مہاراشٹر کے وقار کو مودی کے پاس گروی نہ رکھیں، ریاست میں ایم وی اے کی حکومت لائیں: ملکارجن کھڑگے

  • وزیر اعظم مودی کو چھترپتی شیواجی مہاراج کا مجسمہ گرنے پر تمام مہاراشٹر سے معافی مانگنی چاہئے: راہل گاندھی
  • ڈاکٹر پتنگ راؤ کدم نے پلوس کڑےگاؤں علاقے کی کایا پلٹ کی: شرد پوار

  • ڈاکٹر پتنگ راؤ کدم عام لوگوں کے لیے ایک تحریک ہیں: نانا پٹولے

  • ڈاکٹر پتنگ راؤ کدم کی ’لوک تیرتھ‘ یادگار اور قدآدم مجسمے کی نقاب کشائی

ممبئی: مہاراشٹر میں مہا وکاس اگھاڑی مضبوط ہے، اسے کوئی نہیں ہلا سکتا۔ تینوں پارٹیاں مل کر کام کر رہی ہیں۔ راہل گاندھی نے دڑو مات کا پیغام دیا ہے، بے خوف ہو کر کام کیجئے۔ بی جے پی مخلوط حکومت گجرات کے اشارے پر کام کر رہی ہے۔ مہاراشٹر کے وقار کو مودی کے سامنے گروی نہ رکھیں۔ اگر مہاراشٹر میں ایم وی اے کی حکومت آتی ہے تو مرکز کی مودی حکومت بھی ختم ہو جائے گی، اس لیے ایم وی اے کو لوک سبھا کی طرح اسمبلی میں بھی بڑے پیمانے پر کامیاب کریں۔ یہ اپیل آج یہاں کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے کیا ہے۔ وہ سانگلی میں ڈاکٹر پتنگ راؤ کدم کے مجسمہ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

اس موقع پر کانگریس کے قومی صدر نے مزید کہا کہ چھترپتی شیواجی مہاراج ہر ایک کے رول ماڈل ہیں، انسپائریشن کا ذریعہ ہیں لیکن جیسے ہی نریندر مودی کا ہاتھ ان کے مجسمے کو لگا، مجسمہ گر گیا۔ مودی نے گجرات میں ایک پل کا افتتاح کیا وہ بھی گر گیا، ایودھیا میں رام مندر کا افتتاح کیا وہ لیک ہو گیا۔ نریندر مودی ووٹ کے لیے نمائشی کام کرتے ہیں۔ عجلت میں شیواجی کا مجسمہ بنا کر لگایا گیا جو گر گیا اور مہاراشٹر سمیت پورے ملک کی توہین ہوئی۔

لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے اس موقع پر کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے چھترپتی شیواجی مہاراج سے معافی مانگی۔ انہوں نے آر ایس ایس کے ایک شخص کو مجسمہ بنانے و نصب کرنے کا کنٹریکٹ دیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا انہوں نے یہ معافی اس لیے مانگی؟راہل گاندھی نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ مہاراشٹر کے ہر فرد سے معافی مانگنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کے احتجاج میں 700 کسان شہید ہوئے، نوٹ بندی و غل طریقے سے جی ایس ٹی لگانے سے چھوٹی اور درمیانی صنعتیں تباہ ہوگئیں اور لاکھوں لوگوں کا روزگار ختم ہوا، وزیر اعظم کو اس کے لیے بھی معافی مانگنی چاہئے۔

اس پرگرام میں این سی پی-ایس پی کے قومی سربراہ شرد پوار بھی موجود تھے۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ کرم ویر بھاؤ راؤ پاٹل نے تعلیم کی اہمیت کے پیش نظر گاؤں-گاؤ میں تعلیمی ادارے قائم کرکے عام لوگوں کے بچوں کے لیے تعلیم کے دروازے کھول دیے۔ پتنگ راؤ کدم نے بھارتی یونیورسٹی کے ذریعے ریاست کے کئی حصوں میں تعلیمی ادارے شروع کیے۔ پوار نے کہا کہ تعلیم کے ساتھ پتنگ راؤ کدم نے پلوس کڑےگاؤں کے علاقے کے بھی کایا پلٹ کی جو خشک سالی کے علاقے کے طور پر جانا جاتا تھا۔

کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے اپنے خطاب میں کہا کہ پتنگ راؤ کدم عام لوگوں کے لیے ایک تحریک ہیں۔ وہ ایک عام خاندان میں پیدا ہوئے اور اپنی مدد آپ کے تحت پلے بڑھے۔ پلوس کڑےگاؤں علاقے میں انہوں نے صحت، تعلیم، زراعت کے میدان میں مختلف کام کر کے اس علاقے کو ترقی دی ہے۔

اس پروگرام کا اہتمام سابق وزیر ڈاکٹر وشواجیت کدم نے کیا، جس میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری مکل واسنک، ریاستی کانگریس کے انچارج رمیش چنیتھلا، لیجسلیچر پارٹی لیڈر بالاصاحب تھورات، اپوزیشن لیڈر وجے ودیٹی وار، سابق وزیر اعلی سشیل کمار شندے، پرتھوی راج چوہان، رکن پارلیمنٹ چھترپتی شاہو مہاراج، قانون ساز کونسل میں گروپ لیڈر ستیج عرف بنٹی پاٹل، سی ڈبلیو سی کے رکن اور ریاستی ورکنگ صدر نسیم خان، رکن پارلیمنٹ پرنیتی شندے، سابق وزیر ڈاکٹر نتن راؤت، یشومتی ٹھاکر، گوا و دمن دیو کے انچارج مانیک راؤ ٹھاکرے، ریاستی نائب صدر نانا گاونڈے، سابق ایم ایل اے موہن دادا کدم، سانگلی ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر ایم ایل اے وکرم ساونت، سانگلی شہر کانگریس کے صدر پرتھوی راج پاٹل اور دیگر لیڈران موجود تھے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading