ووٹر لسٹ کی خامیاں دور کیے بغیر انتخابات کا کوئی مطلب نہیں: سپریا سُلے

ہرِیانہ میں ایک لڑکی نے 22 بار ووٹ ڈالا، پھر بھی انتخابی کمیشن خاموش

ووٹر لسٹوں میں دھاندلی جمہوریت کے لیے خطرناک، سپریا سُلے کا انتخابی کمیشن پر شدید حملہ

ممبئی: نیشنلسٹ کانگریس شرد چندر پوار کی کارگزار صدر اور رکنِ پارلیمنٹ سپریا تائی سُلے نے ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کے مسئلے پر انتخابی کمیشن کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انتخاب صاف شفاف نہ ہو تو وہ جمہوریت نہیں بلکہ تماشہ بن کر رہ جاتا ہے۔ سپریا سُلے ممبئی میں صحافیوں سے گفتگو کر رہی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے دہلی میں پریس کانفرنس کے دوران انکشاف کیا ہے کہ ہرِیانہ میں ایک لڑکی نے ۲۲ مرتبہ ووٹ ڈالا، جو جمہوریت کے چہرے پر ایک طمانچہ ہے۔ سُلے نے کہا کہ یہ انکشاف محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک منظم انتخابی جرم کی علامت ہے۔ ہم نے بھی مہاوکاس اگھاڑی اور منسے کے ہمراہ دہلی جا کر انتخابی کمیشن کے سامنے ثبوت پیش کیے تھے، لیکن نہ کوئی جواب آیا، نہ کوئی کارروائی ہوئی۔ کمیشن خاموش ہے اور جب ادارے خاموش رہیں تو سوال خود بخود اٹھتا ہے کہ کیا ان پر کسی کا دباؤ ہے؟

سپریا سُلے نے کہا کہ اگر ثبوت ہونے کے باوجود کمیشن کچھ نہیں کرتا اور بغیر تحقیق کے کلین چِٹ دیتا ہے تو یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ ان تمام بے ضابطگیوں کا غیر اعلانیہ حمایتی بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ درحقیقت ایسی صورت میں انتخابات کا انعقاد بے معنی ہے۔ ہمیں اپنی جمہوریت پر فخر ہے، لیکن اسی جمہوریت میں ووٹر لسٹوں میں اتنا بڑا گھپلا ہو رہا ہے جو شرمناک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ ٹیکنالوجی کے دور میں ووٹر لسٹوں کی درستی کوئی مشکل کام نہیں۔ اگر حکومت چاہتی تو پندرہ دن یا دو مہینے کے اندر ساری خامیاں درست کر کے جنوری میں انتخابات کرا سکتی تھی۔ آخر اتنی جلدی کس بات کی تھی؟ سات سال سے حکومت کو کوئی عجلت نہیں تھی، مگر جیسے ہی الزامات بڑھنے لگے، انتخابات کی تیاری تیزی سے شروع کر دی گئی۔ یہ اتفاق نہیں، ایک منظم منصوبہ بندی ہے۔

سپریا سُلے نے واضح کیا کہ ان کی پارٹی کا پہلا مقصد مہاوکاس اگھاڑی کے اتحاد کے ساتھ انتخاب لڑنا ہے۔ جہاں جہاں ممکن ہوگا ہم اتحاد کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔ مقامی رہنماؤں کی رائے لے کر آئندہ ہفتے کے تصویر واضح کر دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر کی معیشت خطرناک بحران سے گزر رہی ہے، یہ اعداد و شمار خود مرکزی حکومت کے ہیں۔ ریاست میں جرائم میں اضافہ ہوا ہے۔ پونے جیسے شہر میں دن دہاڑے بہیمانہ قتل ہوتا ہے، اور حکومت خاموش رہتی ہے۔ قانون و نظم کی بات کون کرے گا؟ سُلے نے کہا کہ ریاست میں غربت، بیروزگاری اور مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے۔ ہر تین گھنٹے میں ایک کسان خودکشی کر رہا ہے، یہ کوئی سیاسی نعرہ نہیں بلکہ مکرند آبا پاٹل کے پیش کردہ سرکاری اعداد و شمار ہیں۔ اگر یہ حالات ہیں تو حکومت کسانوں کے مسائل پر بات کیوں نہیں کر رہی؟ انہوں نے زور دیا کہ حزبِ اختلاف ہونے کے باوجود وہ چاہتی ہیں کہ ریاست کی معیشت اور سماجی بحران پر ایک خصوصی اجلاس طلب کیا جائے۔ ہم اختلاف رکھتے ہیں، مگر ریاست کے مفاد کے لیے وزیراعلیٰ کو اپوزیشن کے ساتھ بیٹھ کر راستہ نکالنا چاہیے۔ جیسے ملک نے ’آپریشن سندوُر‘ کے وقت متحد ہو کر قومی مفاد میں قدم بڑھایا تھا، ویسے ہی اب مہاراشٹر کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ جہاں جہاں ممکن ہوگا، نیشنلسٹ کانگریس شرد چندر پوار پارٹی اتحادی بنیادوں پر الیکشن لڑے گی اور جہاں ضرورت ہو، وہاں مقامی قیادت کے مشورے سے اپنی طاقت پر بھی میدان میں اترے گی۔ ہمارا مقصد اقتدار نہیں بلکہ انصاف، شفافیت اور جمہوریت کی بقا ہے۔

رنجیت سنگھ نمبالکر اگر بے قصور ہیں تو نارکو ٹیسٹ کرائیں: محبوب شیخ

ڈاکٹر سمپدا منڈے خودکشی معاملے کی غیر جانبدار تفتیش کے لیے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ

ممبئی: این سی پی- ایس پی کے ریاستی یوتھ ونگ کے صدر اور ترجمان محبوب شیخ نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع ستارا کے پھلٹن تعلقہ اسپتال میں ۲۳ اکتوبر کو خودکشی کرنے والی ڈاکٹر سمپدا منڈے کے کیس کی غیر جانبدار اور اعلیٰ سطحی تفتیش کے لیے ریٹائرڈ ہائی کورٹ جج کی سربراہی میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) قائم کی جائے، جس کی قیادت سینئر آئی پی ایس افسر انجنا کرشنا کریں۔

محبوب شیخ نے ممبئی میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران الزام لگایا کہ اس افسوسناک واقعے میں بی جے پی کے سابق رکنِ پارلیمنٹ رنجیت سنگھ نِمبالکر کے قریبی افراد کے نام سامنے آرہے ہیں، لیکن حکومت کی جانب سے اب تک کوئی آزادانہ تفتیش شروع نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس عوام کو بتائیں کہ جب بیڑ ضلع میں حزبِ مخالف کے رہنما پر ایک جھوٹے مقدمے کی بنیاد پر فوری ایس آئی ٹی قائم کی گئی تھی اور ۳۵۰ خواتین کے بیانات ریکارڈ کیے گئے تھے، تو پھر ایک خاتون ڈاکٹر کی خودکشی جیسے سنگین معاملے میں وہ خاموش کیوں ہیں؟

محبوب شیخ نے مزید کہا کہ میڈیا کے ایک حصے نے ڈاکٹر سمپدا منڈے کے سوسائیڈ نوٹ کا صرف ایک حصہ پڑھ کر گمراہ کن تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی۔ اس خط میں صاف طور پر یہ لکھا گیا ہے کہ ایک رکنِ پارلیمنٹ کے پرسنل اسسٹنٹ نے ڈاکٹر سمپدا سے اُس ایم پی سے رابطہ کرنے کو کہا اور اس گفتگو کے دوران ایم پی نے الزامات کو جھوٹا قرار دے کر مستقبل میں ایسا نہ ہونے کی یقین دہانی کرائی۔ مگر خط کے وہ حصے جن میں یہ کہا گیا تھا کہ تم بیڑ کی ہو، اس لیے تمہیں انصاف نہیں ملے گا یا پولیس کی جانب سے شکایت درج نہ کرنے کا ذکر تھا، انہیں دانستہ طور پر حذف کیا گیا۔ شیخ نے کہا کہ اس پورے معاملے میں ملوث ایم پی اور ان کے پی اے کا نارکو ٹیسٹ کیا جانا چاہیے تاکہ سچ سب کے سامنے آ سکے۔محبوب شیخ نے سوال کیا کہ ایک ماہ قبل تک وہ خاتون ڈاکٹر اچھی اور فرض شناس سمجھی جاتی تھیں، مگر جیسے ہی انہوں نے ڈی وائی ایس پی راہل دھس کے پاس دباؤ ڈالے جانے کی تحریری شکایت کی، اچانک تین اعلیٰ افسران نے ان کے خلاف الزامات عائد کیے۔ ایک ہی مہینے میں وہ اچھی ڈاکٹر ’بری‘ کیسے بن گئی؟ ان تینوں افسران پر کس کا دباؤ تھا؟ ان سب کی تفتیش نارکو ٹیسٹ کے ذریعے لگایا جانا چاہیے۔

محبوب شیخ نے بتایا کہ ڈاکٹر سمپدا منڈے کے اہلِ خانہ پہلے ہی ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں ایس آئی ٹی کے قیام کا مطالبہ کر چکے ہیں، لیکن حکومت نے اس مطالبے پر کان نہیں دھرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت شفاف تفتیش سے گریز کرتی رہی تو یہ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ بااثر لوگ اپنی طاقت کا غلط استعمال کر کے انصاف کو دبانا چاہتے ہیں۔ شیخ نے مزید کہا کہ جب نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار نے ایک خاتون آئی پی ایس افسر انجنا کرشنا کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی تھی، تب بھی وہ پیچھے نہیں ہٹیں، لہٰذا ڈاکٹر سمپدا منڈے کیس کی سربراہی انہی کے سپرد کی جائے، کیونکہ وہ دباؤ سے آزاد، ایماندار اور نڈر افسر ہیں۔محبوب شیخ نے ہگونے واقعے کی غیر جانبدارانہ اور جامع تفتیش کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ اگر حکومت واقعی انصاف میں یقین رکھتی ہے تو اسے تمام بااثر ملزمان کے خلاف ایک ہی پیمانہ اختیار کرنا ہوگا، چاہے وہ کسی بھی سیاسی پارٹی یا عہدے سے تعلق رکھتے ہوں۔

NCP-SP Urdu News 5 Nov. 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading