ناندیڑ:لڑکی کیساتھ چھیڑچھاڑ‘غنڈوں نے والدکو پیٹ پیٹ کرقتل کردیا

0 5

ناندیڑ: 18ستمبر ۔(ورق تازہ نیوز) کئی دنوں سے لڑکی کو چھیڑچھاڑ کرنے پراس بارے میں دریافت کرنے پر والد کی آنکھوں میں چٹنی ڈال کر مارپیٹ کی گئی جس میں لڑکی کے والد کی موت ہوگئی۔ماہور پولس کی لاپرواہی سے والد کی موت ہوئی ہے اس طرح کا الزام لڑکی نے عائد کیا ہے ۔ ملزمین کے ساتھ معاملے کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے اگر انکے خلاف مقدمہ درج نہیںکیاگیاتو خودسوزی کرنے کی دھمکی بیٹی نے کیمرے کے سامنے دی ہے ۔ اسلئے ماہور پولس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھائے جارہے ہیں ۔ ایسے حالات میں ماہور پولس اسٹیشن کے پی آئی سمیت تین افراد پر کاروائی کی تلوار لٹک رہی ہے ۔ ماہور تعلقہ کے موضع روپلا تانڈا(رام نگر ) کی کماری پوجا تاراسنگھ راٹھوڑ عمر 17 سال کے پڑوس میں رہنے والے روشن راٹھوڑ کئی دنوں سے غلط نظروں سے دیکھ رہاتھااوروقتافوقتاً چھیڑچھاڑبھی کررہاتھا ۔ 4ستمبر کو دوپہر تین بجے متاثرہ لڑکی نے اس واقعہ سے اپنے والد تاراسنگھ راٹھوڑ کوواقف کروایا ۔اس کے بعدروشن سنگھ سے ملاقات کرکے اسکے گھر گیا جہاںپر اسکے رشتہ دار اتم راٹھوڑ‘چھگن عرف ملیا راٹھوڑ‘ سوبھدر راٹھوڑ‘ اشونی راٹھوڑ‘ اروند پوار پریم سنگھ راٹھوڑ بھی دوڑتے ہوئے آئے ۔ سوبھدرا بائی اورر اشونی نے ساتھ میںلائی چٹنی لڑکی کے والد کے چہرے پرڈالی اور مارپیٹ شروع کردی اسی دوران روشن سنگھ نے کلہاڑی سے تاراسنگھ کے سر میںوار کردیا ۔جس کے بعد وہ زمین پرگر پڑا ۔اسے فی الفور ایوت محل کے اسپتال میںداخل کیاگیاتھا اس طرح کاتحریری بیان پوجا راٹھوڑ نے 5 ستمبر کو ماہور پولس اسٹیشن میں درج کروایا ہے دریں اثناء4ستمبر سے موت سے جنگ لڑرہے تاراسنگھ کی آج 18ستمبر کوصبح چار بجے موت ہوگئی ۔اسکی نعش کو وائی بازار کے ابتدائی طبی مرکز میں پوسٹ مارٹم کیلئے لانے کے بعدیہاں پر لوگوں کاہجوم ہوگیا۔4ستمبر کورونما ہوئی اس واردات میں 5ستمبر کو لڑکی کابیان لے کر 6ستمبر کوماہور پولس اسٹیشن میں جرم نمبر 117/2018دفعات 326‘ 324‘323]143‘147‘149‘504کے تحت درج کیاگیا۔لیکن چھیڑچھاڑ‘ جان سے مارنے کی کوشش و اطفال جنسی تشدد کی دفعات کوشامل نہیں کیاگیا ۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پولس نے محض خانہ پُری کی ہے ۔ آج وائی بازار کے ابتدائی طبی مرکز کے احاطہ میںمتوفی کے رشتہ داراور لوگوں نے ماہور کے پی آئی راکھ ‘ پی ایس آئی گھوڑکے ‘ ہیڈ کانسٹیبل بابو جادھو کے خلاف کاروائی کرکے فی الفورمعطل کرنے کامطالبہ کیا۔حالات کے مدنظر سند کھیڑ پولس اسٹیشن کے افسران و ملازمین بھی یہاں پہنچ گئے ۔اسی دوران ضلع پریشد کے نائب صدر سمادھان جادھو اور ضلع پریشد رکن سنجے راٹھوڑ بھی یہاں پہنچ گئے اور قصورواروں کے خلاف کاروائی کامطالبہ کیا ۔سب ڈویژنل پولس آفیسر آسارام جہروال نے تیقن دیا کہ ملزمین کے خلاف کاروائی ہوگی جس کے بعد برہم ہجوم خاموش ہوگیا ۔متوفی کی بیٹی نے اشارہ دیا کہ اگر قصورواروں کے خلاف کاروائی نہیں ہوئی توخودسوزی کا راستہ اختیار کرلوں گی ۔ اسلئے پولس انتظامیہ کو سنجیدگی سے توجہ دیتے ہوئے ملزمین کے خلاف کاروائی کرنی ہوگی۔