حکمراں پارٹیوں کے ممبرانِ اسمبلی سے کسان مایوس: بالاصاحب تھورات

اپوزیشن کو احتجاج کا حق ہے، ودھان بھون میں حکمراں ایم ایل ایز کا رویہ افسوسناک

ممبئی:مہاراشٹر کے کسانوں کو امید تھی کہ ریاستی اسمبلی کے مانسون اجلاس میں ان کی مدد کے لیے ایک اہم اعلان کیا جائے گا، لیکن شندے-فڈنویس حکومت کے رویے سے انہیں سخت مایوسی ہوئی ہے۔ ریاست میں شندے فڈنویس حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے 150 کسان خودکشی کر چکے ہیں۔ روزانہ اوسطاً 3 کسان خودکشی کر رہے ہیں جب کہ وزیر اعلیٰ کسانوں سے جذباتی اپیل کر رہے ہیں۔ دوسری طرف حکمراں ممبرانِ اسمبلی اپوزیشن کے ارکان سے ہاتھا پائی کر رہے ہیں۔اس رویے نے کسانوں کو بہت مایوس کیا ہے۔ حکومت کے اس طریقہ کار سے کسانوں میں ڈپریشن بڑھے گا اور ان کی امیدیں ٹوٹ جائیں گی۔یہ باتیں آج یہاں کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے لیڈر بالا صاحب تھورات نے کہی ہیں۔

بالا صاحب تھورات نے کہا کہ احتجاج کرنا اپوزیشن جماعتوں کا حق ہے لیکن اب حکمران جماعت خود احتجاج کر رہی ہے۔ کسانوں کے حوصلے بلند کرنا حکمران جماعت کی ذمہ داری ہے۔ تھورات نے کہا کہ اپوزیشن پارٹی ہونے کے ناطے کسانوں کے ساتھ عام لوگوں کے سوالات اٹھانا ہماری ذمہ داری ہے لیکن ان سوالوں پر کان دھرنے کے بجائے اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کو دھکے دیے جارہے ہیں۔ یہ واقعہ انتہائی افسوس ناک ہے۔ حکمران جماعت اپنی تنقید بھی برداشت نہیں کر پارہی ہے۔بالا صاحب تھورات نے کہا کہ اس حکومت کے آنے کے بعد سے ریاست میں 150 کسان خودکشی کر چکے ہیں۔ روزانہ 3 خودکشیاں ہو رہی ہیں۔ منگل کو منترالیہ کے قریب ایک کسان نے خود کو آگ لگا لی اور دوسرے نے عمارت پر چڑھ کر خودکشی کرنے کی کوشش کی۔ یہ ایسے واقعات ہیں جو کسانوں کی مایوس ذہنیت کو ظاہر کرتے ہیں، لیکن حکومت ان کے لیے کوئی فیصلہ یا اعلان نہیں کر رہی ہے۔ تھوراٹ نے کہا کہ میں 38 سال سے اس ایوان کا رکن ہوں۔ میں نے کئی بار اپوزیشن کو اسمبلی کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر احتجاج کرتے دیکھا ہے لیکن اس سے پہلے کبھی اس قسم کے دھکے بازی اور گالی گلوچ نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ تمام جماعتوں کو اس معاملے پرغور وفکر کرناچاہیے تاکہ آئندہ ایسا واقعہ دوبارہ نہ ہو۔تھورات نے کہا کہ آج جو کچھ ہوا اس پر معافی مانگنے کے بجائے حکمراں پارٹی کے کچھ ایم ایل اے کہہ رہے ہیں کہ ہم نے جو کیا ہے وہ ٹھیک ہے اور کرتے رہیں گے۔ یہ جمہوریت کو زیب نہیں دیتا۔ مہاراشٹر کی اپنی ایک روایت ہے لیکن ودھان سبھا میں جو کچھ ہوا اس نے اس روایت کو نقصان پہنچایا ہ ے۔ اس واقعہ کی شدید مذمت کی جانی چاہئے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading