NCP-SP Urdi News 25 Sep 24

راجابھاؤ پھڈ کی این سی پی- ایس پی میں شمولیت، شرد پوار کی قیادت پر اعتماد کا اظہار

ریاست میں حکومت تبدیل کیے بغیر ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے: شرد پوار

ممبئی: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی- ایس پی کے صدر شرد پوار کی قیادت پر اعتماد کرتے ہوئے بیڑ ضلع کے پرلی سے راشٹریہ سماج پارٹی کے بڑے لیڈر راجیش (راجابھاؤ) پھڈ نے شرد پوار کی موجودگی میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی-ایس پی میں شمولیت اختیار کی۔ اس موقع پر راجیہ سبھا رکن فوذیہ خان، بیڑ کے رکن پارلیمان بجرنگ سونونے، جنرل سیکرٹری ادیتی نلاوڈے، جنرل سیکرٹری رویندر پوار اور بڑی تعداد میں کارکنان و عہدیدار موجود تھے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے شرد پوار نے کہا کہ اقتدار عوام کی خدمت کے لیے استعمال کرنا ہوتا ہے، لیکن آج اس کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے اور جو بھی اس کے خلاف آواز اٹھاتا ہے، اس کی آواز کو دبا دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کا منظرنامہ تبدیل ہو رہا ہے۔ لوک سبھا انتخابات سے پہلے بھی یہ بات نظر آئی تھی۔ ملک کے وزیراعظم کہہ رہے تھے کہ وہ 400 سیٹیں جیتیں گے لیکن کتنے ایم پی جیتے؟ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی نے 10 سیٹوں پر الیکشن لڑا، جن میں سے 8 سیٹیں ہم جیتنے میں کامیاب ہوئے۔

شرد پوار نے مزید کہا کہ ہمارے نام پر منتخب ہو کر کچھ لوگ بی جے پی کے ساتھ اقتدار میں شامل ہو گئے اور عوام کے ساتھ دھوکہ کیا۔ انہوں نے ہمارے نام پر انتخابات جیت کر حکومت بنائی اور پھر ہمیں چھوڑ دیا۔ شرد پوار نے کہا کہ یہ تو ابھی آغاز ہے، پرلی میں ایک بڑی ریلی ہوگی اور ہم دکھائیں گے۔ ریاست میں حکومت تبدیل کیے بغیر ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

اس موقع پر بیڑ کے رکن پارلیمنٹ بجرنگ سونونے نے کہا کہ لوک سبھا میں پرلی میں لوگوں نے دکھا دیا کہ وہ شرد پوار صاحب کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیڑ ضلع شرد پوار صاحب کو ماننے والا ضلع کے طور پر جانا جاتا ہے۔انہوں نے راجا بھاؤ پھڈ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی تعریف کی جانی چاہیے کہ آپ نے سچائی کا انتخاب کیا اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ شرد پوار کے صاحب شامل ہوئے۔ اب آپ دو مہینے صبر کریں، میں آپ کے ساتھ ہوں اور جلد ہی ریاست میں ہماری حکومت بنے گی۔

راجا بھاؤ پھڈ نے اس موقع پر شرد پوار صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پارٹی میں شامل ہونے کا موقع دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پرلی میں فصل بیمہ کا صرف 25 فیصد کسانوں کو ملتا ہے، جبکہ باقی 75 فیصد بیمہ کی رقم تقسیم کر دی جاتی ہے۔ انہوں نے شرد پوار سے مطالبہ کیا کہ جب ہماری حکومت آئے تو اس کی تفتیش کرائیں۔

انہوں نے کہا کہ جب ہم پرلی سے ممبئی آ رہے تھےتو ہماری گاڑی کو روک لیا گیا کیونکہ وہ خوف زدہ ہیں۔ پرلی کو کافی فنڈ ملا ہے لیکن وہ فنڈ کہاں گیا؟ اس حوالے سے میرے پاس معلومات ہیں اور میں جلد ہی ہائی کورٹ جاؤں گا۔ موجودہ ایم ایل اے نے پوار صاحب سے غداری کی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جب میں نے شرد پوار صاحب کی پارٹی میں شمولیت اختیار کی، تو پولیس کی حفاظت واپس لے لی گئی اور میرے خلاف کیس درج کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی چیلنج کیجئے لیکن پوار صاحب کو ہر گز چیلنج نہ کیجئے۔ اب ہم آنے والے اسمبلی الیکشن میں دکھا دیں گے کہ پورا صاحب کو چیلنج کرنے کا کیا انجام ہوتا ہے۔

اس پروگرام میں شرد پوار صاحب کی موجودگی میں راجیش (راجابھاؤ) پھڈ کے ساتھ اجیت پوار گروپ کے سُپان راؤ توندے، وکرم دیشمکھ، پدمکار لہانے، کوڈگاؤں گھوڑا کے سابق سرپنچ ستیس کنڈگیر، جلگھوان کے سابق نائب سرپنچ دتاتریہ کدم، بی جے پی کی ضلع جنرل سیکرٹری منگلتائی سولنکے، سابق ضلع پریشد رکن پرمود کِروالے، ناگاپور کے سابق سرپنچ اشونی سولنکے، شیوسینا شندے گروپ کے بیڈ ضلع منتظم ڈاکٹر جان محمد شیخ اور جے گاؤں کی سابق سرپنچ کسمتائی شندے نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading