بریکینگ نیوز:دوحہ میں حماس کی قیادت پر اسرائیلی حملہ ، خلیل الحیہ اور خالد مشعل سمیت 4 رہنماؤں کی شہادت

قطر کے دار الحکومت دوحہ میں آج سلسلہ وار دھماکے ہوئے۔ "العربیہ” کے ذرائع کے مطابق اسرائیلی حملے کا ہدف دوحہ کے علاقے کتارا میں موجود حماس کا وفد تھا۔ دھماکوں کے وقت یہ وفد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے پیش کردہ اس تجویز پر غور کر رہا تھا جس میں غزہ میں فائر بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کی پیشکش شامل تھی۔

اسی سلسلے میں حماس کے ایک ذریعے نے "العربیہ” کو بتایا کہ قطر میں مذاکراتی وفد کو اجلاس کے دوران ہی نشانہ بنایا گیا۔ دوسری طرف ایک اسرائیلی اہل کار نے کہا کہ تل ابیب نے دوحہ میں حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ خلیل الحیہ کو ہدف بنایا جو حملے میں جاں بحق ہو گئے۔ ان کے علاوہ حماس کے ایک اور رہنما زاہر جبارین بھی نشانہ بنے۔ العربیہ کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اجلاس میں حماس کے اہم رہنما خالد مشعل بھی شریک تھے۔

ایک اسرائیلی عہدے دار نے بتایا کہ تل ابیب نے قطر میں حماس کے خلاف حملے کے بارے میں واشنگٹن کو اطلاع دی اور اس سلسلے میں مکمل تعاون فراہم کیا

دوسری جانب قطر نے اس اسرائیلی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور اسے "بزدلانہ کارروائی” قرار دیا، جو دارالحکومت دوحہ میں حماس کے سیاسی دفتر کے بعض ارکان کی رہائش گاہوں کو نشانہ بنا کر کی گئی۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading