ممبئی: بی جے پی مہایوتی کے لیڈران یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ ‘لاڈلی بہنوں’ کے ووٹوں کی بدولت دوبارہ اقتدار میں آئے ہیں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ انتخابات ختم ہونے کے بعد مہایوتی گٹھ بندھن کو لاڈلی بہنوں کی ضرورت نہیں رہی۔ لاڈلی بہنوں کی بات اب ختم ہو چکی ہے۔
حکومت کے حلف لینے کے دو دن کے اندر ہی ایک ’لاڈلے بھائی‘ کو ان کی ایک ہزار کروڑ روپے کی جائیداد واپس کر دی گئی ہے۔ یہ تو صرف آغاز ہے، ابھی آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔ مہاراشٹر میں اقتدار میں آئی بی جے پی گٹھ بندھن حکومت اب صرف ‘لاڈلے بھائیوں’ کے لیے کام کرے گی۔ ریاستی حکومت پر یہ سخت تنقید مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کی ہے۔
اسمبلی کے احاطے میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے نانا پٹولے نے مزید کہا کہ بی جے پی اتحاد کو زبردست اکثریت ملی ہے، اس لیے وہ موج مستی کر رہے ہیں۔ اسمبلی اسپیکر کے انتخاب کے بعد جب مبارکبادی تجویز پیش کی گئی تو امید تھی کہ اس پر بحث ہوگی لیکن حکومتی اراکین نے رائے دہندگان کا مذاق اڑایا۔ مارکرواڑی سمیت دیگر گاؤں میں بھی گرام سبھاؤں نے ای وی ایم کے خلاف تجویز پاس کی ہیں۔ جمہوریت میں ووٹر بادشاہ ہوتے ہیں، انہیں ووٹ دینے کا حق ہے۔ لیکن عوام پوچھ رہی ہے کہ ان کے ووٹ آخر کہاں گئے؟
ان کے ووٹوں کی چوری کس نے کی؟ مارکرواڑی کے لوگ فرضی بیلیٹ پیپر کے ذریعے پولنگ کرنے جا رہے تھے لیکن انہیں روک دیا گیا۔ ان کا جو حق ہے، اسے کوئی نہیں چھین سکتا۔ مارکرواڑی کے مسئلے پر بھی ایوان میں بحث ہونی چاہیے لیکن برسراقتدار پارٹیوں کے لیڈران ووٹروں کے جذبات کا مذاق اڑا رہے ہیں، انہیں عوام کے احساسات سے کوئی لینا دینا نہیں۔
نانا پٹولے نے کہا کہ مہاراشٹر اسمبلی کی ایک طویل روایت ہے۔ عموماً جب کانگریس کے پاس زبردست اکثریت تھی تب بھی اپوزیشن لیڈر کا عہدہ اس وقت اپوزیشن کے اراکین کی تعداد دیکھے بغیر دیا جاتا تھا۔ اسی روایت کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس سے ہوئی گفتگو میں اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنما اور اسمبلی کے نائب صدر کا عہدہ مہا وکاس اگھاڑی کو دینے کی تجویز رکھی گئی ہے۔ حکومت بھی اس پر مثبت رویہ رکھتی ہے اور ہمیں امید ہے کہ ناگپور اجلاس میں اپوزیشن لیڈر کا انتخاب ہو جائے گا۔
کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ کرناٹک میں بی جے پی حکومت کے دوران بیلگاؤں میں مراٹھی بولنے والوں پر مظالم ہوئے تھے۔ اس وقت بی جے پی خاموش تھی اور اب کیوں بول رہی ہے؟ مرکز میں حکومت بی جے پی کی ہے، اس لیے فیصلے لینے کا اختیار انہیں ہے۔ پٹولے نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی مذہب کے نام پر سیاست کر رہی ہے۔