ہندی مسلط کرنے کی کوششوں کے خلاف زبردست عوامی تحریک شروع
۵ جولائی سے قبل ہی حکومت فیصلہ واپس لے گی: ہرش وردھن سپکال
آزاد میدان میں علامتی طور پر ہندی تھوپنے والے حکومتی فیصلے کی ہولی جلا کر احتجاج
ممبئی: ۲۹ جون ۲۰۲۵
مہاراشٹر میں حکومت کی طرف سے ہندی زبان کو لازمی قرار دینے کے حکم کے خلاف زبردست سیاسی اور عوامی ردعمل سامنے آیا ہے۔ جیسے ہی حکومت نے یہ حکم جاری کیا، کانگریس پارٹی نے فوری طور پر اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ہندی کو جبراً تھوپنا ناقابل قبول ہے۔ کانگریس نے تمام سیاسی پارٹیوں اور سماجی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ اس زبان اور ثقافت کے تحفظ کی جدوجہد میں شامل ہوں۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا ہے کہ ریاست میں اب ہندی مسلط کرنے کے خلاف زبردست عوامی تحریک کھڑی ہو گئی ہے۔ پانچ جولائی کو جو جلوس نکالا جائے گا، اس سے پہلے ہی حکومت کو یہ فیصلہ واپس لینا پڑے گا، لیکن اس جلوس کے ذریعے ہمیں یہ پیغام ضرور دینا ہے کہ ہم مراٹھی زبان اور ثقافت کے فروغ کے لیے پرعزم ہیں، اور یہ پیغام پورے ملک میں جانا چاہیے۔
مراٹھی بھاشا کیندر، دیگر ہمنوا تنظیموں اور مختلف سیاسی پارٹی کی جانب سے آزاد میدان میں ہندی زبان تھوپنے والے غیر منصفانہ حکومتی فیصلے کی علامتی ہولی جلائی گئی اور پرزور احتجاج درج کرایا گیا۔ اس موقع پر مراٹھی ابھیاس کیندر کے ڈاکٹر دیپک پوار، شیوسینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے، قانون ساز کونسل میں اپوزیشن لیڈر امباداس دانوے، ممبر پارلیمنٹ سنجے راؤت، اروِند ساونت، مہاراشٹر نونرمان سینا کے لیڈر سردیسائی، کانگریس لیڈر اور ممبئی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر بھالچندر منگیکر سمیت کئی سرکردہ شخصیات موجود تھیں۔
بعد ازاں ممبئی مراٹھی پترکار سنگھ کی ایک میٹنگ میں خطاب کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ ہندو، ہندی اور ہندو راشٹر کا نظریہ دراصل راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کا ایجنڈا ہے اور کانگریس اس ایجنڈے کی سخت مخالفت کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی کا ہندوتوا صرف ہندی بولنے اور ’نمستے سدا وَتسلے ماترُبھومے‘ جیسے نعروں تک محدود ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ زبانوں کے نام پر عوام کو لڑایا جا رہا ہے۔ بی جے پی ہندی اور مراٹھی کے درمیان ایک ایسا تنازع کھڑا کر رہی ہے جیسے وہ بھارت اور پاکستان کا تنازع ہو، تاکہ بلدیاتی انتخابات میں اسے سیاسی فائدہ حاصل ہو سکے۔ یہ ایک چالاک اور خطرناک منصوبہ ہے جسے عوام کے شعور سے ناکام بنایا جانا ضروری ہے۔
سپکال نے مزید کہا کہ اگرچہ ہندی زبان کو آٹھ سو سال پرانی زبان کہا جاتا ہے، لیکن مراٹھی زبان کی تاریخ دو ہزار تین سو سال پرانی ہے۔ اسے ’کلاسیکی زبان‘ کا درجہ دیا جا چکا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ مرکز کی حکومت نے کتنے مرکزی جامعات میں مراٹھی زبان کے شعبے قائم کیے؟ مراٹھی کے فروغ کے لیے مرکزی بجٹ میں کتنا فنڈ مختص کیا گیا؟ ان سوالات کے جواب بھی حکومت کو دینا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کا مؤقف ہے کہ ہندی زبان کی کوئی مخالفت نہیں، لیکن اسے دیگر علاقائی زبانوں پر فوقیت دینا اور زبردستی مسلط کرنا وفاقی ڈھانچے کے خلاف ہے۔ مہاراشٹر کی عوام مراٹھی زبان سے محبت کرتی ہے اور اس کے وقار پر کوئی آنچ نہیں آنے دے گی۔ ۵ جولائی کا جلوس صرف ایک احتجاج نہیں، بلکہ ایک تہذیبی بیداری کی علامت ہوگا۔ کانگریس نے اعلان کیا کہ وہ زبان، ثقافت اور علاقائی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر پلیٹ فارم پر آواز اٹھاتی رہے گی۔
سپکال نے یہ بھی کہا کہ ہندی زبان کی ترقی میں کسی کو اعتراض نہیں، لیکن جب علاقائی زبانوں کی جگہ تنگ کی جائے اور انھیں کم تر سمجھا جائے تو یہ نہ صرف لسانی ناانصافی ہے بلکہ آئین کی روح کے بھی خلاف ہے۔ ہندی ہو یا کوئی اور زبان، کسی پر تھوپنا آزادیٔ اظہار، شناخت اور جمہوری حق کی توہین ہے، اور یہی وجہ ہے کہ آج مہاراشٹر میں ایک نئی عوامی بیداری جنم لے چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندی مسلط کرنے کے خلاف یہ تحریک محض ایک لسانی تنازع نہیں، بلکہ ایک بڑی ثقافتی اور سیاسی جنگ کا پیش خیمہ ہے، جو ہندوستان کے وفاقی ڈھانچے، تنوع اور آئینی توازن کی بقا سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر اس موقع پر خاموشی اختیار کی گئی تو کل کو ہر ریاست کی زبان اور تہذیب خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ اس لیے کانگریس سمیت تمام علاقائی قوتیں اس معاملے میں سخت موقف اختیار کر رہی ہیں۔
MPCC Urdu News 29 June 25.docx