آر ایس ایس کے بھیاجی جوشی کی جانب سے ممبئی اور مراٹھی زبان کی توہین، عوام سے معافی مانگیں

: اتل لونڈھے

گھاٹ کوپر میں بھی مراٹھی ہی بولی جاتی ہے، سنگھ کے بھیاجی جوشی کی گستاخی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی

زبان کی بنیاد پر مہاراشٹر اور گجرات کی تشکیل ہوئی تھی، پھر ممبئی کو مہاراشٹر سے الگ کرنے کے لیے گجراتی زبان کو مسلط کرنے کی سازش کیوں؟

ممبئی: آر ایس ایس اور بی جے پی کو ممبئی سے ہمیشہ ہی تعصب رہا ہے اور اس نظریے کے لوگ مسلسل ممبئی اور مراٹھی زبان کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ آر ایس ایس کے بھیاجی جوشی کا ممبئی اور مراٹھی زبان کے خلاف دیا گیا بیان دانستہ طور پر کیا گیا ایک توہین آمیز عمل ہے۔ یہ ممبئی اور مراٹھی زبان کی بے حرمتی ہے، اور بھیاجی جوشی کو عوام سے معافی مانگنی چاہیے۔ یہ مطالبہ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے چیف ترجمان اتل لونڈھے نے کیا ہے۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے اتل لونڈھے نے کہا کہ ممبئی سمیت پورے مہاراشٹر کی زبان مراٹھی ہے، لیکن آر ایس ایس کے لوگوں کو ممبئی، مراٹھی زبان اور یہاں کے مراٹھی عوام سے ہمیشہ ہی مخاصمت رہی ہے۔ بی جے پی کی حکومت میں ممبئی کے اہم دفاتر، ادارے اور سرمایہ کاری کو مسلسل ممبئی سے باہر منتقل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اب ممبئی میں مراٹھی زبان کی اہمیت کو کم کرکے گجراتی اور دیگر زبانیں مسلط کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ بھیاجی جوشی کا بیان بھی اسی ذہنیت کا عکاس ہے۔ ممبئی اور مہاراشٹر کی زبان صرف مراٹھی ہے اور ہمیں اس پر فخر ہے۔ اگر کوئی مراٹھی زبان کی توہین کرتا ہے تو ہم اسے کبھی برداشت نہیں کریں گے۔

اتل لونڈھے نے مزید کہا کہ گھاٹ کوپر ممبئی کا ہی ایک حصہ ہے، تو پھر بھیاجی جوشی کو یہ کہنے کی جرات کیسے ہوئی کہ گھاٹ کوپر کی زبان گجراتی ہے؟ گھاٹ کوپر میں لاکھوں مراٹھی لوگ رہتے ہیں اور وہ مراٹھی ہی بولتے ہیں۔ بھیاجی جوشی کے بیان کی کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس پر اپنا مؤقف واضح کرے۔ کیا بھیاجی جوشی کے اس بیان کو اجیت پوار اور ایکناتھ شندے کی حمایت حاصل ہے؟ انہیں بھی اپنا مؤقف عوام کے سامنے رکھنا چاہیے۔

سماجی ہم آہنگی اور بھائی چارے کی بحالی کے لیے 8 مارچ سے مساجوگ سے کانگریس کی سدبھاونا پدیاترا

سدبھاونا یاترا میں سماجی کارکنان، فلاحی تنظیموں کے نمائندے اور مختلف طبقات کے افراد بڑی تعداد میں شرکت کریں گے

ممبئی: مہاراشٹر سادھو سنتوں، صوفیوں اور عظیم شخصیات کی سرزمین ہے اور اپنے ترقی پسند خیالات کی بدولت اس ریاست نے ہمیشہ ملک کو نئی راہ دکھائی ہے۔ تاہم، گزشتہ کچھ عرصے سے ریاست کا سماجی ماحول بگڑتا جا رہا ہے، اور کچھ طاقتیں سیاسی فوائد کے لیے مہاراشٹر کی ثقافت اور روایات کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ایسے حالات میں ریاست میں سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسی مقصد کے تحت کانگریس پارٹی نے سدبھاونا پدیاترا کا اہتمام کیا ہے، جس کا آغاز سنیچر 8 مارچ کو بیڑ کے مساجوگ سے ہوگا۔

سنیچر 8 مارچ کو ہرش وردھن سپکال مساجوگ پہنچ کر مرحوم سنتوش دیشمکھ کے اہل خانہ سے ملاقات کریں گے اور وہاں سے 51 کلومیٹر طویل سدبھاونا پدیاترا کا آغاز کریں گے۔ دو روزہ یہ یاترا اتوار 9 مارچ کی شام بیڑ پہنچے گی، جہاں سدبھاونا مہا سبھا کے ذریعے اس کا اختتام ہوگا۔ اس یاترا میں سابق جج بی جی کولسے پاٹل، کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے رہنما وجے وڈیٹی وار، قانون ساز کونسل میں کانگریس کے لیڈر ستیش عرف بُنٹی پاٹل، سابق وزیر ڈاکٹر وشوجیت کقم، ہماچل پردیش کی انچارج ایم پی رنجنا تائی پاٹل، جالنہ کے ایم پی ڈاکٹر کلیان کالے، ریاستی نائب صدر موہن جوشی، چیف ترجمان اتل لونڈھے سمیت کئی کانگریسی رہنما، سماجی تنظیموں کے نمائندے اور عوام بڑی تعداد میں شریک ہوں گے۔

اس سے قبل کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال کل بروز جمعہ صبح اہلیہ نگر ضلع کے مثالی گاؤں ہیورے بازار میں سماجی کارکن پاپٹ راؤ پوار سے ملاقات کریں گے۔ اس کے بعد، دوپہر میں وہ پاتھرڈی تعلقہ کے مڈھی میں جا کر سنت کانیفناتھ، بھگوان گڑھ میں سنت بھگوان بابا اور نارائن گڑھ میں بھگوان نگدنارائن کی سمادھی پر حاضری دیں گے اور سماجی یکجہتی و امن کے لیے دعا کریں گے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading