کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال سمیت سینئر لیڈران اور ماہرین رہنمائی کریں گے
ممبئی: ریاست میں حال ہی میں منعقد ہونے والے نگر پالیکا اور نگر پنچایت انتخابات کے بعد کانگریس پارٹی نے اپنے تمام امیدواروں کے لیے رہائشی تربیتی کیمپ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے کا پہلا مرحلہ 27، 28 فروری اور یکم مارچ کو چپلون میں منعقد ہوگا، جس میں کوکن ڈویژن کے منتخب امیدوار اور پارٹی نمائندے شریک ہوں گے۔
اس رہائشی تربیتی کیمپ میں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال کے ساتھ پارٹی کے سینئر لیڈران شرکت کریں گے۔ اس کے علاوہ سماجی کارکنان اور مختلف موضوعات کے ماہرین امیدواروں کو رہنمائی فراہم کریں گے تاکہ وہ بلدیاتی اداروں میں عوامی نمائندوں کے طور پر اپنی ذمہ داریاں بہتر طور پر نبھا سکیں۔
کانگریس کے تربیتی شعبے کے صدر آشو توش شِرکے اور ان کی ٹیم کی جانب سے اس کیمپ میں جامع اور عملی تربیت دی جائے گی۔ تربیت کے دوران چھوٹے شہروں اور نیم شہری علاقوں کو درپیش شہری مسائل، عوام کو ہونے والی روزمرہ مشکلات، ان کے حل کے عملی طریقے، ترقیاتی کاموں کے معیار اور شہری مسائل کے حل کے لیے انتظامیہ کے سامنے مؤثر انداز میں فالواَپ کرنے جیسے موضوعات پر تفصیلی رہنمائی کی جائے گی۔
پارٹی کا مقصد یہ ہے کہ مقامی بلدیاتی اداروں میں کانگریس کے منتخب نمائندے زیادہ باصلاحیت، حساس اور ترقی پسند سوچ کے حامل بنیں تاکہ وہ عوامی مسائل کو بہتر طریقے سے حل کر سکیں۔ آئندہ مرحلوں میں ریاست کے دیگر ڈویژنوں کے امیدواروں کے لیے بھی اسی طرز کے تربیتی کیمپ منعقد کیے جائیں گے۔ یہ اطلاع مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے نائب صدر برائے تنظیم و انتظام ایڈوکیٹ گنیش پاٹل نے دی ہے۔
بجٹ میں سماجی انصاف کا کردار ختم، بجٹ سے عوامی دلچسپی کا خاتمہ تشویشناک: ہرش وردھن سپکال
امریکہ کے ٹیرف کا ہندوستان پر سنگین اثر پڑے گا، جو چالیس برس میں نہیں ہوا وہ اب ہو رہا ہے، یہ تو صرف شروعات ہے: سنجیو چاندورکر
مودی حکومت کے بجٹ میں زراعت غائب، کسانوں کی خودکشیوں میں اضافے کا خدشہ: پرشانت گاونڈے
ہندوستان کے مالیاتی شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری خطرناک: کے وِٹھّل
ممبئی: ماضی میں مرکزی بجٹ پر ملک بھر میں سنجیدہ بحث ہوتی تھی اور اس کے اثرات کو عام آدمی تک سمجھانے کی کوشش کی جاتی تھی، لیکن اب بجٹ اپنی اہمیت کھوتا جا رہا ہے۔ عوام میں بجٹ کے تئیں دلچسپی ختم ہو جانا نہایت مایوس کن اور تشویشناک صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ آج بجٹ میں سماجی انصاف کا تصور مکمل طور پر غائب ہو چکا ہے اور یہ محض اعداد و شمار اور دعووں کا مظاہرہ بن کر رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی کا یہ کہنا بالکل درست تھا کہ بجٹ کا ’حلوہ‘ آخر کس سماجی طبقے کو ملتا ہے، مگر موجودہ بجٹ میں محروم طبقات کے لیے کچھ بھی نظر نہیں آتا۔
تلک بھون میں ہرش وردھن سپکال کی صدارت میں بجٹ پر خصوصی مذاکرہ منعقد ہوا، جس میں معروف ماہرینِ معیشت اجیت جوشی، سنجیو چاندورکر، ایس ناگراجن، وشواس اُتگی اور سابق رکن پارلیمنٹ کمار کیتکر نے شرکت کی۔ سپکال نے کہا کہ بجٹ کے ذریعے ملک کی سالانہ ترقی اور عام شہری کی زندگی پر اس کے اثرات کا جائزہ پیش کیا جانا چاہیے، لیکن گزشتہ چند برسوں سے نہ حکومت اور نہ ہی عوام اسے سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ اگر یہی روش برقرار رہی تو معیشت کے حوالے سے مستقبل ہمیں معاف نہیں کرے گا۔ کسانوں اور بے روزگاری جیسے مسائل پر پہلے ہی تحریکیں چل رہی ہیں اور اب بجٹ پر بھی احتجاج کی نوبت آ سکتی ہے۔
سنجیو چاندورکر نے کہا کہ بجٹ کو محض ایک سال کے تناظر میں نہیں بلکہ مودی حکومت کے گیارہ سالہ معاشی ماڈل کے پس منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق امریکہ میں ڈونالڈ ٹرمپ کی واپسی کے بعد عالمی سطح پر جو تبدیلیاں ہو رہی ہیں، ان کا اثر ہندوستان پر بھی پڑ رہا ہے۔ دنیا میں جو حالات پچھلے چالیس برس میں نہیں دیکھے گئے، وہ اب سامنے آ رہے ہیں اور یہ صرف شروعات ہے۔ ایسے غیر یقینی دور میں معیشت کو مضبوط اور لچکدار بنانے کی ضرورت ہے، مگر اس بجٹ میں ایسے اقدامات نظر نہیں آتے۔ زراعت کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا ہے، حالانکہ کورونا دور میں اسی شعبے نے ملک کو سنبھالا تھا۔ بڑھتا ہوا قرض اور قرض اتارنے کے لیے مزید قرض لینا خطرناک پالیسی ہے۔
پرشانت گاونڈے نے کہا کہ مرکزی بجٹ میں کسان مکمل طور پر غائب ہے اور مین اسٹریم میڈیا نے بھی اس پہلو کو نظرانداز کیا۔ زرعی تحقیق، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے لیے نہایت معمولی رقم مختص کی گئی ہے۔ سویا بین، کپاس، جوار، باجرا، سرسوں اور گنے جیسی اہم فصلوں پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ ملک کے بانوے فیصد کسان چھوٹے اور درمیانی درجے کے ہیں، جن کے لیے حکومتی تعاون نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایسی پالیسیوں سے کسانوں کی خودکشیوں میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔
بینکنگ ماہر کے وِٹھّل نے خبردار کیا کہ ہندوستان کے مالیاتی شعبے میں بڑھتی غیر ملکی سرمایہ کاری قومی خودمختاری کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ عوامی بینکوں کے قومیانے سے کسانوں اور عام لوگوں کو فائدہ ہوا تھا، مگر اب آئی ڈی بی آئی جیسے بڑے بینکوں کی نجکاری کی تیاری ہو رہی ہے۔ اگر بینکنگ نظام غیر ملکی طاقتوں کے کنٹرول میں چلا گیا تو یہ ملک کے لیے شدید نقصان دہ ہوگا۔
اجیت جوشی اور کمار کیتکر نے بھی کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے صنعت کار شدید بحران میں ہیں، معاشرتی اور علاقائی عدم مساوات بڑھ رہی ہے اور نوجوان بہتر مواقع کی تلاش میں ملک چھوڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ حالات ایک خطرناک سمت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، جہاں معاشی ناانصافی اور سماجی تناؤ مزید گہرا ہو سکتا ہے۔