مودی حکومت کے بجٹ میں صرف بڑے بڑے اعداد و شمار اور کھوکھلے وعدے، عوام کے ہاتھ کچھ نہیں لگا

تمام سماجی طبقات کو مایوس کرنے والا بے سمت بجٹ۔ زراعت، متوسط اور چھوٹے صنعتکاروں، کسانوں کے لیے کچھ نہیں، روزگار کے لیے کوئی ٹھوس منصوبہ نہیں

ممبئی: مرکزی حکومت کی جانب سے پیش کیا گیا بجٹ گزشتہ برسوں کے بجٹ سے قطعی مختلف نہیں ہے۔ اس بجٹ میں کسی بھی سماجی طبقے کے لیے اطمینان بخش نکات شامل نہیں ہیں بلکہ یہ صرف بڑے بڑے اعداد و شمار اور دعووں تک محدود ہے۔ بجٹ میں عددی کرتب دکھائے گئے ہیں مگر اس میں سمت اور وژن کا شدید فقدان ہے۔ یہ سخت تنقید مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں بڑے پیمانے پر روزگار پیدا کرنے کے لیے واضح اور مضبوط پالیسی کی ضرورت تھی، مگر اس بجٹ میں روزگار کے حوالے سے کوئی ٹھوس منصوبہ نظر نہیں آتا۔ کسانوں کے مفاد میں کوئی مؤثر انتظام نہیں کیا گیا، نہ ہی تنخواہ دار طبقے اور متوسط طبقے کو کوئی راحت دی گئی ہے۔ ترقی کی جن شرحوں کا اعلان کیا گیا ہے، ان کا حاصل ہونا بھی مشکل دکھائی دیتا ہے، جس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ بجٹ صرف اعلانات اور وعدوں تک محدود ہے۔

ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے بعد چھوٹے، متوسط کارخانے دار و صنعتکار شدید بحران کا شکار ہیں، مگر اس بجٹ میں بھی ان شعبوں کو سنبھالنے کے لیے کوئی عملی سہارا فراہم نہیں کیا گیا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ملک میں سب سے زیادہ روزگار اسی شعبے سے پیدا ہوتا ہے، اس کے باوجود حکومت نے اس حقیقت کو یکسر نظر انداز کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مودی حکومت کے دور میں بے روزگاری خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور تازہ اعداد و شمار کے مطابق دو گریجویٹ نوجوانوں میں سے ایک بے روزگار ہے، جو حکومت کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک زرعی ملک ہے، اس کے باوجود یہ بجٹ کسانوں کے لیے شدید مایوسی کا باعث بنا ہے۔ کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کا وعدہ گزشتہ بارہ برس میں پورا نہیں ہوا، بلکہ زراعت پر خرچ بڑھ گیا ہے، فصلوں کو مناسب قیمت نہیں مل رہی اور کم از کم امدادی قیمت پر کوئی واضح فیصلہ نہیں کیا گیا۔ کسانوں کی خودکشی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، مگر بجٹ میں ان سنگین مسائل پر کوئی سنجیدہ توجہ نہیں دی گئی۔ سالانہ چھ ہزار روپے دے کر کسانوں کے مسائل حل نہیں ہو سکتے، یہ حکومت کو سمجھنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت دعویٰ کر رہی ہے کہ پچیس کروڑ افراد کو غربت سے نکالا گیا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اسی کروڑ عوام کو آج بھی پانچ کلو اناج دینا پڑ رہا ہے۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ غربت کیسے کم ہوئی۔ سونے اور چاندی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، مہنگائی بے قابو ہے، مگر ان پر قابو پانے کے لیے بھی بجٹ میں کوئی مؤثر حکمت عملی نظر نہیں آتی۔

ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ ملک پر قرض کا بوجھ تیزی سے بڑھ رہا ہے، قرض لے کر اسکیمیں چلائی جا رہی ہیں، مگر عام لوگوں کی زندگی میں کوئی مثبت تبدیلی دکھائی نہیں دیتی۔ آج ملک میں آمدنی اور دولت کی غیر مساوی تقسیم تاریخی سطح پر پہنچ چکی ہے، جہاں آمدنی کا بڑا حصہ چند فیصد لوگوں تک محدود ہو گیا ہے۔ اس سنگین عدم مساوات کو دور کرنے کے بارے میں بجٹ میں ایک لفظ بھی شامل نہیں ہے، جو اس بجٹ کی سب سے بڑی خامی ہے۔

MPCC Urdu News 01 Feb. 26.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading