MPCC Urdu News 8 November 24

مودی-شاہ کی ذات اور مذہب کی سیاست مہاراشٹر میں ناکام ہوگی: نانا پٹولے

نریندر مودی کی او بی سی سے محبت محض دکھاوا ہے، اس نے او بی سی ریزرویشن ختم کیا

ممبئی: کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دونوں ذات اور مذہب کے نام پر ووٹ مانگ رہے ہیں کیونکہ انہیں اپنی شکست کا پہلے سے احساس ہوگیا ہے۔ نانا پٹولے نے کہا کہ بی جے پی کی منووادی سیاست ابتدا سے ہی ذات اور مذہب کی بنیاد پر قائم رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے ذاتوں کے درمیان تنازعہ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے اور نریندر مودی کو اس کے لیے کانگریس کو موردِ الزام نہیں ٹھہرانا چاہیے۔ نانا پٹولے نے دعویٰ کیا کہ چھترپتی شیواجی مہاراج کی مقدس سرزمین پر ذات اور مذہب کے نام پر سیاسی فائدہ اٹھانے کی مودی-شاہ کی کوششیں مہاراشٹر میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی اور یہاں کی عوام ایسی سیاست کو برداشت نہیں کرے گی۔

پٹولے نے کہا کہ مودی نے اپنے حالیہ خطاب میں کانگریس کو ختم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے تقریباً 50 بار کانگریس کا نام لیا، لیکن کانگریس کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ مودی حکومت خود بیساکھیوں پر قائم ہے۔ نانا پٹولے نے او بی سی (پسماندہ طبقات) کے حوالے سے بھی مودی کی محبت کو محض دکھاوا قرار دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے او بی سی کے سیاسی ریزرویشن کو ختم کیا ہے۔

کانگریس صوبائی صدر نے کہا کہ جب راہل گاندھی جمہوریت اور آئین کے تحفظ کی جنگ لڑ رہے ہیں تو مودی نے ان کی اس کوشش کا مذاق اڑایا ہے، جو کہ آئین کی توہین کے مترادف ہے۔ بی جے پی نے ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر اور آئین کی مسلسل توہین کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے جمہوریت اور آئین کے تحفظ کی بات کرنے والوں کو نکسلی کہہ کر بدنام کرنے کا جرم کیا ہے۔ نانا پٹولے نے مودی کے اس الزام پر بھی ردِعمل دیا کہ کانگریس او بی سی کو ریزرویشن نہیں دینا چاہتی۔ انہوں نے کہا کہ عوام جانتی ہے کہ ریزرویشن دینے والے منڈل کمیشن کا سب سے زیادہ مخالف بی جے پی رہی ہے۔ بی جے پی نے مہاراشٹر میں ریزرویشن کے نام پر مراٹھا، او بی سی، دھنگر، آدیواسی، اور ہلبا جیسے طبقات کے درمیان تنازعہ پیدا کیا ہے اور انہیں لڑانے کا جرم کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی نے سرکاری کمپنیوں کو بیچ کر نوکریوں میں ریزرویشن ختم کرنے کا جرم کیا ہے۔

پٹولے نے کہا کہ مودی حکومت نے بغیر یو پی ایس سی امتحان پاس کیے آر ایس ایس کے نوجوانوں کو سیدھے جوائنٹ سیکریٹری کے عہدوں پر فائز کیا ہے، جس سے ایس سی، ایس ٹی، اور او بی سی کے نوجوانوں کو ریزرویشن کے فوائد سے محروم کردیا گیا ہے۔ نانا پٹولے نے یوتمل کے وانی علاقے میں بی جے پی کے ایک عہدیدار کی جانب سے کنبی طبقے کے بارے میں کیے گئے نامناسب بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت وہاں بی جے پی کے کئی رہنما موجود تھے لیکن کسی نے اس بات کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کا او بی سی کے لیے دکھایا جانے والا پیار محض ایک دکھاوا ہے۔

پٹولے نے کہا کہ بی جے پی نے "بانٹیں گے تو کاٹیں گے" جیسے نعرے لگا کر مہاراشٹر کے سماجی ماحول کو بگاڑنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا بی جے پی دلت، آدیواسی، اور اقلیتی طبقات کو ملک کا شہری نہیں مانتی؟ مودی کا یہ دعویٰ کہ کانگریس اب قومی پارٹی نہیں رہی بلکہ ہر ریاست میں دوسری جماعتوں کا سہارا لے رہی ہے، انتہائی بچکانہ اور مضحکہ خیز ہے۔ نانا پٹولے نے کہا کہ خود مودی کی حکومت چندر بابو نائیڈو اور نتیش کمار کی حمایت پر کھڑی ہے۔ کیا وزیر اعظم کو یہ علم نہیں کہ مہاراشٹر میں حکومت بنانے کے لیے بالاصاحب ٹھاکرے کی شیو سینا اور شرد پوار کی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کو توڑا گیا؟ پٹولے نے مزید کہا کہ مودی کا خطاب ہمیشہ کی طرح جھوٹ بول کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش تھی، لیکن مہاراشٹر کی عوام ان فریبوں میں نہیں آئیں گے۔

کانگریس کرے گی بی جے پی کے جھوٹے بیانیے کا پردہ فاش

ہماچل پردیش و تلنگانہ کے وزرائے اعلیٰ و کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے

ممبئی: بی جے پی کی جانب سے جھوٹے دعووں اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے مہاراشٹر کے عوام کو گمراہ کرنے کی کوششوں کا جواب دینے کے لیے کانگریس پارٹی نے ایک بڑا اقدام کیا ہے۔ کانگریس کے دو وزرائے اعلیٰ یعنی ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ سکھویندر سنگھ سکھو اور تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی اور کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی. کے. شیوکمار ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں بی جے پی کے جھوٹے بیانیے کو بے نقاب کریں گے۔ یہ پریس کانفرنس 9 نومبر (آج) کانگریس کے ریاستی ہیڈکوارٹر تلک بھون، ممبئی میں صبح 11 بجے منعقد ہوگی۔

بی جے پی نے حالیہ دنوں میں اخبارات اور مختلف ذرائع میں بڑے پیمانے پر تشہیری مہم چلا رکھی ہے جس میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ کانگریس کے زیرِ اقتدار ریاستوں، یعنی کرناٹک، تلنگانہ، اور ہماچل پردیش میں اسمبلی انتخابات کے دوران عوام کو دی گئی ضمانتوں کو پورا نہیں کیا گیا۔ تاہم کانگریس اس الزام کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیتی ہے۔ پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بی جے پی اپنے ناکامیوں کو چھپانے اور عوام کو گمراہ کرنے کے لیے اس قسم کا پروپیگنڈا کر رہی ہے۔

کانگریس کے میڈیا اور تشہیر ڈپارٹمنٹ کے صدر پون کھیڑا نے بی جے پی کے ان جھوٹے الزامات کے جواب میں جمعرات کو الیکشن کمیشن سے رابطہ کر کے شکایت درج کروائی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ بی جے پی کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ کانگریس پارٹی کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی کوشش ہے کہ عوام کو گمراہ کیا جائے لیکن کانگریس اس کا بھرپور جواب دے گی۔

کانگریس کا کہنا ہے کہ بی جے پی مرکزی حکومت میں پچھلے دس سال سے موجود ہے اور ریاست مہاراشٹر میں 2014 سے 2019 کے دوران اور پھر پچھلے ڈھائی سال سے اقتدار میں ہے، مگر ان کے پاس عوام کو بتانے کے لیے کوئی عملی کام نہیں ہے۔ بی جے پی کو یہ احساس ہو چکا ہے کہ خالی وعدوں اور زبانی جمع خرچ سے ووٹ نہیں ملیں گے، اس لیے وہ جھوٹے الزامات اور بے بنیاد تشہیر کے ذریعے ماحول خراب کر رہی ہے۔ کانگریس پارٹی نے الزام لگایا کہ انتخابات میں بدعنوانی اور رشوت خوری سے حاصل ہونے والے کروڑوں روپے بی جے پی کی فالتو تشہیری مہم میں اڑائے جا رہے ہیں اور پیسے کے زور پر مہایوتی اتحاد کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

کانگریس نے واضح کیا ہے کہ کرناٹک، تلنگانہ، اور ہماچل پردیش میں انتخابات کے دوران دی گئی ضمانتوں پر مکمل عمل درآمد جاری ہے، اور ان ریاستوں کے کروڑوں عوام ان ضمانتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ بی جے پی کے تمام جھوٹے دعوے بے بنیاد ہیں، اور کانگریس کے زیرِ اقتدار ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ بی جے پی کے اس گمراہ کن پروپیگنڈے کا پردہ فاش کریں گے۔ اس مشترکہ پریس کانفرنس کے ذریعے کانگریس کا مقصد ہے کہ عوام کے سامنے بی جے پی کے پروپیگنڈے کی حقیقت کو پیش کیا جائے اور ثابت کیا جائے کہ بی جے پی عوام کے حقیقی مسائل پر بات کرنے سے گریز کرتے ہوئے جھوٹے بیانیے سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading