امن وامان برقرار رکھنے میں ناکام نائب وزیراعلیٰ فڈنویس فوری طور پر استعفیٰ دیں: ناناپٹولے
ریاست میں فرقہ وارانہ فسادات برپاکرواکر سیاسی فائدہ اٹھانے کی بی جے پی کی مکروہ سازش
ممبئی میں خواتین اور لڑکیاں محفوظ نہیں ہیں
ممبئی:شندے-فڈنویس حکومت، جو سازش کے ذریعے اقتدار میں آئی تھی، ریاست میں امن و امان برقرار رکھنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ ریاست میں جرائم پیشہ عناصر کے حوصلے بلند ہیں اور پولیس کارروائی کرنے میں ناکام ثابت ہورہی ہے۔جب سے دیویندر فڈنویس ریاست کے وزیر داخلہ بنے ہیں،فرقہ پرست طاقتوں کو بڑھاوادیا جارہا ہے۔ گزشتہ ماہ ریاست میں فسادات کرانے کی پہلی کوشش ناکام ہونے کے بعد اب ایک بار پھر اورنگ زیب کا معاملہ اٹھا کر بدامنی پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ممبئی جیسے محفوظ شہر کے ہاسٹل میں ایک طالبہ پر تشدد کرنے کے بعد اسے بے دردی سے قتل کر دیا گیا ہے۔ ریاست میں ایسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے کہ ریاست کی پولیس کا نہیں بلکہ سماج دشمن عناصر اور مجرموں کا بول بالا ہے۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے مطالبہ کیا ہے کہ دیویندر فڈنویس کا اب وزارت داخلہ اور پولیس پر کنٹرول نہیں ہے، اس لیے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کو ان سے استعفیٰ لے کر کسی قابل ایم ایل اے کو وزیر داخلہ مقرر کریں۔
ریاست میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ریاستی کانگریس کے صدر نانا پٹولے نے کہا کہ اس حکومت کے دوران ریاست میں آئے دن فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہورہی ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے ایک ریمارکس میں شندے-فڈنویس حکومت کو نامرد تک کہہ دیا تھا۔ ماضی میں سنبھاجی نگر، احمد نگر، شیگاوں، امراوتی، ناسک میں فرقہ ورانہ تنازعہ پیداکرکے فسادات کرانے کی کوشش کی گئی، لیکن یہ کوشش ناکام ہوگئی کیونکہ لوگوں نے سمجھداری کا مظاہرہ کیا ۔ اب پھر سے فرقہ پرست طاقتیں اورنگ زیب کا مسئلہ اٹھا کر احمد نگر اور کولہاپور اضلاع میں ماحول خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اگر محکمہ پولیس مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کرے گا تو ان کی ہمت نہیں ہوگی۔کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ مذہبی مسائل کو ہوا دے کر ریاست میں فسادات بھڑکانے کی یہ بی جے پی کی مکروہ سازش ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا فڈنویس جان بوجھ کر ایسے واقعات کو نظر انداز کر رہے ہیں؟
19 مئی کو کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے اور سابق وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوہان کی قیادت میں کانگریس پارٹی کے ایک وفد نے اس سلسلے میں ریاست کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس سے ملاقات کی اور ریاست میں امن و امان برقرار رکھنے اور خواتین کی حفاظت کے لیے سخت اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔ لیکن بدقسمتی سے اس حوالے سے کوئی کارروائی نہیں ہو رہی۔ کارروائی کرنے کے بجائے یہ حکومت صرف پولس افسران کے تبادلوں میں مصروف ہے۔محکمہ داخلہ کے علاوہ فڈنویس کے پاس چھ محکموں کی ذمہ داری ہے جن میں مالیات، توانائی، ہاوسنگ اور چھ اضلاع کے نگراں وزارت شامل ہیں۔ کام کے بوجھ کی وجہ سے فڈنویس محکمہ داخلہ کے ساتھ مناسب انصاف نہیںکرپارہے ہیں۔اس لیے فڈنویس سے فوری طور پروزارت داخلہ کی ذمہ درای لے لی جائے اور ریاست کے کسی تجربہ کار اور قابل ایم ایل اے کو کل وقتی وزیر داخلہ کا عہدہ دیا جائے۔
ممبئی میں خواتین اور لڑکیاں محفوظ نہیں
ممبئی کے چرچ گیٹ کے ہاسٹل میں کالج کی طالبہ کو قتل کر دیا گیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ متاثرہ طالبہ کو جنسی زیادتی کا بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ مہاراشٹر کے لیے یہ شرم کی بات ہے کہ منترالیہ اور وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ مالابار ہل سے کچھ ہی فاصلے پر واقع ہاسٹل میں ایک طالبہ کو دن دہاڑے بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ لیکن اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو اس کا کوئی علم نہیں۔ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ ممبئی جیسے شہر میں لڑکیاں محفوظ نہیں ہیں۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ ریاست سے ہزاروں خواتین اور لڑکیاں لاپتہ ہو رہی ہیں لیکن یہ حکومت اس پر کارروائی کرنے کے بجائے سو رہی ہے۔