ممبئی: (ورق تازہ نیوز)مہاراشٹر کی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے۔ ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی شیو سینا (یو بی ٹی) سے بغاوت کرکے ایکناتھ شندے دھڑے میں شامل ہونے والے 6 لوک سبھا ارکانِ پارلیمنٹ کے خلاف نااہلی کی کارروائی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ ٹھاکرے گروپ نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے باغی ارکان کے خلاف انسدادِ انحراف قانون کے تحت کارروائی کی مانگ کی ہے۔
ذرائع کے مطابق، حال ہی میں ادھو ٹھاکرے دھڑے کے 9 میں سے 6 ارکانِ پارلیمنٹ نے شندے کی شیو سینا کا رخ کیا، جس کے بعد پارٹی میں بڑا سیاسی بحران پیدا ہوگیا۔ ان ارکان نے اپنی علیحدہ شناخت اور شندے دھڑے میں شمولیت کے لیے اسپیکر کو خط بھی دیا تھا۔
ادھو ٹھاکرے گروپ کا مؤقف ہے کہ یہ ارکان پارٹی مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہوئے ہیں، اس لیے ان کی رکنیت منسوخ کی جائے۔ دوسری جانب شندے دھڑا دعویٰ کر رہا ہے کہ تمام اقدامات آئینی اور پارلیمانی قواعد کے مطابق کیے گئے ہیں۔
باغی ارکان میں اوم راجے نمبالکر، ناگیش پاٹل آشٹیکر، سنجے جادھو، سنجے دینا پاٹل، بھاؤ صاحب واکچورے اور سنجے دیشمکھ کے نام شامل بتائے جا رہے ہیں۔
اب سب کی نظریں لوک سبھا اسپیکر کے فیصلے پر لگی ہیں۔ اگر نااہلی کی درخواست پر سماعت شروع ہوتی ہے تو مہاراشٹر کی سیاست میں ایک اور بڑا سیاسی اور قانونی معرکہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ تاہم، فی الحال ان 6 ارکان کی نااہلی کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔