جسٹس چاندیوال کمیشن رپورٹ کی وضاحت اور سمیت کدم کی نارکوٹیسٹ کیا جائے:

مہیش تپاسے

ممبئی: ریاست کے سابق وزیر داخلہ انیل دیشمکھ نے موجودہ وزیر داخلہ و نائب وزیر اعلی دیویندر فڑنویس کے بارے میں جو انکشاف کیا ہے، وہ تشویشناک ہے۔ اس انکشاف کا این سی پی-ایس پی نے سخت نوٹس لیا ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بی جےپی اقتدار کے لیے کس حد تک نیچے گر سکتی ہے۔ یہ باتیں این سی پی-ایس پی کے ترجمان مہیش تپاسے نے کہی ہیں۔ وہ یہاں پارٹی آفس میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کر رہے تھے۔

واضح رہے کہ سابق وزیر داخلہ انیل دیشمکھ نے کہا ہے کہ مجھ پر دیوندر فڑنویس کے ذیعے اس بات کے لیے دباؤ جاتا رہا ہے کہ میں ادھو ٹھاکرے، انل پرب، آدتیہ ٹھاکرے اور اجیت پوار کے خلاف جھوٹا حلف نامہ داخل کروں۔ اس کے عوض مجھے تمام الزامات سے بری کیے جانے کا وعدہ کیا جاتا رہا ہے۔ انیل دیشمکھ کے اس انکشاف پر پارٹی کے ترجمان مہیش تپاسے نے کہا ہے کہ یہ ایک مثال ہے کہ بی جے پی اقتدار کے لیے کس حد تک نیچے جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ دیویندر فڑنویس پہلے ہی شیوسینا کو توڑنے کا کریڈٹ لے چکے ہیں اور پھر این سی پی کے اجیت پوار کو اپنی حکومت میں شامل کر کے، بی جے پی نے مہاراشٹر میں ادھو ٹھاکرے کی شیو سینا اور شرد پوار کی این سی پی کو تباہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔ لیکن عوام نے دیویندر فڑنویس اور بی جے پی کو ان کی حیثیت بتا دی۔

مہیش تپاسے نے کہا کہ بی جے پی نے سابق پولیس کمشنر پرم ویر سنگھ کے جھوٹے الزامات کی بنیاد پر انل دیشمکھ کو نشانہ بنایا تھا۔ اس وقت کی ٹھاکرے حکومت نے پورے معاملے کی تحقیقات کے لیے چاندیوال کمیشن تشکیل کی تھی۔ جسٹس چاندیوال کمیشن اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کر چکے ہیں لیکن حکومت اس رپورٹ کو اسمبلی میں پیش نہیں کر رہی ہے۔ مہیش تپاسے نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ شندے بتائیں کہ حکومت جسٹس چاندیوال کمیشن کی رپورٹ کیوں جاری نہیں کررہی ہے۔

این سی پی-ایس پی کے ترجمان نے نائب وزیر اعلیٰ فڑنویس نے سمت کدم کے بارے میں سوال کیا ہے۔ انہوں نے پوچھا ہے کہ آخر سمیت کدم کا دیویندر فڑنویس سے کیا رشتہ ہے؟ نائب وزیر اعلیٰ کو اس کے بارے میں وضاحت کرنی چاہئے کہ آخر سمیت کدم کو کیوں وائی پلس سیکورٹی فراہم کی گئی ہے؟ مہیش تپاسے نے سمیت کدم کا نارکو ٹیسٹ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ معاملہ نہایت سنگین ہے، اس نے نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ جناب دیویندر فڑنویس کے کردار پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے اور انیل دیشمکھ کے انکشاف کو پارٹی نے نہایت سنجیدگی سے لیا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading