حکومت کی اعلان کردہ امداد انتہائی ناکافی
مہایوتی حکومت نے کسانوں کے زخموں پر نمک چھڑکا ہے: ہرش وردھن سپکال
اڈانی کے خوف سے وزیر اعظم نے نوی ممبئی ایئرپورٹ کو دی. با. پاٹل کا نام دینے سے گریز کیا
افتتاح کے بعد کیا وہ سیلاب متاثرہ علاقوں کا فضائی جائزہ لیں گے؟
پنويل میں اجلاس مزدور اور آئین بیداری 2025 پروگرام کا انعقاد
ممبئی: ریاست میں حالیہ طوفانی بارشوں اور شدید سیلاب کے نتیجے میں کسانوں کو زبردست نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ خریف کی فصلیں پوری طرح تباہ ہو چکی ہیں، جب کہ اب ربیع کی فصل بھی خطرے میں ہے۔ کھیتوں کے ساتھ ساتھ کسانوں کے مکانات اور آسائشیں بھی برباد ہو گئی ہیں، مگر بھارتیہ جنتا پارٹی کی زیر قیادت مہایوتی حکومت نے راحت کے نام پر کسانوں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ لاکھوں روپے کا نقصان برداشت کرنے والے کسانوں کو جو معمولی مالی امداد دی گئی ہے، وہ زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ یہ الزام لگاتے ہوئے مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے مطالبہ کیا کہ تمام متاثرہ کسانوں کو فی ہیکٹر 50 ہزار روپے کی امداد دی جائے اور حکومت اپنے وعدے کے مطابق مکمل قرض معافی کا اعلان کرے۔
پنويل میں ہرش وردھن سپکال کی قیادت میں آج بھارت رتن ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے مجسمے سے چھترپتی شواجی مہاراج کے مجسمے تک سنویدھان سنواد یاترا نکالی گئی۔ اس کے بعد واسودیو بلونت پھڈکے ناٹیہ گرہ میں ’کامگار میلاوا اور سنویدھان جاگر 2025‘ کے عنوان سے ایک عوامی پروگرام منعقد کیا گیا۔ اس موقع پر کانگریس کے ریاستی نائب صدر رام چندر آبا دلوی، او بی سی شعبہ کے صدر بھانو داس مالی، سینئر ترجمان گوپال تیواری، ریاستی عاملہ کے رکن آر. سی. گھرات، ریاستی سکریٹری شروتی مہاترے، پنويل شہر صدر سدام پاٹل، یوتھ کانگریس صدر ہیم راج مہاترے، سابق کونسلر ہریش کینی، پنويل اربن بینک کے ڈائریکٹر جناردن پاٹل اور شاعر سنبھاجی بھگت سمیت متعدد عہدیداران و کارکنان موجود تھے۔
پروگرام کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سپکال نے کہا کہ ریاست کے تقریباً 30 اضلاع کے 300 تعلقے بارش اور سیلاب سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ ہماری مانگ ہے کہ تمام کسانوں کو فی ہیکٹر 50 ہزار روپے کی مدد، مکمل طور پر تباہ شدہ زمین کے لیے فی ہیکٹر 5 لاکھ روپے کا معاوضہ اور مکمل قرض معافی دی جائے۔ مگر حکومت نے انتہائی ناکافی امداد کا اعلان کیا ہے۔ اڈانی اور امبانی کے مفاد میں فائلوں پر دستخط کرنے والے یہی لوگ کسانوں کی مدد کے وقت کیوں ہچکچاتے ہیں؟ یہ حکومت کسانوں اور غریب عوام کی نہیں بلکہ چند سرمایہ داروں کی ہے، یہ بات ایک بار پھر ثابت ہو گئی ہے۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں سوال کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی جو نوی ممبئی ایئرپورٹ کے افتتاح کے لیے آرہے ہیں، کیا وہ سیلاب متاثرہ علاقوں کا فضائی جائزہ لیں گے؟ اس ایئرپورٹ کو بزرگ عوامی رہنما دی. با. پاٹل کے نام سے منسوب کرنے کی مانگ کی جا رہی ہے، مگر حکومت نے اب تک اس پر کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت ادانی کے دباؤ میں آکر نام کے اعلان سے گریز کر رہی ہے۔ سپکال نے کہا کہ جب عوام مصیبت میں ہوتی ہے تو وزیر اعظم ان کے درمیان نہیں آتے، لیکن جب کریڈٹ لینے کا موقع ہوتا ہے تو سب سے آگے نظر آتے ہیں۔
راہل گاندھی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں سپکال نے کہا کہ منوج جرانگے کی جانب سے راہل گاندھی کے خلاف دیے گئے الفاظ بالکل نامناسب ہیں۔ راہل گاندھی نے ہمیشہ ذات پر مبنی مردم شماری اور 50 فیصد کی حد ختم کرنے کی مانگ اس لیے کی ہے تاکہ ریزرویشن کے مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔ کانگریس ہی وہ پارٹی ہے جس نے سب سے پہلے مراٹھا سماج کو ریزرویشن دیا۔ آج تمام سیاسی جماعتیں اس کے حق میں ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ ہر انتخاب سے پہلے یہی مسئلہ کیوں دوبارہ اٹھایا جاتا ہے؟
اسی پروگرام میں مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والے افراد کو اعزازات سے نوازا گیا، جب کہ پنويل کے مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے متعدد رہنماؤں نے کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ ان کا استقبال خود ہرش وردھن سپکال نے کیا۔