NCP-SP Urdu News 25 April 25

پہلگام حملہ ملک دشمن کارروائی، اس پر سیاست نہیں ہونی چاہیے: شرد پوار

ملک کی سلامتی کے لیے حکومت کے ہر فیصلے کی حمایت کریں گے

سندھودرگ: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شردچند پوار) کے قومی صدر شرد پوار نے پہلگام میں ہوئے دہشت گرد حملے کو ملک دشمن کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے نازک موقع پر سیاست نہیں ہونی چاہیے، بلکہ حکومت کو مکمل تعاون دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی سلامتی سے متعلق حکومت جو بھی فیصلے کرے گی، ان کی پارٹی اس کی بھرپور حمایت کرے گی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرد پوار نے کہا کہ مرکز کی جانب سے حالیہ دنوں میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ دہشت گردی پر قابو پا لیا گیا ہے اور اب کسی طرح کی تشویش کی ضرورت نہیں، مگر پہلگام میں سیاحوں پر ہوئے حملے نے اس دعوے پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ کہیں نہ کہیں سیکیورٹی میں خامیاں موجود ہیں اور حکومت کو ان پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر واقعی ملک پر حملے ہو رہے ہیں تو حکومت کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری طور پر ضروری اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ ایسی کمزوریوں کو دور کیا جا سکے۔ اس موقع پر ہم حکومت کے ساتھ ہیں، لیکن یہ حملہ سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔

شرد پوار نے مزید کہا کہ کشمیر میں جو کچھ ہوا، اس پر پورے ملک کو یکجہتی کے ساتھ حکومت کا ساتھ دینا چاہیے۔ کیونکہ یہ کارروائی براہِ راست ملک کے خلاف کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے جو قدم اٹھایا وہ ہندوستان مخالف ہے اور ایسے وقت میں سیاست کرنا مناسب نہیں۔ ہم نے اسی سوچ کے تحت حکومت کی جانب سے بلائی گئی آل پارٹی میٹنگ میں شرکت کی، جس میں پارٹی کی نمائندگی سپریا سولے نے کی۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں انٹیلی جنس کی ناکامی صاف نظر آتی ہے۔ پہلگام کو نسبتاً محفوظ علاقہ مانا جاتا ہے۔ وہاں مسلسل سیاحوں کی آمد ہوتی رہتی ہے۔ یہ بات باعث تشویش ہے کہ دہشت گردوں نے اپنے منصوبے میں کامیابی حاصل کر لی۔ ہمیں اب مزید محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

شرد پوار نے حملے کی نوعیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کیا واقعی سیاحوں کو ان کے مذہب، یعنی ہندو ہونے کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا؟ اس بارے میں ان کے پاس مصدقہ اطلاع نہیں ہے۔ مگر مقامی افراد کے بیانات کے مطابق حملہ آوروں نے خواتین کو نقصان نہیں پہنچایا، بلکہ صرف مردوں کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ایک متاثرہ خاتون سے ملاقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ خواتین کو ہاتھ بھی نہیں لگایا گیا، صرف مردوں کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی معیشت بڑی حد تک سیاحت پر منحصر ہے اور اس حملے کے بعد لگتا ہے کہ کچھ دنوں کے لیے لوگ کشمیر جانا ترک کر دیں گے، جس سے مقامی عوام کو بھاری نقصان ہوگا۔ تاہم، اس واقعے کے بعد ایک مثبت پہلو یہ سامنے آیا کہ مقامی لوگ سڑکوں پر اترے اور کھل کر بھارت کے حق میں آواز بلند کی، جو قابلِ تحسین ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading