ممبئی:سینئر افسر رشمی شکلا کو ریاستی حکومت نے مہاراشٹر پولیس کا ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا ہے، لیکن سینٹرل پبلک سروس کمیشن کے قانون کے مطابق ان کی تقرری نہیں کی گئی ہے، اس لیے یہ غیرقانونی تقرری فوری طور منسوخ کی جائے۔ یہ مطالبہ آج یہاں این سی پی کی ترجمان ودیا چوان نے کیا ہے۔وہ پارٹی دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ سنٹرل پبلک سروس کمیشن کے قانون کے مطابق کسی بھی افسر کی تقرری کرتے وقت اس کے ریٹائرمنٹ کی مدت کم از کم چھ ماہ ہونی چاہیے، لیکن نو منتخب ڈائریکٹر جنرل آف پولیس رشمی شکلا کو ایسے وقت میں اس عہدے پر تعینات کیا گیا ہے جب ان کی ریٹائرمنٹ میں محض ۵ماہ باقی ہیں۔چونکہ ان کی تقرری سینٹرل پبلک سروس کمیشن کے خلاف ہے اس لیے اس تقرری کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔ودیا چوہان نے کہا کہ رشمی شکلا کے خلاف فون ٹیپنگ کے معاملے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔وہ موجودہ نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ دیویندر فڑنویس کی قریبی عہدیدار کے طور پر جانی جاتی ہیں۔مہاوکاس اگھاڑی حکومت کے دوران رشمی شکلا نے بہت سے لیڈروں کے فون ٹیپ کیے تھے جن کے الزامات سے وہ آج بھی بری نہیں ہوئی ہیں۔ اس کے باوجود انہیں ریاست کے انتہائی اہم ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کے عہدے پر ان کی تقرری کردی گئی ہے۔ رشمی شکلا نے مسلسل نائب وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس کے مخالفت کرنے والے لیڈروں کے خلاف کام کیا ہے۔فون ٹیپنگ معاملے میں رشمی شکلا کے خلاف کارروائی کے اشارے ملتے ہی مرکزکی بی جے پی حکومت نے انہیں مرکز میں بلالیا تھا۔ پھرمہاوکاس اگھاڑی حکومت کے خاتمے کے بعد انہیں دوبارہ ریاست میں بھیج دیا گیا۔
ودھیا چوہان نے کہا کہ رشمی شکلا کی تقرری آئندہ لوک سبھا اور ودھان سبھا انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔ الیکشن میں پولیس کی کارکردگی بہت اہم ہوتی ہے۔ رشمی شکلا کا تقرراس لیے کیا گیا ہے تاکہ وہ جو چاہے کر سکیں۔ انتخابات کے دوران کوئی حکومت نہیں ہوتی ہے، ایسے میں انتظامیہ کی ہی پوری ذمہ داری ہوتی ہے۔اس لیے اس عہدے پر کوئی مضبوط اور غیرمتنازعہ افسر کا تقرر کیا جاناچاہئے۔ودھیا چوہان نے کہا کہ این سی پی کے نوجوان لیڈر اور ایم ایل اے روہت پوار نے ریاستی حکومت اور مرکزی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف پونے سے ناگپور تک یووا سنگھرش یاترا نکالی تھی۔ MPSC طلباء سے 1200 روپے فیس لی جاتی ہے جس کی انہوں نے مخالفت کی۔ بیروزگاری وکسانوں کے مسائل روہت پوار نے اٹھائے جس کی پاداش میں ان کے خلاف ای ڈی کی کارروائی ہورہی ہے۔
