بڑی خبر! ٹھاکرے برادران کے ممکنہ اتحاد سے مہاوکاس اگھاڑی میں پھوٹ کے آثار؟ پسِ پردہ سرگرمیوں میں تیزی

ممبئی: مہاراشٹر کی سیاست میں ایک نیا موڑ، اگر راج ٹھاکرے اور ادھو ٹھاکرے کے درمیان اتحاد ہوا تو مہاوکاس اگھاڑی (MVA) میں پھوٹ پڑنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق منسے (MNS) کے سربراہ راج ٹھاکرے کو ساتھ لینے کے معاملے پر کانگریس اور ادھو ٹھاکرے کی شیوسینا کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔

کانگریس کے ریاستی صدر ہرسھ وردھن سپکال کے بیان کے بعد ٹھاکرے گروپ نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ شیوسینا (ادھو گروپ) کے رکن پارلیمان اروند ساونت نے سوال اٹھایا ہے کہ، ’’کیا راج ٹھاکرے کو ساتھ لینے یا نہ لینے کا فیصلہ کرنے کا اختیار ہرسھ وردھن سپکال کو ہے؟‘‘ وہ اکولہ میں میڈیا سے بات کر رہے تھے۔

اروند ساونت نے واضح کیا کہ اگر راج ٹھاکرے کو ساتھ نہ لینے کا یہ کانگریس کا موقف ہے تو بھی ’’ہماری جانب سے انہیں ساتھ لینے کا فیصلہ پکا ہوچکا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ دسہرہ جلسے میں ادھو ٹھاکرے نے کہا تھا کہ ’’ہم جو اکٹھے آئے ہیں، وہ ایک ساتھ رہنے کے لیے ہی آئے ہیں۔‘‘ ساونت نے اسی بیان کی یاد بھی دلائی۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا راج ٹھاکرے کے مسئلے پر شیوسینا مہاوکاس اگھاڑی چھوڑ دے گی، تو انہوں نے جواب دیا کہ ’’اس پر فیصلہ ادھو ٹھاکرے کریں گے، لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ راج ٹھاکرے کے ساتھ جانے کا ہمارا فیصلہ حتمی ہے۔‘‘

دوسری جانب، ممبئی کے کستربا گاندھی اسپتال میں پرابودھن کار ٹھاکرے کی کتاب پر پیدا ہوئے تنازعے پر تبصرہ کرتے ہوئے ساونت نے سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا، ’’پرابودھن کار کی کتاب پھینکنے والے اور چیف جسٹس بھوشن گوئی پر حملہ کرنے والے عناصر ایک ہی سوچ کے ہیں۔ یہ واقعہ مہاراشٹر کی ثقافت کے زوال کی علامت ہے،‘‘ اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ ’’اس معاملے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔‘‘

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading