اجیت دادا پوار کی دی ہوئی پارٹی اور نظریے کو ہی آگے لے جائیں گے

ہمارے لیے یہ اہم نہیں کہ کون کیا کہہ رہا ہے، ہمارے لیے پارٹی اور نظریہ سب سے اہم ہے

این ڈی اے کے ساتھ رہنے کا فیصلہ حتمی، پارٹی کے انضمام کی باتوں میں کوئی صداقت نہیں

ممبئی: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے ریاستی صدر اور رکن پارلیمنٹ سنیل تٹکرے نے واضح کیا ہے کہ پارٹی نے این ڈی اے کے ساتھ رہنے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ حتمی ہے اور آئندہ بھی اسی اتحاد کے ساتھ سیاسی سفر جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے پارٹی کے انضمام سے متعلق تمام قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے لیے سب سے اہم وہ پارٹی ہے جو اجیت دادا پوار نے ہمیں دی اور وہ نظریہ ہے جسے انہوں نے پوری زندگی مضبوط کیا۔

ریاستی پارٹی دفتر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سنیل تٹکرے نے کہا کہ لوگ کچھ بھی کہتے رہیں، الزامات لگاتے رہیں، ہمارے لیے اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ ہماری ذمہ داری اجیت دادا پوار کے وژن کے مطابق پارٹی اور نظریے کو آگے لے جانا ہے اور ہم اسی مؤقف پر قائم رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کوئی بھی فیصلہ اجیت دادا پوار کی رضامندی کے بغیر نہیں لیا۔ این ڈی اے میں شامل ہونے کا فیصلہ اجتماعی غور و فکر اور اجیت دادا پوار کی قیادت میں کیا گیا تھا۔

سنیل تٹکرے نے کہا کہ این ڈی اے کے ساتھ رہنے کا فیصلہ مستقل ہے اور پارٹی آئندہ بھی اسی اتحاد کا حصہ رہے گی۔ انہوں نے پارٹی کے انضمام سے متعلق خبروں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ افواہیں کس نے پھیلائیں، اس کا جواب وہی لوگ دیں جنہوں نے یہ باتیں شروع کیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی ایک منظم اور متحد سیاسی پارٹی ہے اور اسی حیثیت سے کام کرتی رہے گی۔

اظہارِ رائے کی آزادی کا حوالہ دیتے ہوئے سنیل تٹکرے نے کہا کہ آئینِ ہند ہر شہری کو اپنی بات کہنے کا حق دیتا ہے۔ حالیہ دنوں میں سنیترا بہن کی جانب سے نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لینے پر مختلف آرا سامنے آئیں، لیکن انہوں نے یہ حلف مہاراشٹر میں سیاسی استحکام، پارٹی کو مضبوط بنانے اور اجیت دادا پوار کے ترقی یافتہ مہاراشٹر کے خواب کو آگے بڑھانے کے مقصد سے لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ راجیہ سبھا کے امیدوار کے بارے میں فیصلہ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی خود کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ این ڈی اے میں شامل ہونے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے کبھی کوئی دباؤ یا ہدایات نہیں دی گئیں، بلکہ اتحاد کے ساتھیوں کے ساتھ احترام اور وقار کے ساتھ برتاؤ کیا گیا۔

اس دوران پارٹی دفتر میں جذباتی مناظر بھی دیکھنے کو ملے۔ نوجوان لیڈر پارتھ پوار دادا کے کمرے میں گئے اور اس کرسی سے لپٹ کر کر رو پڑے جس پر اجیت دادا بیٹھا کرتے تھے۔ جب دادا کی استھیاں ریاست کے مختلف اضلاع کے لیے روانہ کی گئیں تو پارٹی کے کئی عہدیدار اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکے اور آنکھیں نم نظر آئیں۔ اس موقع پر پارٹی کے وزرا، اراکین اسمبلی، سینئر لیڈران، عہدیداران اور کارکنان بڑی تعداد میں موجود تھے۔ سب نے اجیت دادا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی دی ہوئی پارٹی، نظریے اور سیاسی وراثت کو مضبوطی سے آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading