دودھ فروخت کرنے والوں کو شام کو بھی دودھ فروخت کرنے کی اجازت دی جائے: نسیم خان

ممبئی: ریاستی کانگریس کے کارگزار صدر وسابق وزیرنسیم خان نے آج یہاں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دودھ فروخت کرنے والوں کو شام میں بھی دودھ فروخت کرنے کی اجازت دے۔ یہ مطالبہ انہوں نے دودھ کاروباریوں کے ایسوسی ایشن کی اس شکایت کی بنیاد پر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شام کو دودھ فروخت کرنے کی اجازت نہ ہونے کی وجہ سے یومیہ لاکھوں لیٹر دودھ ضائع ہورہا ہے۔

ایسوسی ایشن کی مذکورہ بالا شکایت کی بنیاد پر نسیم خان نے ریاست کے چیف سکریٹری سیتارام کنٹے سے فون پر رابطہ قائم کرتے ہوئے انہیں دودھ فروخت کرنے والوں کی مشکلات سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر نسیم خان نے مطالبہ کیا کہ مہاراشٹرحکومت کے جوایس او پی طئے کیا ہے اس میں شام کو ۵ سے ۸ بجے کے درمیان دودھ فروخت کرنے کی اجازت بھی شامل کی جائے۔ نسیم خان نے مزید کہا کہ ممبئی میں صبح کے بالمقابل شام کو زیادہ تعداد میں لوگ دودھ خرید تے ہیں۔ اگر شام کو دودھ فروخت کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تو صرف ممبئی میں تقریباً 10سے 12لاکھ لیٹر دودھ ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ اس لیے دودھ کے اس زیاں کو روکنے کے لیے دودھ فروخت کرنے والوں کو شام ۵ بجے سے ۸ بجے تک دودھ فروخت کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ دودھ کے نقصان کو روکا جاسکے۔

نسیم خان کا لوک مانیہ تلک ٹرمنس کا دورہ

کورونا کے پیشِ نظر بیرونِ شہر کے مہاجرمزدور بڑی تعداد میں اپنے اپنے وطن جانے کے لیے نکل پڑے ہیں۔ طویل مسافتی ٹرینوں کے اسٹیشنوں پر پر لوگوں کی بھیڑ جمع ہے۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کے کارگزار صدر وسابق وزیر نسیم خان نے آج ان مہاجرمزدوروں کی مشکلات کا جائزہ لینے کے لیے لوک مانیہ تلک ٹرمنس کا دورہ کیا اور ان کے ضروری انتظامات کی ہدایات دیں۔ اس موقع پر نسیم خان کے ساتھ ممبئی کانگریس کے سکریٹری رام گووند یادواور شمال وسط ضلع اتربھارتیہ سیل کے صدر بھرت سنگھ بھی موجود تھے۔

Letter.pdf