چیریٹیبل اسپتالوں میں مفت اور رعایتی بستروں کے غلط استعمال پر حکومت سے وضاحت طلب
رکن اسمبلی ثنا ملک شیخ نے اسمبلی میں اٹھایا عوام کو درپیش ایک سنگین مسئلہ
ممبئی:3 جولائی 2025
ریاستی اسمبلی کے اجلاس میں انوشکتی نگر سے رکن اسمبلی ثنا ملک شیخ نے چیریٹیبل اسپتالوں میں حکومت کی جانب سے دی گئی سہولیات، بالخصوص مفت اور رعایتی بستروں کے مبینہ غلط استعمال کے معاملے پر حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔ انہوں نے وقفۂ سوالات میں یہ سوال اٹھایا کہ حکومت نے ان اسپتالوں کے خلاف اب تک کیا کارروائی کی ہے جو غریب مریضوں کو ان کا حق دینے میں کوتاہی برت رہے ہیں۔ ثنا ملک شیخ نے واضح کیا کہ ریاست بھر میں درجنوں مذہبی و رفاہی ٹرسٹ ایسے ہیں جنہیں حکومت نے مختلف سطحوں پر مالی و اراضی سہولتیں فراہم کی ہیں۔ ان سہولیات کے بدلے میں ان اداروں پر یہ اخلاقی اور قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کمزور طبقات کو رعایتی یا مفت طبی خدمات مہیا کریں۔ مگر متعدد اسپتال ان اصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران ثنا ملک شیخ نے انڈیا سی ایس آر کے ایک حالیہ سروے کا حوالہ دیا، جس میں انکشاف کیا گیا کہ 2023 سے اب تک چیریٹیبل اسپتالوں میں مفت اور رعایتی بستروں کا جس مقصد کے لیے تعین کیا گیا تھا، وہ پورا نہیں ہو رہا۔ اس سروے کے مطابق غریب مریضوں کے لیے مختص 71 فیصد بیڈز اور معاشی طور پر کمزور طبقات کے لیے مخصوص 92 فیصد بیڈز کا مؤثر استعمال نہیں کیا گیا، جب کہ صرف 2 فیصد بیڈز آئی پی ایس فنڈ کے لیے مخصوص پائے گئے۔ انہوں نے اس موقع پر کچھ نمایاں اسپتالوں کے اعداد و شمار بھی پیش کیے، جیسے کہ بھاٹیا جنرل اسپتال میں 52 اعشاریہ62 فیصد بیڈز بی پی ایل (غربت کی لکیر سے نیچے) مریضوں کے لیے، جب کہ 94 اعشاریہ 48 فیصد بیڈز کمزور طبقوں کے لیے مخصوص ہیں۔ اسی طرح سومیّا اسپتال میں 99 اعشاریہ 3 فیصد، ایس ایل رہیجا، بریچ کینڈی، سیبی اور مسینا اسپتال میں بھی 95 فیصد تک بیڈز ان طبقوں کے لیے مختص ہیں، مگر ان کا استعمال قواعد کے مطابق نہیں ہو رہا۔
ثنا ملک شیخ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 2024 میں اس وقت کے نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کی جانب سے ایک آن لائن پورٹل شروع کیا گیا تھا، جو صرف میڈیکل کالجز، چیریٹیبل اسپتالوں اور ضلع کلکٹروں کے درمیان معلومات کی منتقلی تک محدود تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب عوامی پیسوں سے چلنے والے اسپتالوں میں سہولتیں دی جا رہی ہیں تو کیا اب حکومت یہ آن لائن نظام عوام کے لیے بھی کھولے گی؟ کیونکہ آج بھی عام آدمی کو ان اسپتالوں میں دستیاب سہولتوں کی کوئی معلومات نہیں ہوتی۔ انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ اگر حکومت ایسے اسپتالوں کے باہر عوامی معلوماتی بورڈز لگانے جا رہی ہے تو کیا یہ بورڈ صرف اسپتال کے داخلی دروازے پر لگیں گے یا الگ سے نظر آنے والی جگہ پر؟ کیونکہ موجودہ صورت حال میں مریضوں کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ اسپتال میں ان کے لیے کوئی مفت سہولت دستیاب ہے یا نہیں۔
اپنی تقریر کے دوران انہوں نے زور دیا کہ حکومت فوری طور پر ایسے اقدامات کرے جس سے اسپتالوں میں موجود خالی بیڈز کی تفصیلات شفاف طریقے سے عوام تک پہنچائی جا سکیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ غریب مریضوں کو داخلے کے لیے آسان اور بغیر سفارش کے راستے مہیا کیے جائیں تاکہ وہ بھی بہتر علاج حاصل کر سکیں۔ ثنا ملک شیخ نے خاص طور پر ان مریضوں کے لیے متبادل سہولتوں کا مطالبہ کیا جو آن لائن سسٹم استعمال کرنے سے قاصر ہیں، تاکہ وہ بھی اس نظام سے محروم نہ رہیں۔
