انتخاب اب محض ایک رسمی کارروائی بن چکا ہے: ہرش وردھن سپکال

راہل گاندھی نے ہریانہ کے بعد مہاراشٹر میں بھی ووٹ چوری کا پیٹرن بے نقاب کر دیا

راہل گاندھی نے ٹھوس ثبوت پیش کیے، مگر الیکشن کمیشن کی خاموشی معنی خیز، کمیشن نیند کا نہیں بے حسی کا ڈھونگ رچا رہا ہے

الیکشن کمیشن بی جے پی حکومت کے ہاتھ کی کٹھ پتلی بن چکا ہے، ووٹر لسٹ میں گڑبڑی جمہوریت کے لیے زہرِ قاتل

ممبئی: مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی الیکشن کمیشن کی ملی بھگت سے ووٹ چوری کر کے حکومتیں بنا رہی ہے۔ پارلیمنٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے آج ایک بار پھر یہ واضح کر دیا کہ کس طرح بی جے پی اور الیکشن کمیشن مل کر جمہوریت کا گلا گھونٹ رہے ہیں۔ راہل گاندھی نے ہریانہ میں ووٹ چوری کے ایک ایک ثبوت عوام کے سامنے رکھے، لیکن بے حس و بے شرم کی مانند کمیشن کے طرزِ عمل میں ذرا بھی شرم یا تبدیلی نظر نہیں آئی۔

ور دھا کے سیواگرام میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے ساپکال نے کہا کہ راہل گاندھی نے ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ اپنی بات رکھی، مگر الیکشن کمیشن پھر بھی بیدار نہیں ہوا۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ سوئے ہوئے کو جگایا جا سکتا ہے، مگر جو جاگ کر سونے کا ناٹک کرے اُسے نہیں جگایا جا سکتا۔ الیکشن کمیشن نے ثبوت مانگے، ثبوت مل گئے، مگر اب وہ مغالطوں کی سیاست کر رہا ہے۔ سپکال کے مطابق ووٹر لسٹوں میں بڑے پیمانے پر تکنیکی ہیرا پھیری کی گئی ہے، ووٹروں کے نام ایک حلقے سے دوسرے حلقے میں منتقل کیے جا رہے ہیں اور منظم مجرمانہ سرگرمیاں چل رہی ہیں جن پر الیکشن کمیشن خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔

سپکال نے کہا کہ جمہوریت میں آزاد اور شفاف انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، لیکن جب کمیشن خود حکومت کا پالتو بن جائے تو یہ جمہوریت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہریانہ میں ۲۵ لاکھ ووٹوں کی دھاندلی سامنے آئی ہے، کسی ایک شخص کا نام بائیس بار مختلف مقامات پر درج ہے، ایک برازیلی ماڈل کا نام بھی ۲۲ بار ووٹر لسٹ میں شامل کیا گیا، کئی پولنگ بوتھوں پر ایک ہی فرد کے نام بار بار دہرائے گئے۔ یہی سلسلہ مہاراشٹر میں بھی اسمبلی انتخابات کے دوران اپنایا گیا، جہاں بی جے پی نے ہریانہ والا فارمولا استعمال کر کے چوری شدہ ووٹوں کے سہارے حکومت بنائی۔

سپکال کے مطابق ریاست میں صرف چھ مہینوں کے اندر ۴۷ لاکھ ووٹروں کا اضافہ کیا گیا اور پھر ووٹنگ مکمل ہونے کے بعد راتوں رات آٹھ فیصد زائد ووٹ ڈالے گئے دکھائے گئے۔ اب انہی مشتبہ ووٹر لسٹوں کو مقامی بلدیاتی اداروں کے انتخابات میں بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ اپوزیشن نے ووٹر لسٹوں کی درستی کا مطالبہ کیا تھا، مگر اسے نظر انداز کر کے بی جے پی کے مفاد میں براہِ راست الیکشن کا اعلان کر دیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاستی الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹوں میں موجود دوہرے اور تِہرے ناموں کے آگے ’اسٹار‘ لگانے کا فیصلہ کیا ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ان کے پاس ایسے ریکارڈ موجود ہیں جن میں کسی ایک ووٹر کا نام ۲۰۰ یا حتیٰ کہ ۵۰۰ بار تک دہرایا گیا ہے۔ سپکال نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو دو اسٹار والے ووٹروں کے ساتھ دو نمبر کا کام نہیں کرنا چاہیے۔ ان کا یہ ۴۲۰ کا والا رویہ جمہوریت پر سوالیہ نشان ہے۔

سپکال نے بتایا کہ ریاستی الیکشن کمیشن کی پریس کانفرنس میں جب صحافیوں نے ووٹر لسٹوں کی گڑبڑی پر سوالات کی بوچھاڑ کر دی تو کمیشن کے نمائندے ایک بھی سوال کا تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔ سپکال نے کہا کہ اگر انتخابات اسی طرح کے مشکوک انداز میں ہوں گے تو پھر جمہوریت کی بنیاد ہی متزلزل ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی جس طرح اداروں کو یرغمال بنا کر اقتدار حاصل کر رہی ہے، وہ ہندوستانی جمہوریت کے لیے بدترین مثال ہے۔ اگر ووٹ کا حق محفوظ نہ رہا تو پھر عوامی رائے کا وجود محض رسمی کارروائی بن جائے گا اور یہی وہ المیہ ہے جس کی طرف راہل گاندھی نے آج پورے ملک کو متوجہ کیا ہے۔

MPCC Urdu News 5 November 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading