ملزمین پر فوجداری مقدمہ درج نہ کیا گیا تو محکمہ صحت کا گھیراؤ کیا جائے گا
مریضوں کی زندگی سے کھیلنے والوں پر سخت کارروائی تک خاموش نہیں رہیں گے: امول ماتیلے
ممبئی: ممبئی کے سانتاکروز کے بی این دیسائی اسپتال سمیت کئی دیگر اسپتالوں میں انتہائی نگہداشت کے شعبے میں جعلی ڈاکٹروں کی تقرری کا سنگین انکشاف سامنے آیا ہے جس نے براہِ راست مریضوں کی صحت کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے۔ اس سنگین معاملے پر نیشنلسٹ کانگریس ایس پی نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اگر ملزمان کے خلاف فوری طور پر فوجداری مقدمہ درج نہ کیا گیا تو محکمہ صحت کے افسران کا گھیراؤ کیا جائے گا۔
پارٹی کے ترجمان اور ممبئی یوتھ ونگ کے صدر ایڈووکیٹ امول ماتیلے نے بامبے میونسپل کارپوریشن کے کمشنر (محکمہ صحت) کو ای میل کے ذریعے ایک باضابطہ خط روانہ کیا ہے، جس میں متعلقہ ٹھیکیدار کے خلاف فوجداری مقدمہ قائم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اپنے خط میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ٹھیکیدار نے اسپتال میں جعلی ڈاکٹر تعینات کرکے نہ صرف مالی فائدہ حاصل کیا بلکہ مریضوں کی جانوں سے کھیلنے کا بھی جرم کیا ہے، اس لیے اس پر بھارتی تعزیری قانون کی دفعات 420 (فراڈ)، 406 (امانت میں خیانت)، 468 (دستاویزات میں جعل سازی)، 471 (جعلی دستاویزات کا استعمال)، 304 اے (غفلت سے موت یا نقصان)، 336، 337، 338 (جان کو خطرے میں ڈالنا اور نقصان پہنچانا)، اور 120 بی (مجرمانہ سازش) کے تحت مقدمہ درج کیا جانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی مطالبہ کیا گیا ہے کہ متعلقہ ٹھیکیدار کو مستقل طور پر بلیک لسٹ کرکے آئندہ کوئی بھی ٹھیکہ نہ دیا جائے۔
امول ماتیلے نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس معاملے میں فوری کارروائی نہیں کی گئی تو محکمہ صحت کے ذمہ دار افسران کو گھیر کر زبردست احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ میونسپل انتظامیہ کے بعض افسران کی ملی بھگت کے بغیر اس نوعیت کا بڑا گھپلا ممکن نہیں ہوسکتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس معاملے کی گہرائی سے تحقیقات کی جائے اور بدعنوان افسران کی ذمہ داری طے کرکے ان پر سخت ایکشن لیا جائے تاکہ عوام کی صحت کی حقیقی حفاظت ممکن بنائی جا سکے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ممبئی کے شہریوں کی زندگی سے کھیلنے والے بوگس ڈاکٹر معاملے پر ان کی پارٹی کسی بھی صورت خاموش تماشائی نہیں بنے گی۔ جب تک ملزمان پر سخت سے سخت کارروائی نہیں ہوتی، یہ جدوجہد جاری رہے گی۔
NCP-SP Urdu News 7 sep 25.docx
