دیویندر فڑنویس اور اجیت پوار نے اقتدار میں رہنے کا اخلاقی حق کھو دیا

محض دھننجے منڈے کے استعفے سے حکومت اپنی ذمہ داری سے سبکدوش نہیں ہو سکتی: ہرش وردھن سپکال

ممبئی: مرحوم سنتوش دیشمکھ کے قتل میں سفاکی کی انتہا کر دی گئی، جو انسانیت کے لیے باعث شرم ہے۔ اس لرزہ خیز واقعے کی تصاویر سامنے آتے ہی پورے مہاراشٹر میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔ پولیس اور حکومت کے پاس یہ ناقابل تردید ثبوت موجود ہونے کے باوجود دھننجے منڈے کو بچانے کی کوشش کی گئی، جس سے حکومتی کردار پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔ اس رویے نے مہاراشٹر کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے اور وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس اور نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار نے اقتدار میں رہنے کا اخلاقی جواز کھو دیا ہے۔ انہیں فوری طور پر مستعفی ہونا چاہیے، یہ مطالبہ کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے کیا ہے۔

ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ محض دھننجے منڈے کے استعفے سے حکومت اپنی ذمہ داری سے سبکدوش نہیں ہو سکتی۔ اصل سوال یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ نے انہیں برطرف کیوں نہیں کیا؟ اس وحشیانہ جرم کے تمام شواہد ابتدا ہی سے پولیس اور حکومت کے پاس موجود تھے، اس کے باوجود دو ماہ تک انہیں تحفظ فراہم کیا گیا، جو نہایت سنگین معاملہ ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مجرموں کو اقتدار کا تحفظ حاصل تھا اور اس قتل کو دبانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔

ریاستی کانگریس کے صدر نے کہا کہ دیشمکھ خاندان کی جدوجہد اور ذرائع ابلاغ کے دباؤ کے باعث حقیقت سامنے آئی، ورنہ حکومت اسے دبا چکی ہوتی۔ اب حکومت خود کو بری الذمہ ثابت کرنے کے لیے دھننجے منڈے کے استعفے کو ڈھال بنا رہی ہے، لیکن وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ کی ذمہ داری ختم نہیں ہوتی۔ عوام کے سامنے سچائی آ چکی ہے، اور اسی بنیاد پر انہیں اقتدار سے الگ ہو جانا چاہیے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading