مراٹھا سلطنت کے خلاف کام کرنے والے بِولکر خاندان کو غیر قانونی طور پر پہلی ہی میٹنگ میں زمین دی گئی

نیشنلسٹ کانگریس (شرد پوار) کے جنرل سکریٹری اور رکن اسمبلی روہت پوار کا سنسنی خیز الزام

ممبئی: نیشنلسٹ کانگریس (شرد پوار) کے جنرل سکریٹری اور رکن اسمبلی روہت پوار نے ایک سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ مراٹھا سلطنت کے خلاف برطانوی حکومت کی مدد کرنے والے بِولکر خاندان کو غیر قانونی طریقے سے نیو ممبئی میں اربوں روپے مالیت کی زمین دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ تقریباً پانچ ہزار کروڑ روپے کی مالیت کی زمین جس پر سڈکو کے ذریعے غریبوں کے لیے دس ہزار مکانات بن سکتے تھے، ریاستی وزیر سنجے شِرسات نے اپنی پہلی ہی میٹنگ میں بِولکر خاندان کے حوالے کر دی۔

روہت پوار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ معاملہ انگریز دور سے شروع ہوتا ہے۔ بِولکر خاندان نے مراٹھا سلطنت کے خلاف برطانوی فوج کی مدد کی تھی جس کے انعام میں انہیں تقریباً چار ہزار ایکڑ سے زائد زمین دی گئی تھی۔ یہ زمین رائےگڑھ ضلع کے روہا، پنویل، علی باغ اور اُرن تعلقہ کے پندرہ دیہاتوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ بعد میں مختلف قوانین کے تحت یہ زمین سرکاری ملکیت میں آگئی، لیکن بِولکر خاندان نے ہمیشہ اس زمین کو واپس لینے کی کوشش کی اور مختلف سطحوں پر عدالتوں میں دعوے دائر کیے۔ روہت پوار نے بتایا کہ 1952 میں بِولکر خاندان نے زمین کے ریکارڈ میں ہیرا پھیری کرکے سیاسی انعامی زمین کو ذاتی انعام ظاہر کیا۔

اس کے بعد 1959 میں سیلنگ ایکٹ سے بچنے کے لیے انہوں نے زمین کو محفوظ جنگلات کے طور پر درج کرا دیا۔ 1975 میں نجی جنگلات ایکٹ کے تحت یہ زمین حکومت کے پاس چلی گئی، لیکن بِولکر خاندان نے بار بار اعتراضات دائر کرکے کیس کو طویل کیا۔ 1989 میں کلکٹر نے ان کی درخواست مسترد کی، 1990 میں وہ ہائی کورٹ گئے اور 2014 میں ہائی کورٹ نے کمزور وکالت کے باعث ان کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ 2015 میں سپریم کورٹ میں اس فیصلے پر حکم امتناع حاصل کیا گیا۔

روہت پوار نے مزید کہا کہ 1985 میں بِولکر خاندان نے اس وقت اعتراض دائر کیا جب نیو ممبئی پروجیکٹ کے تحت زمینیں سڈکو کو منتقل کی جا رہی تھیں۔ اس دوران انہوں نے کئی غیر قانونی ہتھکنڈے استعمال کیے اور معاوضہ بھی وصول کیا۔ انہوں نے بارہا سڈکو سے بارہ اعشاریہ پانچ فیصد اسکیم کے تحت حصہ مانگا، لیکن ہر بار ان کی درخواست مسترد ہوئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ 2024 میں وزیر سنجے شِرسات کو سڈکو کا چیئرمین بنائے جانے کے فوراً بعد پہلی میٹنگ میں ہی 61 ہزار مربع میٹر زمین بِولکر خاندان کے حوالے کر دی گئی۔ اس زمین کی قیمت تقریباً پانچ ہزار کروڑ روپے ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ زمین غریبوں اور مقامی باشندوں کے لیے مختص تھی لیکن اسے غیر قانونی طور پر ان لوگوں کو دے دیا گیا جنہوں نے ماضی میں مراٹھا سلطنت کے خلاف سازش کی تھی۔

روہت پوار نے سخت لہجے میں کہا کہ ریاستی حکومت کو فوری طور پر یہ غیر قانونی زمین واپس لینی چاہیے اور وزیر سنجے شِرسات سے استعفیٰ طلب کرنا چاہیے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 20 اگست 2025 کو صبح 11 بجے پارٹی کے ریاستی صدر ششی کانت شندے کی رہنمائی میں وہ ۱۲ اعشاریہ ۵ فیصد اسکیم سے محروم مقامی باشندوں کے ساتھ سڈکو کے دفتر میں جا کر جواب طلب کریں گے۔

NCP-SP Urdu News 18 August 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading