اگر فڑنویس میں ہمت ہے تو وہ انل دیشمکھ معاملے میں حقائق پیش کرتے ہوئے کنفیوژن دور کریں: نانا پٹولے

دیویندر فڑنویس تجربہ کار وزیر داخلہ ہیں، اگر ثبوت ہیں تو کارروائی کریں

ممبئی: سابق وزیر داخلہ انیل دیشمکھ اور وزیر داخلہ دیویندر فڑنویس ایک دوسرے پر سنگین الزامات لگا رہے ہیں۔ ریاست کے عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ انل دیشمکھ کے لگائے گئے الزامات سچ ہیں یا غلط۔ فڑنویس 7.5 سال سے وزیر داخلہ ہیں، ان کے پاس اس محکمہ کا وسیع تجربہ ہے، ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس کچھ ویڈیو اور آڈیو کلپس ہیں۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے چیلنج کیا ہے کہ اگر دیویندر فڑنویس میں ہمت ہے تو وہ حقائق پیش کریں اور عوام کے سامنے سچائی لاکر کنفیوژن دور کریں۔

تلک بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے کہا کہ دیویندر فڑنویس نے انیل دیشمکھ پر ادھو ٹھاکرے، آدتیہ ٹھاکرے، انل پرب اور اجیت پوار کے خلاف جھوٹے حلف نامے پر دستخط کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔ ان کے جیل سے ضمانت پر باہر آنے کے بعد ہی انہوں نے یہ بات کہی تھی۔ دیویندر فڑنویس ابھی تک کیوں خاموش رہے؟ اگر انیل دیشمکھ جھوٹ بول رہے ہیں تو ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟ نانا پٹولے نے کہا کہ جب فڑنویس حکومت میں تھے تو وہ اپوزیشن لیڈروں کے فون ٹیپ کر رہے تھے۔ آج فون ٹیپ کرنے والے افسر کو ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کے عہدے پر ترقی دے دی گئی ہے۔ اس لیے دیویندر فڑنویس کو انتخابات کے دوران اپوزیشن کو دھمکی دینے کے بجائے حقائق کو پیش کرنا چاہیے۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ حکمراں پارٹی کے کئی ایم ایل اے کو پولیس سیکورٹی دی گئی ہے حالانکہ انہیں اس کی ضرورت نہیں تھی۔ سمیت کدم حکومت اور تاجروں کے درمیان ایک ثالثی ہے اس لیے اسے ’وائی‘ گریڈ کی سیکیورٹی دی گئی ہے جو کہ عوام کے پیسے کی لوٹ ہے۔ پٹولے نے کہا کہ ریاست میں امن و امان ختم ہو چکا ہے، قتل، ڈکیتی، عصمت دری کی وارداتیں بڑھ گئی ہیں، وزارت داخلہ اور حکومت اس پر توجہ نہیں دے رہی ہے لیکن اپنے بغل بچوں کے لیے پولیس فورس ضرور تعینات کی گئی ہے۔

نئی ممبئی کے اورن میں ایک لڑکی کا بے دردی سے قتل کر دیا گیا، یہ واقعہ انتہائی سنگین ہے۔ ریاست میں خواتین غیر محفوظ ہیں، اگر ممبئی اور آس پاس کے علاقوں میں خواتین محفوظ نہیں ہیں تو سوچیں ریاست کے دیگر حصوں میں کیا صورتحال ہوگی۔ ریاست سے 15 ہزار سے زائد لڑکیاں اور خواتین لاپتہ ہیں۔ مجرم اقتدار میں ہیں اور انہیں کوئی خوف نہیں رہ گیا ہے۔ نانا پٹولے کا یہ بھی کہنا تھا کہ ارن واقعے کے ملزمین کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے۔

نانا پٹولے نے کہا کہ ریاست میں دو سال قبل اقتدار کی تبدیلی مہاراشٹر کی روایت کے مطابق نہیں تھی۔ اقتدار تبدیل کرنے کے لیے فڑنویس اپنا بھیس بدل کر دوسرے لیڈروں سے مل رہے تھے۔ اب دوسرے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار بھی یہی کہہ رہے ہیں۔ اجیت پوار نے کہا ہے کہ وہ دس بار بھیس بدل کر دہلی گئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بی جے پی اقتدار کے لیے کچھ بھی کر سکتی ہے۔ پٹولے نے کہا کہ یہ حکومت غیر آئینی ہے۔ سپریم کورٹ نے اجیت پوار گروپ کے ایم ایل اے کو نوٹس بھیجا ہے اور این سی پی اور شیوسینا کیس کی سماعت 3 ستمبر کو ہو سکتی ہے۔ پٹولے نے یہ بھی کہا کہ ان دونوں پارٹیوں کے ایم ایل اے پر نااہلی کی تلوار لٹک رہی ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading