بغیر کسی مالی منصوبہ بندی کے بی جے پی اتحاد کے لیڈران نے وعدوں کی برسات کی مگر اقتدار میں آتے ہی مکر گئے
ممبئی: ریاستی کانگریس کمیٹی کے صدر ہرشوردھن سپکال نے وزیر اعلیٰ و وزیر توانائی دیویندر فڑنویس پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی اتحاد نے ریاست کی عوام کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فڑنویس اپنے ہی کیے گئے فیصلے پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ 28 مارچ کو وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا تھا کہ یکم اپریل سے بجلی کے بل میں 10 فیصد کی کمی کی جائے گی، لیکن یکم اپریل کو ہی مہاوترن کے ذریعے بجلی ریگولیٹری کمیشن میں عرضداشت دائر کر کے اس کمی کو ملتوی کروا دیا گیا۔ یہ سراسر عوام کو ’اپریل فول‘ بنانے کے مترادف ہے۔
پارٹی دفتر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر میں بجلی کے نرخ دیگر ریاستوں کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ مہنگائی پہلے ہی عوام کی کمر توڑ رہی ہے اور اس پر مہنگی بجلی کا بوجھ مزید تکلیف دہ بن گیا ہے۔ اب ’اسمارٹ میٹر‘ نصب کر کے عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جن کے ذریعے آنے والے بل 30 تا 40 فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجلی بل میں کمی کا وعدہ کر کے صرف تین دن میں اس پر عمل درآمد سے انکار کر دینا عوام کے اعتماد کے ساتھ کھلا دھوکہ ہے۔ جس طرح بی جے پی کی دیگر وعدے محض نعرے اور جملے ثابت ہوئے، اسی طرح بجلی بل کمی کا اعلان بھی ایک اور ’جملہ‘ ثابت ہوا ہے۔
سپکال نے مزید کہا کہ بی جے پی اتحاد نے اسمبلی انتخابات کے دوران بغیر کسی معاشی تیاری کے عوام سے وعدوں کی بارش کر دی۔ انہوں نے کسانوں کو فصل کے دام کی ضمانت، قرض معافی اور ’لاڈکی بہن‘ کو 2100 روپے ماہانہ دینے جیسے اعلانات کیے، لیکن اقتدار میں آتے ہی ان کی زبان بدل گئی۔ اب تو وزیر خزانہ اجیت پوار خود کہہ رہے ہیں کہ حکومت کے پاس کسانوں کے قرض معاف کرنے کے لیے پیسے نہیں ہیں، اس لیے 31 مارچ تک قرض ادا کریں۔ یہ کسانوں کے زخم پر نمک چھڑکنے جیسا ہے۔ سپکال نے برہمی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جب حکومت کے پاس پیسے ہی نہیں تھے، تو پھر اتنے وعدے کیوں کیے گئے؟ کیا تب انہیں مالی حالت کا اندازہ نہیں تھا؟ انہوں نے کہا کہ یہ سب عوام کے ساتھ ایک بےرحم مذاق ہے، جسے مہاراشٹر کی باشعور عوام کبھی معاف نہیں کرے گی۔
آنجہانی جگجیون رام کے 118ویں یومِ پیدائش پر تلک بھون میں عقیدت و احترام سے خراجِ تحسین
تلک بھون میں منعقدہ تقریب میں کانگریس قائدین اور کارکنان کی شرکت، سماجی انصاف کے عزم کا اعادہ
ممبئی: مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کی جانب سے آج بھارت کے سابق نائب وزیر اعظم، مجاہدِ آزادی، عظیم دلت رہنما اور سماجی انصاف کے علمبردار آنجہانی بابو جگجیون رام جی کے 118ویں یومِ پیدائش کے موقع پر تلک بھون، دادر میں ایک باوقار یادگاری تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
تقریب کا آغاز سابق رکن پارلیمنٹ جناب تکارام ریگے پاٹل نے جگجیون رام جی کی تصویر پر پھول نذر کر کے اور خراجِ عقیدت پیش کر کے کیا۔ اس موقع پر مہاراشٹر پردیش کانگریس کے سینئر قائدین، مختلف شعبوں کے عہدیداران، اور بڑی تعداد میں پارٹی کارکنان موجود تھے، جنہوں نے جگجیون رام جی کی ملک و قوم کے لیے دی گئی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ تقریب میں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے نائب صدر جناب گنیش پاٹل، جنرل سکریٹری جناب مناف حکیم، اور دیگر معزز قائدین جناب راجن بھوسلے، نام دیو چوان، دتا ناندے، زمیندار یادو، راگھویندر شکلا، پانڈورنگ چالکے، اور شری کرشنا سانگلے بھی موجود تھے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ جگجیون رام جی نہ صرف ایک عظیم دلت قائد تھے بلکہ وہ ایک سچے جمہوریت پسند، اصول پرست، اور دور اندیش رہنما بھی تھے جنہوں نے بھارت کی آزادی کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا اور آزادی کے بعد ملک کی تعمیر و ترقی میں کلیدی خدمات انجام دیں۔ انہوں نے ہمیشہ پسماندہ طبقات، مزدوروں، کسانوں اور سماج کے محروم طبقے کی آواز بلند کی اور انہیں باعزت زندگی دینے کے لیے انتھک جدوجہد کی۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ آج جب ملک میں سماجی انصاف اور مساوات کو چیلنجز کا سامنا ہے، جگجیون رام جی کے نظریات اور ان کی جدوجہد ہمیں راستہ دکھاتی ہے کہ کس طرح بغیر کسی بھید بھاؤ کے ایک منصفانہ اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والا بھارت بنایا جا سکتا ہے۔
تقریب کا اختتام شرکاء کی جانب سے اس عہد کے ساتھ کیا گیا کہ وہ جگجیون رام جی کے بتائے ہوئے اصولوں پر چلتے ہوئے سماجی انصاف، مساوات اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے مسلسل کام کرتے رہیں گے۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کی طرف سے اس تقریب کے کامیاب انعقاد پر شرکاء نے منتظمین کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ اس طرح کی تقریبات نئی نسل کو ملک کے عظیم رہنماؤں کے افکار سے روشناس کرانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
