کسانوں کے پاس ابھی بھی لاکھوں کوئنٹل سویابین باقی، تمام خریداری مکمل ہونے تک مراکز کھلے رکھے جائیں: نانا پٹولے

بی جے پی حکومت کسانوں کے ساتھ دھوکہ کر رہی ہے، 6000 روپے فی کوئنٹل قیمت کا وعدہ کب پورا ہوگا؟

ممبئی: ریاست کے سویابین کسانوں، بالخصوص ودربھ اور مراٹھواڑہ کے کسانوں کو سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ ان کے پاس اب بھی لاکھوں کوئنٹل سویابین موجود ہے، لیکن حکومت کی جانب سے خریداری مراکز 6 فروری تک کھلے رکھنے کی مہلت دی گئی ہے، جو ناکافی ثابت ہو رہی ہے۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جب تک تمام کسانوں کی سویابین کی خریداری مکمل نہیں ہو جاتی، تب تک خریداری مراکز بند نہ کیے جائیں۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ ریاستی اور مرکزی حکومت کو کسانوں کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے خریداری مراکز کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہیے تاکہ تمام کسان اپنی پیداوار منصفانہ قیمت پر فروخت کر سکیں۔

نانا پٹولے نے اس مسئلے پر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست میں 30 لاکھ سے زائد سویابین پیدا کرنے والے کسان ہیں، جن میں سے تقریباً ساڑھے 7 لاکھ کسانوں نے مختلف خریداری مراکز پر رجسٹریشن کرایا ہے۔ لیکن اب تک محض 3 سے ساڑھے 3 لاکھ کسانوں کی سویابین خریدی جا سکی ہے۔ بیشتر کسانوں کو بازار میں اپنی پیداوار کم قیمت پر بیچنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ اگر خریداری مراکز بند کر دیے گئے، تو ان کے پاس اپنی پیداوار فروخت کرنے کے لیے کوئی دوسرا راستہ نہیں بچے گا۔

کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ اس وقت کھلے بازار اور مارکیٹ کمیٹیوں میں سویابین کی قیمت 3500 سے 4000 روپے فی کوئنٹل کے درمیان ہے، جبکہ حکومت نے امدادی قیمت 4851 روپے مقرر کی تھی۔ اس فرق کے باعث کسانوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ سویابین کی کاشت کے لیے جو اخراجات ہوتے ہیں وہ بھی پورے نہیں ہو رہے، جس کے باعث کسان شدید مالی بحران کا شکار ہو رہے ہیں۔ نانا پٹولے نے کہا کہ بی جے پی حکومت کو چاہیے کہ وہ کسانوں کے مسائل کو سمجھتے ہوئے خریداری مراکز بند کرنے کے بجائے ان کی تعداد میں اضافہ کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ ہر کسان کو اپنی فصل کی منصفانہ قیمت مل سکے۔

نانا پٹولے نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ خریداری مراکز کھولنے کے باوجود کسانوں کو ان کا حق دینے میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ پہلے یہ کہا گیا کہ گوداموں میں جگہ نہیں ہے، پھر یہ بہانہ بنایا گیا کہ بوریوں کی کمی ہے۔ درحقیقت، حکومت کی بدنظمی اور لاپرواہی کے سبب کسانوں کو اپنی پیداوار فروخت کرنے میں شدید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ خریداری مراکز پر بے ترتیبی کا یہ عالم ہے کہ کسان کئی دنوں تک قطاروں میں کھڑے رہتے ہیں، لیکن انہیں سویابین فروخت کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ جب وہ مراکز پہنچتے ہیں، تو کبھی تکنیکی مسائل کا بہانہ بنایا جاتا ہے، کبھی کاغذی کارروائی میں تاخیر کی جاتی ہے اور کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ آج خریداری ممکن نہیں۔ ایسے حالات میں کسانوں کے پاس کوئی اور راستہ نہیں رہتا، سوائے اس کے کہ وہ اپنی پیداوار کم قیمت پر بازار میں فروخت کردیں۔

نانا پٹولے نے یاد دلایا کہ اسمبلی انتخابات کے دوران بی جے پی حکومت نے کسانوں کو 6000 روپے فی کوئنٹل سویابین کی قیمت دینے کا وعدہ کیا تھا، لیکن یہ وعدہ محض انتخابی جملہ ثابت ہوا۔ آج جب کسان اپنی پیداوار بیچنے کے لیے پریشان ہیں، تو حکومت نے ان کے مسائل کی طرف سے آنکھیں موندلی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہ صرف سویابین بلکہ دھان اور کپاس کے کسانوں کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کیا جا رہا ہے۔ دھان کسانوں کو ان کی پیداوار کے مناسب دام نہیں دیے جا رہے اور کپاس پیدا کرنے والے کسان بھی اپنی فصل کم قیمت پر بیچنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ کسانوں کی حالت دن بدن خراب ہو رہی ہے، لیکن حکومت کی ترجیحات میں ان کے مسائل کا کوئی حل نظر نہیں آتا۔

نانا پٹولے نے مزید کہا کہ یہ واضح ہو چکا ہے کہ بی جے پی حکومت کسانوں کی حمایت کا جھوٹا دعویٰ کرتی ہے، لیکن جب عملی اقدامات کی بات آتی ہے، تو وہ اپنے وعدے سے پیچھے ہٹ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت واقعی کسانوں کے مفادات کا تحفظ کرنا چاہتی ہے، تو اسے فوراً خریداری مراکز کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہیے اور جب تک ریاست کے تمام کسان اپنی پیداوار فروخت نہ کر لیں، مراکز کو بند نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر حکومت نے کسانوں کے ساتھ یہی رویہ جاری رکھا، تو کسان اس دھوکہ دہی کو برداشت نہیں کریں گے اور بی جے پی کو آئندہ انتخابات میں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ انہوں نے اس بات اعادہ کیا کہ کانگریس کسانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading