شیو سینا کے رکنِ اسمبلی سنجے گائیکواڑ نے کینٹین ملازم کو تھپڑ مارا؛ وزیر اعلیٰ و نائب وزیر اعلیٰ نے کی سخت مذمت
ممبئی، 9 جولائی 2025 — (آفتاب شیخ)
شیو سینا (شندے گروپ) کے رکنِ اسمبلی سنجے گائیکواڑ کی جانب سے ممبئی کے ایم ایل اے ہاسٹل کی کینٹین میں مبینہ طور پر باسی کھانا دئیے جانے پر ایک ملازم کو تھپڑ مارنے کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس کا ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اس واقعے کی وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس اور نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
یہ معاملہ آج مہاراشٹر ودھان پریشد میں اُس وقت اُٹھا جب شیوسینا (ادھو گروپ) کے رکن ایڈوکیٹ انیل پرب نے اس پر خصوصی توجہ دلائی۔ وزیر اعلیٰ فڈنویس نے ایوان میں کہا، "اگر ایم ایل اے ہاسٹل میں صفائی یا کھانے کے معیار سے متعلق کوئی شکایت ہو تو اُس کے لیے باضابطہ شکایت درج کی جا سکتی ہے۔ لیکن کسی ملازم پر ہاتھ اٹھانا کسی بھی طرح سے مناسب نہیں۔ اس قسم کے رویے سے نہ صرف رکنِ اسمبلی کی شبیہ متاثر ہوتی ہے بلکہ پورے قانون ساز ادارے کی ساکھ پر بھی سوال اٹھتا ہے۔"
وزیر اعلیٰ نے ایوان کے صدر سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس واقعے کا سنجیدگی سے نوٹس لیں۔
دریں اثنا، نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے بھی سنجے گائیکواڑ کو سخت الفاظ میں تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ "ایک عوامی نمائندہ ہونے کے ناطے انہیں ضابطہ کے مطابق شکایت درج کرنی چاہیے تھی۔ ہم کسی بھی حالت میں مارپیٹ کا جواز پیش نہیں کر سکتے۔ ہم نے ان سے واضح طور پر کہا ہے کہ ان کا رویہ ناقابل قبول ہے اور حکومت اس کی حمایت نہیں کرتی۔"
اطلاعات کے مطابق سنجے گائیکواڑ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں کینٹین میں خراب کھانا دیا گیا تھا جس کی وجہ سے ان کی طبیعت بگڑ گئی، اور اسی غصے میں انہوں نے کینٹین جا کر کھانے کی شکایت کی اور ایک ملازم کو تھپڑ رسید کیا۔
میڈیا سے گفتگو میں سنجے گائیکواڑ نے اپنے رویے کا دفاع کرتے ہوئے کہا، "جب جمہوری طریقے سے بات کرنے پر کوئی سننے کو تیار نہ ہو تو زبان بدلنی پڑتی ہے۔"
اس واقعے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے بھی سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے گائیکواڑ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے اس معاملے میں تادیبی کارروائی کے امکانات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
یہ واقعہ نہ صرف ایک رکنِ اسمبلی کے برتاؤ پر سوال کھڑے کرتا ہے، بلکہ سرکاری اداروں میں فراہم کی جانے والی خدمات کے معیار اور شکایات کے ازالے کے نظام پر بھی سنجیدہ بحث کا سبب بن رہا ہے۔