انڈیگو کی اجارہ داری کی وجہ سے مسافروں کو شدید پریشانی، ہوابازی کے وزیر عوامی طور پر معافی مانگیں: ورشا گائیکواڑ
ممبئی ایئرپورٹ پر مختلف فیسوں کے نام پر مسافروں کی لوٹ مار، مسافروں اور ہوائی اڈے کے دکانداروں سے اڈانی کی بڑے پیمانے پر لوٹ جاری
ممبئی ایئرپورٹ کے فَنِل زون میں رہنے والے ہزاروں مکینوں کا مسئلہ حل کیا جائے، گھروں کو خالی کرانے کے لیے انتظامیہ کی جانب سے دباؤ اور دھونس
نئی دہلی: عام لوگوں کے لیے ہوائی سفر کو آسان بنانے کا جو خواب نریندر مودی نے دکھایا تھا، وہ محض دن میں دیکھے جانے والا خواب ہی ثابت ہوا ہے اور ہوائی سفر استحصال اور لوٹ مار کا ذریعہ بن چکا ہے۔ پچھلے چھ سات دنوں میں انڈیگو نے جو بدنظمی پیدا کی، اس کی وجہ سے ہزاروں مسافروں کو شدید ذہنی، جسمانی اور مالی پریشانی برداشت کرنی پڑی۔ اس دوران کسی نے بھی مسافروں سے بات تک نہیں کی۔ اس بدنظمی کی وجہ سے ہندوستان کی بین الاقوامی سطح پر بدنامی ہوئی۔ یہ سب ایک ہی ایئرلائن کی اجارہ داری کی وجہ سے ہوا ہے اور اس واقعے پر حکومت اور ہوابازی کے وزیر عوامی طور پر معافی مانگیں۔ یہ مطالبہ ممبئی کانگریس کی صدر و رکنِ پارلیمنٹ ورشا گائیکواڑ نے کیا ہے۔
پارلیمنٹ میں بولتے ہوئے ورشا گائیکواڑ نے کہا کہ ملک میں پہلے کنگ فِشر، جیٹ ایئر ویز، گو فرسٹ، ایئر ڈیکن، جیٹ لائٹ، ایئر سہارا، ایئر ایشیا انڈیا جیسی کمپنیاں ہوا بازی کے شعبے میں خدمات دے رہی تھیں، مگر حکومت کی ٹھوس پالیسی نہ ہونے کے باعث ایک ایک کر کے تقریباً 20 ایئرلائن کمپنیاں بند ہوتی گئیں۔ اب صرف ایئر انڈیا، وستارا، انڈیگو جیسی چند کمپنیاں ہی کام کر رہی ہیں، اور ان میں سب سے بڑا حصہ انڈیگو کے پاس ہے۔ اسی اجارہ داری کی وجہ سے یہ بدنظمی ہوئی۔ چونکہ اجارہ داری ہے اس لیے صارفین کا استحصال اور لوٹ جاری ہے۔ 5 سے 6 ہزار روپے کا ٹکٹ 20 سے 30 ہزار روپے تک پہنچ گیا۔ ایئرپورٹ پر لوگوں کو پینے کا پانی تک نہیں ملا۔ پھنسے ہوئے مسافروں سے کسی نے بات تک نہیں کی۔ اب نوی ممبئی ایئرپورٹ سے انڈیگو کو اجازت دی گئی ہے، مگر حالیہ بدنظمی کو دیکھتے ہوئے سوال یہ ہے کہ کیا حکومت کے پاس کوئی اس بدنظمی کو دور کرنے کا کوئی پلان بھی ہے یا نہیں۔
ورشا گائیکواڑ نے کہا کہ ممبئی ہوائی اڈے پر مسافروں سے UDF، ASF اور فیول سرچارج کے نام پر بھاری لوٹ کی جا رہی ہے۔ پانی کی بوتل یا سموسہ تک لیں تو ان کی قیمت بہت زیادہ ہے۔ پارکنگ چارجز ایک گھنٹے کا 370 روپے، دو گھنٹے کا 400 روپے، اور چھ گھنٹے کا 1000 روپے لیا جاتا ہے۔ ممبئی ایئرپورٹ کے دکانداروں سے اڈانی کمپنی بھاری کرایہ لیتی ہے اور فروخت سے بھی بڑا حصہ وصول کرتی ہے، یہ دوہری لوٹ جاری ہے۔ ایئرپورٹ پر جگہ جگہ دکانیں لگا دی گئی ہیں، مسافروں کے چلنے کی جگہ بھی نہیں بچی۔ اڈانی کمپنی کے نقصان کی بھرپائی کے لیے اب بین الاقوامی مسافروں سے 175 روپے کا UDF بڑھا کر 3856 روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جسے روکنے کی حکومت کوئی کوشش کرتی نظر نہیں آتی۔ سوال یہ ہے کہ حکومت اڈانی کمپنی کی من مانی کیوں برداشت کر رہی ہے؟ یہ ممبئی کے ہوائی سفر کو مہنگا کرنے کی کارروائی ہے، جس سے ممبئی کی سیاحت پر بڑا اثر پڑ سکتا ہے۔ اس لوٹ کو دیکھتے ہوئے ایئرپورٹ اتھارٹی آف انڈیا کا نام بدل کر ’اڈانی اینڈ سنز‘ رکھ دینا چاہیے۔
ممبئی کانگریس کی صدر نے مزید کہا کہ ممبئی ایئرپورٹ کے رن وے کے فَنِل حصّے میں 18 لاکھ لوگ رہتے ہیں۔ پچھلے 70 برسوں سے یہ لوگ یہاں رہ رہے ہیں، جن میں بڑی تعداد میں بزرگ شہری بھی ہیں۔ فَنل زون ہونے کی وجہ سے ان پرانی عمارتوں کی تعمیر نو نہیں ہو سکتی۔ اب اس علاقے کو ایک صنعت کار کے حوالے کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور اس کے لیے وہاں کے رہائشیوں کو زبردستی گھروں سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔ ان کی بجلی، پانی اور گھروں تک جانے والے راستے بند کر کے انہیں گھیر لیا گیا ہے۔ اس علاقے میں ایئر لائن ملازمین کی کالونیاں بھی ہیں اور صفائی ملازمین بھی رہتے ہیں۔ حکومت اڈانی کے لیے ممبئی میں زمینیں دیتی ہے اور اس کے لیے سارے قواعد اڈانی کے حق میں بنائے جاتے ہیں، تو پھر ان عام لوگوں کے لیے کوئی پالیسی کیوں نہیں بنائی جاتی؟ مرکز اور ریاستی حکومت کو اس مسئلے کا حل نکالنا چاہیے۔ اس موضوع پر میں مسلسل آواز اٹھا رہی ہوں۔ وزیروں سے ملاقات بھی کی، مگر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کو اس معاملے پر توجہ دے کر اس مسئلے کو ہمیشہ کے لیے حل کرے۔
MRCC Urdu News 12 Dec. 25.docx
