ممبئی کے شہری مسائل کو نظرانداز کر کے صرف بڑے منصوبوں پر توجہ دی گئی

حکومت گزشتہ تین سالوں میں بی ایم سی کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر کیے گئے اخراجات پر وائٹ پیپر جاری کرے

ممبئی میونسپل کارپوریشن کے بجٹ پر این سی پی- ایس پی کی شدید تنقید

ممبئی: این سی پی- ایس پی نے ممبئی میونسپل کارپوریشن کے مالی سال 2025-26 کے بجٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے محض کھوکھلے وعدوں کا مجموعہ قرار دیا ہے۔ پارٹی نے الزام عائد کیا کہ اس بجٹ میں ممبئی کے شہریوں کو درپیش بنیادی مسائل کے حل کے لیے کوئی ٹھوس حکمت عملی نہیں اپنائی گئی۔ پارٹی کے ترجمان مہیش تپاسے نے بھارتیہ جنتا پارٹی-شیوسینا (ایکناتھ شندے گروپ) اور این سی پی کی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ ایک بار پھر بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو ترجیح دی گئی ہے، جبکہ شہری سہولتوں کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا ہے۔

مہیش تپاسے نے کہا ہے کہ ہر سال سڑکوں کی کنکریٹ کاری کے لیے بھاری بجٹ مختص کیا جاتا ہے، لیکن اس کے باوجود ممبئی کی سڑکیں گڑھوں سے بھری رہتی ہیں۔ برسات کے دوران یہی خراب سڑکیں حادثات اور ٹریفک کے شدید مسائل کا سبب بنتی ہیں، جس سے عام شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ جب ہر سال سڑکوں کی مرمت کے نام پر کروڑوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں، تو پھر زمینی سطح پر کوئی بہتری کیوں نظر نہیں آتی؟ عوام کس طرح یقین کریں کہ اس مرتبہ مختص کردہ فنڈز بدعنوانی کی نذر نہیں ہوں گے؟

ممبئی میں فضائی آلودگی کا مسئلہ دن بدن سنگین ہوتا جا رہا ہے، اور ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) مسلسل ’خراب’ یا ’انتہائی خراب‘ کے زمرے میں برقرار ہے۔ مہیش تپاسے نے بجٹ میں ماحولیاتی تحفظ کے لیے محض نمائشی اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صرف پانی کے ٹینکر اور مسٹنگ مشینوں کے ذریعے بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔ غیر منصوبہ بند تعمیراتی سرگرمیوں، گاڑیوں کے دھویں اور صنعتی فضلے کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے کوئی ٹھوس اقدام کیوں نہیں کیا جا رہا؟ کیا حکومت کے پاس ماحولیاتی تحفظ کے لیے کوئی طویل مدتی حکمت عملی نہیں ہے؟

مہیش تپاسے نے کہا ہے کہ شہری سہولتوں کی حالت بدستور خراب ہے، نکاسی آب کے نظام کے لیے بجٹ میں رقوم مختص کرنے کے باوجود ہر سال برسات کے دوران ممبئی میں پانی جمع ہو جاتا ہے۔ سڑکیں ندی نالوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ، کوڑا کرکٹ کے انتظام کا نظام بھی ناقص ثابت ہو رہا ہے۔ اگرچہ بجٹ میں اس کے لیے اضافی فنڈز مختص کیے گئے ہیں، لیکن اس کے باوجود جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر نظر آتے ہیں اور صفائی کا کوئی موثر نظام نظر نہیں آتا۔ مہیش تپاسے نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ صحت اور تعلیم کے شعبے کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے میونسپل اسپتالوں اور اسکولوں کی حالت ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ عوامی سہولتیں دن بہ دن کمزور ہو رہی ہیں، جبکہ مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام ہو رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر عوام کس سے جواب طلب کریں؟

این سی پی- ایس پی کے ترجمان نے بجٹ پر مزید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ بجٹ عام شہریوں کے فائدے کے بجائے بلڈرز کے مفادات کو مدنظر رکھ کر تیار کیا گیا ہے۔ سستی رہائش کے منصوبے اور جھونپڑپٹی کے مکینوں کی بازآبادکاری کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ حکومت عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے طاقتور بلڈرز کو فائدہ پہنچانے میں مصروف ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ گزشتہ تین سالوں میں بی ایم سی کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر کیے گئے اخراجات پر ایک وائٹ پیپر جاری کرے۔ انہوں نے تمام شہری منصوبوں کے ایک آزادانہ آڈٹ کی بھی اپیل کی تاکہ عوام کو معلوم ہو سکے کہ ان کے ٹیکس کے پیسوں کا کس طرح استعمال ہو رہا ہے۔

مہیش تپاسے کے مطابق موجودہ بجٹ عوامی ترقیاتی منصوبہ نہیں بلکہ محض سیاسی اور تجارتی مفادات کو فائدہ پہنچانے والا ایک دستاویز ہے۔ یہ بجٹ عوام کے لیے نہیں بلکہ چند طاقتور افراد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ ممبئی کے شہریوں کو ایک حقیقت پسندانہ اور عملی بجٹ کی ضرورت ہے، جو ان کے مسائل کا حقیقی حل فراہم کرے، نہ کہ صرف نمائشی اعلانات اور کھوکھلے وعدے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے ممبئی کے عوامی مسائل حل کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا، تو آئندہ بلدیاتی انتخابات میں شہری اس کا جواب اپنے ووٹوں سے دیں گے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading