کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے لئے زرعی اصلاحات کا بل لائیں گے:بالاصاحب تھورات

وزراء کے وفد کی سابق مرکزی وزیرزراعت شردپوار سے ملاقات

ممبئی:مرکزی حکومت کے ذریعہ بنائے گئے تینوں زرعی قوانین کسان مخالف ہیں۔اس لیے مہاراشٹرا حکومت کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے لئے زرعی اصلاحات کا بل لائے گی جو اسمبلی کے اجلاسِ باراں میں ایوان میں پیش کیا جائے گا۔ یہ اطلاع آج یہاں وزیرمحصول نیز کانگریس کے قانون ساز کونسل کے لیڈر بالاصاحب تھورات نے دی ہے۔

وزیرمحصول تھورات کے ساتھ امدادباہمی کے وزیر بالاصاحب پاٹل، وزیرزراعت داداجی بھوسے، زراعت وامداد کے ریاستی ڈاکٹر ویشوجیت کدم کے وفد نے آج راشٹروادی کانگریس کے صدر شردپوار سے ملاقات کرتے ہوئے ریاست کے زرعی اصلاحات بل پر تبادلہئ خیال کیا۔ اس ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے تھورات نے کہا کہ مرکزی حکومت نے اصلاحات کے نام پر جو تین زرعی قوانین بنائے ہیں وہ کاشتکاروں کے لئے تباہ کن ہیں۔ کوئی بھی تاجر محض ایک پین کارڈ پر کسانوں کی پیداوار خرید سکتا ہے، اگر اس میں دھوکہ دہی ہوئی تو ذمہ داری کون قبول کرے گا؟ہماری حکومت کسانوں کے مفادات کے لیے جو جو زرعی اصلاحات کا بل تیار کررہی ہے اس میں ان تمام خدشات کو پیشِ نظر رکھا گیا ہے۔ تھورات نے کہا کہ اس شعبے میں شرد پوار کی اہم کارکردگی رہی ہے۔ وہ دس سال سے زیادہ عرصے تک ملک کے محکمہ زراعت کے وزیر رہے ہیں۔ لہذا ان کی رہنمائی ہمارے لئے اہم ہے۔ تھورات نے یہ بھی کہا کہ پوار نے ریاستی حکومت کے ذریعے تجویز کردہ اصلاحات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور مزید تجاویز پیش کیں ہیں۔

باہمی تعاون وزیر بالاصاحب پاٹل نے کہاکہ ہم آنے والے اسمبلی اجلاس میں زرعی اصلاحات کا بل پیش کریں گے۔ اس کے لئے ہم اس مسودے پر بات چیت کرنے کے لئے مستقل ملاقاتیں کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ مرکزی حکومت نے کوآپریٹو بینکوں کے وجود کو متزلزل کرنے کے لئے بھی قانون بنادیا ہے۔اس ضمن میں بھی شردپوار سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ عدالتی لڑائی اور ایک نیا ریاستی کوآپریٹو بینک کے تحفظ کے لئے قانون بنانے پر بھی شردپوار سے بات چیت کی گئی ہے۔داداجی بھوسے نے کہا کہ فصل انشورنس سے متعلق مرکزی حکومت کے قواعد پورے ملک میں لاگو ہیں۔ اس سال فصل انشورنس میں 5800 کروڑ روپے جمع ہواجس میں سے کسانوں کومحض 800 سے ایک ہزار کروڑ روپئے کا ہی نقصانات کی بھرپائی ملی۔اس میں نجی بیم کمپنیوں نے 5 ہزار کروڑ روپے کا منافع کمایا ہے جو غیرمنصفانہ وظالمانہ ہے۔ اس ضمن میں ہم نے متعدد بار مرکزی حکومت سے رجوع کیا ہے۔ میں نے ذاتی طور پر مرکزی وزیر زراعت سے ملاقات کی ہے۔ گذشتہ روز بھی وزیر اعلی نے یہ معاملہ وزیر اعظم کے نوٹس میں لایا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم انشورنس کمپنیوں کے منافع کو محدود کرنے کے ایک ماڈل پر غور کر رہے ہیں۔ ہم نے یہ ماڈل ضلع بیڑ میں شروع کیا جس میں ہمیں کامیابی ملی ہے۔ اس معاملے پر آج شرد پوار صاحب کے ساتھ بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے ہمیں کچھ تجاویز پیش دیں ہیں۔ہم نے شردپورا صاحب کو ریاستی حکومت کے اس موقف سے بھی آگاہ کردیا ہے کہ حکومت چاہتی ہے کہ مرکزی حکومت ریاست کو جلدازجلد بیڑ ماڈل کو روبہ عمل لانے کی اجازت دے۔وزیر مملکت برائے زراعت و تعاون وشوجیت کدم نے کہا کہ ہم ناگری کوآپریٹو بینکوں سے بات کر رہے ہیں۔ مرکزی حکومت کے ذریعہ بنائے گئے ظالمانہ قوانین کا خمیازہ سب سے زیادہ مہاراشٹر کو بھگتنا پڑے گا۔ ریاست کی کوآپریٹیو سیکٹر کو تباہ کرنا دراصل مرکزی حکومت کی ایک سازش ہے۔