مسلم نوجوان اورمثبت سوچ

0 10
ہرسماج میں نوجوان طبقہ کی بہت اہمیت ہوتی ہے ۔اپنے وقت کایہ طبقہ ہی اُس سماج کے مستقبل کی علامت ماناجاتا ہے۔ا سلئے یہ بات بہت اہم ہوجاتی ہے کہ ہماری نئی نسل مثبت فکر کی حامل ہو ۔ناکہ منفی سوچ کی حامی ۔ نئی نسل کو اگر وقت کے رہنماو¿ں اوربزرگوں کی طرح مثبت سوچ ملتی ہے تو وہ ترقی‘محنت اور حوصلہ مندی کے ساتھ آگے بڑھنے کاراستہ اپناتے ہیں ۔انسانی معاشرہ کچھ ا س طرح کاہوتا ہے کہ انسان کہیں نہ کہیں کسی طرح بُر ے سلوک سے بچ نہیں سکتا ۔ایسا کبھی نہیں ہوسکتا کہ انسان کوکسی کی طرف سے شکایت نہ ہو یا وہ یہ محسوس نہ کرے کہ اس کی حق تلفی ہورہی ہے ۔یہ سب کچھ تو انسانی زندگی میں ہوتا ہی ہے اب جو لوگ منفی سوچ والے ہوتے ہیں وہ اپنے دماغ میں صرف انہی باتوں کوسوار کرکے خود اپنی زندگی کےلئے ایک بہت بڑا بگھیڑ ا کھڑا کردیتے ہیں ۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ زندگی کے سارے بڑے بڑے کام اور ترقیات سے محروم ہوجاتے ہےں اور وہ جس ترقی کے راستے پرجانا چاہتا ہے راستہ میںہی سے پلٹ جاتا ہے ۔ کچھ نوجوان اس سے بھی آگے جاکراپنے آس پاس بسنے والے لوگوں کی ترقی کو دیکھ کر حسد کرنے لگتے ہیں اورحسد میں مبتلاہوکروہ اپنی صلاحیتوں کو ضائع کر دیتے ہیں۔ اُن میں محنت کرنے کی لگن ذہانت اور طاقت تو ہوتی ہے لیکن حسد کی وجہ سے وہ زندگی میں کچھ نہیں کرپاتے ہیں ۔
چنانچہ ہم مسلم نوجوان طبقہ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں بہت ہی پُرامیدصورتحال نظر آتی ہے ۔ لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ تنگ نظر اور کچے ذہن کے نوجوان گمرہی کا بھی شکار ہوجاتے ہیں ۔ پہلے وہ اپنے گھر کیلئے مصیبت بنتے ہیں پھر وہ سماج کیلئے الجھن کاسبب بن جاتے ہیں ۔اُن میں سے کچھ دیگر سماجوں کیلئے بھی تکلیف کاباعث بنتے ہیں ۔ کیونکہ دیگر سماجوں کواُن سے شکایت ہوتی ہے ۔اب جو لوگ مثبت سوچ کے ہےں اُن میں ایک بڑا طبقہ ایساضرور ہے جو اسلام کی تعلیمات کو اپنا رہا ہے ۔لیکن افسوس کہ وہ تنگ نظری کاشکار ہے۔اسلام کی حقیقی روح اُس کی بلندی او ر اعلیٰ تعلیمات کوسمجھنے سے قاصر ہے۔مدارس میں پڑھنے والوں کو ایک اچھا ماحول مل جاتا ہے ۔مذہبی تحریکوں میںشریک ہونے والوں کو بھی محدود سوچ کاشکارہونا پڑرہا ہے ۔ جب کہ ہم اسلام کی چند بنیادی تعلیمات پر نظر دوڑاتے ہیں اور اگر اُن چند تعلیمات پر مسلم نوجوان عمل پیرا ہوتے ہیں تو وہ سماج کے لئے نیک فعال ثابت ہوتے ہیں ۔ایسا نوجوان نہ صرف اپنے مسلم معاشرہ کیلئے بلکہ سارے ملک کیلئے آدرش بن سکتا ہے۔مثلاً یہ کہ تمام علماءکرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اللہ رب العزت بندے کی زندگی میں ہونے والی خطاو¿ںکومعاف کردیتا ہے مگر انسانوں کے ساتھ کسی بھی معاملے میں کوئی زیادتی ‘ ظلم ‘کوئی خیانت ‘وعدہ خلافی یا نا انصافی ہوتی ہے توخدا اسے معاف نہیں کرے گا جب تک کہ وہ اُن انسانوںسے معافی تلافی نہ کرے ۔اوراپنا معاملہ ٹھیک نہ کر ے ورنہ قیامت کے دن خدااسکو گنہگاروں میںشامل کردے گا۔اسلام نے حکم دیا ہےکہ تم نہ صرف اپنے مسلم بھائیوں کے ساتھ بلکہ سارے انسانوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو بھلائی کرواورانکا احترام کرو۔
قرآن کریم انسانوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کیلئے جو حکم دیتا ہے اسکا دائرہ کتنا وسیع ہے وہ اس آیت سے سمجھا جاسکتا ہے ۔جو سورہ ممتنہ کی ساتویںاور آٹھویں آیات میںہے جو 28 ویں پارہ میں ہے ۔( ہوسکتا ہے کہ اللہ تمہارے درمیان اورجن سے تمہاری دشمنی ہے اُن کے درمیان محبت اور دوستی پیدا کرے )اس کے بعد والی آیت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اُن لوگوں سے( غیر مسلم) جن سے دین کے معاملے میں تمہاری جنگ نہیں ہوئی اور انھوں نے تمہیں گھر سے نہیں نکالا اُن کے ساتھ اللہ تم کو اس بات سے منع نہیںکرتا ہے کہ تم انکے ساتھ نیکی کرو اور انصاف کرو ۔اللہ انصاف کرنے والوں کوپسند کرتا ہے ۔ایک آیت میں یہاں تک کہاگیا ہے کہ”دین کے معاملے میں تم کسی بھی مسلمان کی مدد کرسکتے ہومگراُس قوم کے خلاف مدد نہیں کرسکتے جن کے اور تمہارے درمیان عہد ہے۔ہم اس بات کو اور اس طرح واضح کرسکتے ہیں کہ کسی ملک کے شہری ہونے کامطلب سب سے پہلے یہ ہوتا ہے کہ اُس ملک کے دستور کو وہ تسلیم کرتا ہو اور ظاہر ہے کہ دستور سے بڑا کوئی عہد نہیں ہوتا ۔“اس لئے یہ قرآن کی مسلم نوجوانوں کیلئے زبردست رہنمائی ہے۔ ہمارے مسلم نوجوان دستور کے ساتھ اسی طرح سے بندھے ہوئے ہیں جس طرح ملک کے دیگر مذاہب اورطبقات کے عوام بندھے ہوئے ہیں۔ اس لئے ہمارے وطن کوکوئی مسلم ملک بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کرے تو قرآن پرایمان کاتقاضہ ہے کہ کوئی بھی مسلمان اُس دشمن ملک کی حمایت و ہمدردی نہیں کرسکتا ۔ اب ہمیںغور کرنا چاہئے کہ ہمارے بڑوں کی طرف سے نئی نسل کے دماغ میں قرآن کی یہ بات ڈالی جائے ۔نئی نسل دستور کے مطابق اپنے شب و روز گزارنے کے ساتھ ساتھ وہ اسلام کی تعلیمات پر بھی عمل پیرا ہو ۔یہ بات ہمارے نوجوانوں کو خوشی بھی دے گی اور ترقی کی سمت گامزن بھی کرے گی ۔
( ”ورق تازہ آن لائن“)