تاریخی کالارام مندر میں ہندوتوا کی تنگ نظری کو چیلنج

کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے آئینِ ہند لے کر کیا داخلہ

بی جے پی حکومت وقف املاک کے بعد پدم نابھ مندر کے سونے پر بھی نظریں گاڑے بیٹھی ہے: سپکال کا انکشاف

ناسک:ناسک کے تاریخی کالارام مندر میں داخلے کے لیے بھارت رتن ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر نے جدوجہد کی، مگر اُس وقت کے سماجی نظام نے اُنہیں مندر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی تھی۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے آئین ہند کی کاپی لے کر تاریخی کالارام مندر میں داخلہ حاصل کیا۔ ان کے ساتھ کَرم ویر دادا صاحب گائیکواڑ کے پوتے کیپٹن کنال گائیکواڑ، رکنِ پارلیمنٹ ڈاکٹر شوبھا بچھاؤ اور سیکڑوں کارکنان بھی موجود تھے۔

مندر میں داخلے کے وقت مندر کے مہنت نے کیپٹن کنال گائیکواڑ کا خیرمقدم کیا۔ واضح رہے کہ 1930 میں جب ڈاکٹر امبیڈکر اور دادا صاحب گائیکواڑ نے مندر میں داخلے کی کوشش کی تھی، تو انہیں سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا، لیکن آج اسی مندر کے دروازے ان کی نسل کے نمائندوں کے لیے کھول دیے گئے۔ سپکال نے مندر کے مہنت کو آئینِ ہند کی ایک نقل پیش کی اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مرّیادا پُرشوتم بھگوان رام سب کے ہیں، وہ بھارتی تہذیب کا اٹوٹ حصہ ہیں۔ آج رام نومی کے دن ان کے درشن کر کے میں نے یہ دعا کی کہ ملک و ریاست میں مساوات، بھائی چارہ اور آئینی قدروں کا بول بالا ہو۔

انہوں نے یاد دلایا کہ ڈاکٹر امبیڈکر نے کالارام مندر میں داخلے کے لیے 1930 سے 1935 تک پانچ سال سترہ دنوں تک ستیہ گرہ کیا، مگر مندر کے دروازے ان کے لیے بند ہی رہے۔ ایک موقع پر بھگدڑ میں وہ زخمی بھی ہو گئے تھے۔ بعد میں جب وہ گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے بیرون ملک گئے تو دادا صاحب گائیکواڑ اور سنے گروجی نے تحریک کو جاری رکھا، مگر ہندو مذہبی پیشواؤں نے انہیں آخر تک اندر نہیں آنے دیا، جس کے بعد بابا صاحب نے مذہب تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔

بعد ازاں کانگریس کارکنوں کے ایک اجلاس میں ریاستی صدر سپکال نے بی جے پی حکومت پر وقف اصلاحات کے نام پر املاک ہتھیانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ 1913 میں جب انگریزوں نے دہلی کو دارالحکومت بنانے کے لیے زمین کا حصول شروع کیا تو مذہبی عبادت گاہوں کی حفاظت کے لیے وقف بورڈ کا قیام عمل میں آیا۔ اس قانون کے تحت مندر، مسجد اور گردواروں کو تحفظ حاصل تھا۔ اب بی جے پی اسی قانون میں ترمیم کے ذریعے زمینیں ہتھیانے اور پدم نابھ مندر کے سونے پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

سپکال نے مزید کہا کہ چھترپتی شیواجی مہاراج اور چھترپتی سنبھاجی مہاراج کی توہین کرنے والے راہول سولاپورکر کے گھر کو پولیس تحفظ دیا جا رہا ہے، جبکہ پرشانت کورٹکر پر کارروائی کا محض ناٹک ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان عناصر کو کس کی پشت پناہی حاصل ہے، یہ عوام اچھی طرح جانتی ہے۔ انہوں نے آر ایس ایس کے نظریہ ساز گولوالکر کی کتاب Bunch of Thoughts کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں سنبھاجی مہاراج کے خلاف نازیبا کلمات درج ہیں، اس پر بھی پابندی لگنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی کو واقعی چھترپتیوں پر فخر ہے، تو وہ کورٹکر اور سولاپورکر کے خلاف سخت کارروائی کرے اور اس کتاب پر پابندی عائد کرے۔

اس موقع پر سپکال کے ہمراہ رکنِ پارلیمنٹ ڈاکٹر شوبھا بچّاو، ناسک ضلع کانگریس صدر آکاش چھاجیڈ، سابق رکن اسمبلی شریش کوتوَال، مہاراشٹر کانگریس کے نائب صدر ایڈوکیٹ گنیش پاٹل، شرد آہر، راجارام پانگھوانے، اور ریاستی کانگریس کے جنرل سکریٹری و ناسک انچارج بریج دت سمیت کئی اہم عہدیدار اور کارکنان موجود تھے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading