داؤوس سے مہاراشٹر میں سرمایہ کاری لانے کا حکومت کا دکھاوا: شرد پوار
کولہاپور: داؤوس میں جن کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کیے گئے، ان میں سے زیادہ تر کمپنیاں ہندوستان کی ہیں۔ صرف ایک غیر ملکی کمپنی نے مہاراشٹر کے ساتھ معاہدہ کیا ہے۔ 28 ہندوستانی کمپنیوں نے مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے ہیں، جن میں سے 20 کمپنیاں مہاراشٹر سے تعلق رکھتی ہیں اور ان میں بھی 15 ممبئی کی ہیں۔ ان کمپنیوں کی سرمایہ کاری پہلے سے طے شدہ تھی، لیکن انہیں داؤوس میں مدعو کر کے مہاراشٹر میں سرمایہ کاری لانے کا ڈرامہ کیا گیا۔ یہ باتیں این سی پی-ایس پی کے قومی صدر شرد پوار نے کولہاپور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہیں۔ اس موقع پر پارٹی کی کارگزار صدر اور رکن پارلیمنٹ سپریا سولے بھی موجود تھیں۔
شرد پوار نے کہا کہ داؤوس میں جو معاہدے کیے گئے، ان میں بھارت فورج کے ساتھ معاہدہ شامل ہے۔ بھارت فورج پونے اور کراڈ کی کمپنی ہے اور انہوں نے اپنا کارخانہ لگانے کا فیصلہ تقریباً تین سال پہلے کر لیا تھا۔ گڑچِرولی میں جندال کی اسٹیل فیکٹری پہلے سے موجود ہے اور اب وہ رتناگیری اور ناسک میں بھی ہیں۔ ان کی سرمایہ کاری کا ڈیووس سے اعلان کیا گیا ہے۔ ان تمام لوگوں کو ڈاوؤس میں مدعو کرنے کا ڈرامہ کیا گیا جنہوں نے وہاں سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان معاہدوں کا داؤوس سے اعلان کرنا محض ایک دکھاوا ہے کہ سرمایہ کاری کو مہاراشٹر میں لایا جا رہا ہے۔
شرد پورا نے مزید کہا کہ ایکناتھ شندے اور امیت شاہ کی موجودگی پر سوالات اٹھتے ہیں۔ ایکناتھ شندے اپنی پارٹی کے سربراہ ہیں اور اپنے پارٹی کو بڑھانے کا انہیں حق ہے۔ میں نے اُدے سامنت کا بیان سنا۔ کیا وہ ڈاؤوس میں سرمایہ کاری لانے گئے تھے یا پارٹیاں توڑنے؟ داؤوس میں ان کے دیے گئے بیانات وزیراعلیٰ کے دورے کے مقاصد سے میل نہیں کھاتے تھے۔ میں نے کچھ ممبرانِ پارلیمنٹ کی تصاویر دیکھی ہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ یہ لوگ ٹھاکرے کی شیو سینا کو نہیں چھوڑیں گے، کیونکہ یہ لوگ کچھ بھی کریں گے، لیکن بالا صاحب ٹھاکرے کے نظریات کو نہیں چھوڑیں گے۔
شرد پوار نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے بیان پر بھی تبصرہ کیا اور کہا کہ امیت شاہ کا لب و لہجہ حالیہ دنوں میں کافی سخت ہو چکا ہے، اور اس پر مہاراشٹر کے سیاسی رہنماؤں اور اپوزیشن نے نوٹس لی ہے۔ ایک مرکزی وزیر داخلہ سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ذمہ داری کے ساتھ بات کریں گے، لیکن امیت شاہ کا انداز اس کے برعکس ہے۔ ان کے رویے سے یہ محسوس نہیں ہوتا کہ وہ کولہاپور کے روایتی اثرات رکھتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ امیت شاہ نے کولہاپور میں تعلیم حاصل کی یا کہیں اور۔
کسانوں کے تمام قرضہ جات معاف کیے جائیں: سپریا سولے
پریس کانفرنس میں موجود سپریا سولے نے کسانوں کے مسائل پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا کہ دیویندر فڈنویس نے انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ وہ کسانوں کا سات بارہ کلیئر کریں گے اور ان کے قرضے معاف کریں گے۔ اب جبکہ وہ ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ ہیں، انہیں اپنے وعدے پورے کرنے چاہئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں کسانوں کے لیے پیاز، سویابین، کپاس اور دودھ کو مناسب قیمت دینے کے وعدے کیے گئے تھے، لیکن ان پر عمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مہنگائی اور مالی خسارہ بڑھ رہا ہو تو ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ سپریا سُلے نے مہاراشٹر میں شیروں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے اگر آپریشن ٹائیگر چلایا جا رہا ہے تو یہ ایک مثبت قدم ہوگا۔ انہوں نے ’لاڈکی بہین‘ اسکیم کے تحت بنگلہ دیشی خواتین کے فارم کے حوالے سے بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ یہ فارم انتخابات سے پہلے کیوں نظر نہیں آئے؟