑی وجہ روبرٹو مارٹینز ہیں۔‘

میچ کے اختتام کے بعد روبرٹو مارٹینز نے اپنے عہدے سے الگ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے رونالڈو کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انھوں نے 41 سالہ فارورڈ کو ’فٹبال کا عظیم آئیکن‘ قرار دیا اور کہا کہ پوری ٹیم کو ان کی کوششوں کا اعتراف کرنا چاہیے۔

مارٹینز کے مطابق ’رونالڈو کا خواب ورلڈ کپ جیتنا تھا اور انھوں نے اس خواب کو حقیقت بنانے کے لیے اپنی بھرپور کوشش کی۔ وہ نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بہترین مثال ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’رونالڈو نہ صرف ایک غیرمعمولی فٹبالر ہیں بلکہ میدان کے باہر بھی اعلیٰ انسانی اقدار کی نمائندگی کرتے ہیں اور یہی چیز انھیں دوسروں سے ممتاز بناتی ہے۔‘

کیا رونالڈو کو کھیلنا چاہیے تھا؟
حالیہ برسوں میں بڑے ٹورنامنٹس کے دوران ایک سوال بار بار سامنے آتا رہا: کیا کرسٹیانو رونالڈو اب بھی پرتگال کی ٹیم میں جگہ کے مستحق ہیں؟

اگرچہ رونالڈو 146 بین الاقوامی گولز کے ساتھ مردوں کے عالمی فٹبال میں سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی ہیں لیکن ناقدین کا خیال ہے کہ حالیہ برسوں میں وہ گول کرنے کے علاوہ ٹیم کو زیادہ فائدہ نہیں پہنچا پا رہے۔ ان کی غیرمعمولی شہرت اور اثر و رسوخ کے باعث بھی یہ تاثر پیدا ہوا کہ کوچ روبرٹو مارٹینز انھیں بینچ پر بٹھانے یا ٹیم سے باہر رکھنے کا مشکل فیصلہ نہیں کر سکے۔

دوسری جانب پرتگال کے پاس ایسے باصلاحیت کھلاڑیوں کا مجموعہ موجود تھا جس سے آخری 16 سے آگے جانے کی توقع کی جا رہی تھی۔ ٹیم میں کئی ایسے ستارے شامل تھے جنھوں نے حالیہ برسوں میں یورپی کلب فٹبال میں بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔ ان میں نونو مینڈیز، ویٹینیا، ژواو نیویش اور گونکالو راموس جیسے کھلاڑی شامل تھے جبکہ برونو فرنینڈیز بھی شاندار فارم میں تھے۔

بی بی سی مبصر کرس سٹن نے کوچ روبرٹو مارٹینز کے فیصلوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ گونکالو راموس کو مناسب موقع کیوں نہیں دیا گیا۔ ان کے بقول ’یہ مینیجر کی جانب سے مایوس کن فیصلہ تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ ٹیم کی ضرورت کے بجائے اپنے سب سے بڑے سٹار کو خوش رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

سٹن نے مزید کہا کہ اگرچہ رونالڈو پرتگال کی تاریخ کے کامیاب ترین اور سب سے زیادہ اعزاز یافتہ کھلاڑی ہیں لیکن بعض اوقات کوچ کو ٹیم کے مفاد میں مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔

اعداد و شمار بھی اس بحث کو مزید تقویت دیتے ہیں۔ رونالڈو نے ٹورنامنٹ میں تین گول کیے، جن میں ازبکستان کے خلاف دو اور کروشیا کے خلاف ایک پنلٹی شامل تھی تاہم کئی دیگر کھلاڑیوں نے ان سے زیادہ گول کیے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ رونالڈو نے پورے ٹورنامنٹ میں 18 شاٹس لیے، جو مشترکہ ٹاپ سکورر ایرلنگ ہالینڈ کے برابر تھے مگر ان مواقع سے وہ نسبتاً کم فائدہ اٹھا سکے۔

اسی طرح پانچ میچوں کے دوران انھوں نے اپنے ساتھیوں کے لیے صرف ایک واضح موقع بنایا جبکہ تقریباً مکمل ٹورنامنٹ کھیلنے کے باوجود ورلڈ کپ میں سینکڑوں کھلاڑی ان سے زیادہ مرتبہ گیند کو چھو چکے تھے۔ ناقدین کے نزدیک یہ اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ ان کا مجموعی اثر پہلے جیسا نہیں رہا۔

اس تنقید کے باوجود روبرٹو مارٹینز اپنے فیصلے کا دفاع کرتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’جب ٹیم کو گول کی ضرورت ہو تو آپ کرسٹیانو رونالڈو جیسے کھلاڑی کو میدان سے باہر نہیں نکال سکتے۔ وہ جسمانی طور پر اب بھی مقابلے کے قابل ہیں۔ ان کا تجربہ، ان کی موجودگی اور فری ککس جیسی صورتحال میں ان کی اہمیت ٹیم کے لیے قیمتی ہے۔‘

مارٹینز کے مطابق رونالڈو صرف گول کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے بلکہ اپنی موجودگی سے مخالف دفاع پر دباؤ بھی ڈالتے ہیں، جس سے دیگر کھلاڑیوں کے لیے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ تاہم پرتگال کی ناکامی کے بعد یہ بحث بدستور جاری ہے کہ آیا ٹیم کو اپنے عظیم ترین کھلاڑی پر انحصار جاری رکھنا چاہیے تھا یا نئے کھلاڑیوں کو زیادہ ذمہ داریاں سونپنی چاہیے تھیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading