MPCC Urdu News 9 Sep 25

مہا دیو پورہ اسمبلی حلقے کی طرح ہی چندرپور کے راجورہ میں بھی ووٹ چوری، ایف آئی آر درج لیکن اب تک تفتیش نہیں

جعلی آن لائن ووٹر رجسٹریشن کے آئی پی ایڈریس، ای میل آئی ڈی اور موبائل نمبر دینے میں انتظامیہ کر رہا ہے ٹال مٹول

راجورہ اسمبلی حلقے کی ووٹ چوری معاملے پر ایک ماہ میں کارروائی کریں، ورنہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے: اتل لونڈھے

ممبئی: بی جے پی نے الیکشن کمیشن کی مدد سے مل کر ووٹ چوری کی ہے، اور کانگریس ایک ایک اسمبلی حلقے میں اس کا پردہ فاش کر رہی ہے۔ راہل گاندھی نے مہا دیو پورہ اسمبلی حلقے کی ووٹ چوری بے نقاب کر کے بی جے پی اور کمیشن کی بدعنوان ساز باز کو سامنے لایا ہے۔ مہا دیو پورہ کی طرح ہی چندرپور ضلع کے راجورہ اسمبلی حلقے میں بھی ووٹ چوری ہوئی ہے۔ اس معاملے میں ایف آئی آر بھی درج کی گئی تھی، لیکن 11 مہینے گزر جانے کے بعد بھی کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ اس ووٹ چوری معاملے میں اگر آئندہ ایک مہینے کے اندر کارروائی نہ کی گئی تو کانگریس پارٹی عدالت کا سہارا لے گی، یہ انتباہ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے سینئر ترجمان اتل لونڈھے نے دیا ہے۔

گاندھی بھون میں منعقدہ پریس کانفرنس میں ووٹ چوری کی تفصیلات دیتے ہوئے کانگریس کے سینئر ترجمان اتل لونڈھے نے کہا کہ لوک سبھا سے لے کر اسمبلی انتخابات کے درمیان محض پانچ مہینوں میں راجورہ اسمبلی حلقے میں 55 ہزار ووٹروں کا اضافہ کیا گیا۔ یکم اکتوبر 2024 سے 15 اکتوبر 2024 کے درمیان راجورہ اسمبلی حلقے میں 11,667 جعلی ووٹروں کا آن لائن رجسٹریشن کیا گیا۔ اس سلسلے میں کانگریس امیدوار سوبھاش دھوٹے کی شکایت کے بعد 6,853 نام حذف کیے گئے۔ اس معاملے میں ایف آئی آر بھی درج کی گئی ہے لیکن اس کے بعد کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ جعلی ووٹر رجسٹریشن کے لیے جن آئی پی ایڈریس، ای میل آئی ڈی اور موبائل نمبروں کا استعمال کیا گیا، ان کی تفصیلات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، لیکن اب تک یہ معلومات نہیں دی گئی ہیں۔ یہ معلومات ملتے ہی اصل چور سامنے آ جائے گا، اسی لیے پولیس اور انتظامیہ جان بوجھ کر یہ تفصیلات دینے سے بچ رہے ہیں۔

اتل لونڈھے نے مزید کہا کہ راجورہ اسمبلی حلقے کے بی جے پی امیدوار کے پاس 61 لاکھ روپے اور انتخابی سامان برآمد ہوا تھا۔ الیکشن کمیشن کی ایف ایس ٹی ٹیم نے یہ کارروائی کی تھی اور گڈچاندور پولیس اسٹیشن میں اس معاملے میں جرم بھی درج کیا گیا تھا، لیکن آج تک اس پر بھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ ووٹ چوری کے معاملے پر کانگریس امیدوار سوبھاش دھوٹے نے الیکشن کمیشن، چندرپور کے ضلع کلکٹر اور پولیس سپرنٹنڈنٹ کو بار بار میمورنڈم دیے لیکن کارروائی کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ ووٹ چوری کے معاملے پر کانگریس عوام کی عدالت میں لڑائی لڑ ہی رہی ہے، لیکن یہ لڑائی عدالت میں بھی لڑی جائے گی۔ چندرپور ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر اور راجورہ اسمبلی حلقے کے سابق رکن اسمبلی سوبھاش دھوٹے نے بھی اس موقع پر ووٹ چوری کے معاملے کی تفصیلی معلومات فراہم کیں۔

پبلک سیکوریٹی بل کے خلاف کانگریس سمیت اپوزیشن جماعتوں کا کل بدھ، 10 ستمبر کو ریاست بھر میں احتجاج

ممبئی: بی جے پی اتحادی حکومت کے ذریعے شہری نکسل ازم کے خاتمے کے نام پر پیش کیے گئے پبلک سیکوریٹی بل کے خلاف اپوزیشن پارٹیوں نے جارحانہ موقف اختیار کیا ہے۔ اس جابرانہ بل کے خلاف کانگریس، نیشنلسٹ کانگریس (شرد چندر پوار)، شیوسینا (اُدھو ٹھاکرے)، مارکس وادی کمیونسٹ پارٹی، بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی، شیتکری سنگھٹنا سمیت تمام ہم خیال پارٹیوں نے احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ آج 10 ستمبر کو ریاست کے تمام تعلقہ اور ضلعی سطح پر یہ احتجاج کیا جائے گا۔

اپوزیشن کا کہنا ہے کہ پبلک سیکوریٹی بل دراصل آمرانہ نوعیت کا ہے اور حکومت مخالف آوازوں کو دبانے کے لیے اسے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ نکسل ازم کے خاتمے کے لیے پہلے سے ہی سخت قوانین موجود ہیں، اس لیے کسی نئے قانون کی ضرورت نہیں تھی، لیکن حکومت اڈانی جیسے سرمایہ داروں کے مفاد کے لیے کام کر رہی ہے اور چاہتی ہے کہ ان کے خلاف کوئی تحریک نہ اٹھے، کوئی احتجاج نہ ہو، اس لیے یہ قانون لایا گیا ہے۔ اس قانون کے تحت کسی کو بھی گرفتار کرنے، جیل میں ڈالنے اور جائیداد ضبط کرنے کی دفعات رکھی گئی ہیں۔ اس سیاہ قانون کو منسوخ کرانے کے لیے اپوزیشن جماعتوں نے ایک مضبوط محاذ تشکیل دیا ہے اور 10 ستمبر کے احتجاج کے بعد 2 اکتوبر کو بھی ریاست بھر میں بڑا احتجاج کیا جائے گا، یہ اطلاع مہاراشٹر کانگریس کمیٹی نے دی ہے۔

MPCC Urdu News 9 Sep 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading