MPCC Urdu News 12 December 25

اسمبلی کا سرمائی اجلاس غیر سنجیدگی کا شکار، ودربھ معاہدے کی خلاف ورزی، عوامی مسائل پر بحث سے گریز: ہرش وردھن سپکال

کسان، مزدور، بے روزگار، قانون و نظم، بدعنوانی، خواتین کی سلامتی جیسے مسائل موجود مگر بحث ’کتے پکڑو، تیندوا چھوڑو‘ پر ہو رہی ہے

مہا یوتی حکومت کے دور میں بدعنوانی بڑے پیمانے پر بڑھی ہے، ’نہ کھاؤں گا نہ کھانے دوں گا‘ سے ’مل بانٹ کر کھائیں گے‘ تک کا سفر

ناگپور/ممبئی: ناگپور میں اسمبلی کا سرمائی اجلاس صرف ایک ہفتے کا رکھ کر بی جے پی مہا یوتی حکومت نے ودربھ معاہدے کی بے حرمتی کی ہے۔ کسان، مزدور، بے روزگار، قانون و نظم، بدعنوانی، خواتین کی سلامتی جیسے بے شمار اہم مسائل موجود ہونے کے باوجود اجلاس میں ان پر کوئی بحث نہیں ہو رہی۔ ان کے برعکس کتے پکڑو، تیندوا چھوڑو جیسے موضوعات پر بحث کی جا رہی ہے۔ حزبِ اقتدار میں اجلاس کے تئیں کوئی سنجیدگی باقی نہیں رہی۔ یہ سنگین الزام مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے عائد ہے۔

ناگپور میں احاطۂ اسمبلی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ بی جے پی مہا یوتی حکومت کے دور میں بدعنوانی بڑے پیمانے پر بڑھی ہے۔ روزانہ بدعنوانی کے معاملات سامنے آ رہے ہیں۔ پیسوں کا بہاؤ جاری ہے۔ بدعنوانی ہی اس حکومت کا نعرہ بن گیا ہے۔ ’نہ کھاؤں گا نہ کھانے دوں گا‘ سے شروع ہوا سفر اب ’مل بانٹ کر کھائیں گے‘ تک آ پہنچا ہے۔ ریاست میں بدعنوانی پر وائٹ پیپر جاری ہو کر اس پر بحث ہونی چاہیے، مگر حکومتی اراکین خود ہی ایوان کی کارروائی درست طور پر چلنے نہیں دیتے۔ سنجیدہ موضوعات پر بحث ہو رہی ہو تو بھی حکومتی اراکین ہنسی و مذاق میں مشغول رہتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جمہوریت کا خاتمہ ہو رہا ہے۔ حکمران جماعت کے کچھ اراکین خود بدعنوانی کے الزامات لگا رہے ہیں۔ حکومت کو اب تو اپنی آنکھیں کھولنی چاہئیں۔

اپوزیشن لیڈر کے عہدے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کے لیے 10 فیصد ممبران کی شرط کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ اگر ایسا ہے تو ایوانِ بالا میں 10 فیصد سے زائد ممبران موجود ہیں اور حکومت کو وہاں تجویز بھی دی جا چکی ہے ۔ پھر وہاں اپوزیشن لیڈر کا فیصلہ کیوں نہیں ہوتا؟ جمہوری نظام میں کچھ روایات، قدریں اور طور طریقے ہوتے ہیں۔ دونوں ایوانوں کی تجویزیں موجود ہیں، مگر حکومت آئین کے مطابق کام کرنے کو تیار نہیں۔ ’ہم جو کریں وہی قانون‘ کے انداز میں وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس اسمبلی کا کام کاج چلا رہے ہیں۔ فڈنویس کو جمہوریت کا احترام کرنا چاہیے۔ وہ جتنا رعب دکھاتے ہیں، اتنے ہی پیمانے پر انہیں اصول اور ضابطے بھی ماننے چاہئیں۔ اپوزیشن لیڈر کا عہدہ دینا راج دھرم ہے، مگر فڑنویس اس سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

MPCC Urdu News 12 December 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading