بی جے پی کا ’وَندے ماترم‘ پر دوغلا پن عروج پر: سچن ساونت

اقلیتی اراکینِ اسمبلی کو نشانہ بنانے کی شرانگیز کوشش پر کانگریس کا شدید حملہ

راجیہ سبھا میں ’جے ہند‘ اور ’وَندے ماترم‘ کے نعروں پر پابندی نے بی جے پی کی قوم پرستی کا پول کھول دیا

ممبئی: مہاراشٹر کانگریس کے ترجمان سچن ساونت نے ایک نہایت سخت ٹوویٹ کے ذریعے بی جے پی سخت تنقید کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ بی جے پی نے ’وَندے ماترم‘ کو سیاسی منافرت اور مذہبی پولرائزیشن کے ایجنڈے کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ وہ مہاراشٹر میں جان بوجھ کر ایسا ماحول تیار کر رہی ہے جس کا مقصد اقلیتی نمائندوں کو نشانہ بنانا، انہیں اشتعال دلانا اور اپنی کھوکھلی قوم پرستی کی تشہیر کرنا ہے۔

سچن ساونت نے اپنے ٹوئیٹ میں واضح طور پر لکھا کہ بی جے پی کارکنان نے کانگریس کے دو اقلیتی اراکینِ اسمبلی اسلم شیخ اور امین پٹیل کے دفاتر کے باہر ’وَندے ماترم‘ گانے کا پروگرام اس نیت سے رکھا کہ انہیں مذہبی بنیاد پر الجھایا جائے اور عوام میں غلط فہمیاں پھیلائی جائیں۔ ساونت کے مطابق یہ کوئی اچانک اقدام نہیں بلکہ بی جے پی کی ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے جس میں قومی نعروں کو بھی سیاسی ہتھیار میں بدل دیا گیا ہے۔

انہوں نے اس صورتحال کو مزید سنگین بناتے ہوئے نشاندہی کی کہ ایک جانب ممبئی میں بی جے پی کانگریس کے اقلیتی ارکان اسمبلی کے دفاتر کے باہر وندے ماترم گانے کا پروگرام کر رہی ہے جبکہ دوسری جانب مودی حکومت نے راجیہ سبھا میں ’جے ہند‘ اور ’وَندے ماترم‘ جیسے نعروں پر پابندی عائد کر دی ہے، جس سے بی جے پی کا اصل چہرہ پوری طرح سامنے آ جاتا ہے۔ ساونت نے لکھا کہ ’ایک طرف بی جے پی ریاست میں مذہبی سیاست کے لیے وَندے ماترم کا سہارا لیتی ہے اور دوسری طرف پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا میں اسی نعرے کی گونج پر پابندی لگا دیتی ہے۔ اگر اسے دوغلا پن نہیں کہتے تو پھر اور کیا کہا جائے؟‘

اپنے ٹوئیٹ میں سچن ساونت نے تاریخی پس منظر کا حوالہ دیتے ہوئے بی جے پی پر یہ بھی الزام لگایا کہ جن لوگوں میں انگریزوں کے راج کے دوران ’وَندے ماترم‘ کہنے کی جرأت نہیں تھی، آج وہی لوگ جمہوریت کے مندر میں اس نعرے کی ادائیگی پر روک لگا رہے ہیں۔ بی جے پی کا یہ ڈھونگی قوم پرستی کا چہرہ اب کسی سے چھپا نہیں۔ انہوں نے مزید سوال کیا کہ کیا بی جے پی مہاراشٹر کے لیڈران اس کھلے تضاد، اس سیاسی منافقت اور اس قومی نعرے کے سیاسی استحصال کا جواب دیں گے؟ یا پھر ہمیشہ کی طرح خاموشی اختیار کر کے راہِ فرار اختیار کر لیں گے؟ سچن ساونت نے اس پورے سلسلے کو’قومی وقار کے ساتھ براہِ راست کھلواڑ‘ قرار دیتے ہوئے بی جے پی کے رویّے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔

MRCC Urdu News 28 Nov. 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading