چیف جسٹس پر حملے کے خلاف این سی پیِ-ایس پی کا ریاست بھر میں احتجاج
بارامتی میں رکنِ پارلیمنٹ سپریا سولے کی قیادت میں خاموش احتجاج، چیف جسٹس کی توہین کا معاملہ پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا
ممبئی: چیف جسٹس آف انڈیا بھوشن گوائی کو ایک وکیل کی جانب سے جوتا پھینک کر نشانہ بنانے کی کوشش کے خلاف شرد پوار کی قیادت والی این سی پی کے کارکنوں نے آج مہاراشٹر کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے۔ بارامتی میں پارٹی کی جانب سے ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر کے مجسمے کے سامنے ایک خاموش احتجاج کا اہتمام کیا گیا، جس میں پارٹی کی قومی صدر اور رکنِ پارلیمنٹ سپریا سولے اور نوجوان رہنما یوگیندر پوار کی قیادت میں بڑی تعداد میں کارکنان شریک ہوئے۔
اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے سپریا سولے نے کہا کہ ملک کے چیف جسٹس پر حملہ دراصل عدلیہ اور جمہوریت دونوں کے لیے ایک سیاہ دن کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک فرد پر نہیں بلکہ ملک کے آئینی نظام پر حملہ ہے، اور ایسی حرکتوں کی شدید مذمت ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ہمارے سماج میں اس قسم کی انتہا پسندانہ روش کیوں پروان چڑھ رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اختلافِ رائے ظاہر کرنے کا جو نیا انداز ملک میں اپنایا جا رہا ہے، وہ غلط اور خطرناک ہے۔ ایسی روش کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم بحیثیتِ سماج غور و فکر کریں اور گفتگو کے ذریعہ اس کے سدباب کی کوشش کریں۔ سپریا سولے نے اعلان کیا کہ وہ اس مسئلے کو پارلیمنٹ میں اٹھائیں گی تاکہ اس پر سنجیدہ بحث ہو اور مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ ملک بھارت رتن ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر کے آئین کے مطابق چلے گا، کسی کی من مانی سے نہیں۔
سپریا سولے نے ریاستی حکومت پر بھی تنقید کی اور کہا کہ حکومت کے پاس شکتی پیٹھ ہائی وے کے لیے 80 ہزار کروڑ روپے ہیں، مگر کسانوں کی امداد کے لیے پیسے نہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کسانوں سے وعدہ کیے گئے قرض معافی کا کیا ہوا؟ ’لاڈکی بہین‘ اسکیم کے تحت رقم کیوں نہیں دی جا رہی؟ اور ’آنند کا راشن‘ منصوبہ کہاں غائب ہو گیا؟ انہوں نے وزیرِ خوراک و شہری فراہمی چھگن بھجبل کے اس اعتراف کا حوالہ بھی دیا کہ مالیاتی وسائل کی کمی کے باعث ’آنند کا راشن‘ بند کر دیا گیا ہے اور کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست کی مالی حالت بری طرح بگڑ چکی ہے۔ مقامی بلدیاتی انتخابات پر بات کرتے ہوئے سپریا سولے نے کہا کہ یہ انتخابات مقامی مسائل کی بنیاد پر لڑے جاتے ہیں، اس لیے یہ فیصلہ کہ انہیں متحدہ طور پر لڑا جائے یا الگ الگ، مہا وکاس اگھاڑی کے تینوں اتحادی مل کر کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کی تاریخ واضح نہیں، لیکن اگلے مہینے کے دوران صورتحال مزید صاف ہو جائے گی۔
اس موقع پر یوگیندر پوار، پارٹی کے ضلع نائب صدر ایڈووکیٹ ایس۔ این۔ بپو جگتاپ، سابق ضلع پریشد صدر ستیش ماما کھومنے، بارامتی تعلقہ صدر ایڈووکیٹ راجندر بپو جگتاپ، سوبھاش اپا ڈھولے، تعلقہ خواتین صدر ونیتا بنکر، شہر صدر آرتی گوھالے، یوتھ صدر سندیپ دیوکاتے، یوتھ سٹی صدر بلی رام بیلدار، گورو جا دھو، ضلع سوشل میڈیا صدر پیغمبر شیخ، خواتین ونگ کی صدر پرینکا شینڈکر اور شہر یوتھ صدر رانی ناولے سمیت بڑی تعداد میں آئین دوست شہری شریک ہوئے۔
NCP-SP Urdu News 7 Oct. 25.docx