تھانے میونسپل کارپوریشن کی اپیل: طلبہ کے مفاد میں اسکول بند کرنے کی تحریک واپس لی جائے
غیر تسلیم شدہ اسکولوں کے خلاف قانونی کارروائی جاری، طلبہ کو تسلیم شدہ اسکولوں میں منتقل کرنے کی کوششیں تیز
تھانے (آفتاب شیخ)
حق تعلیم ایکٹ 2009 کے تحت کسی بھی طالب علم کو بنیادی تعلیم سے محروم کرنا غیر قانونی ہے۔ اسی اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے تھانے میونسپل کارپوریشن نے آزاد اسکول ایسوسی ایشن سے اپیل کی ہے کہ وہ اسکول بند کرنے کی جاری تحریک کو فوری طور پر ختم کرے اور انتظامیہ کے ساتھ تعلیمی مفاد میں تعاون کرے۔
اس ضمن میں میونسپل کارپوریشن کے ایجوکیشن آفیسر کملا کانت مہترے نے ایک باضابطہ خط ارسال کیا ہے، جس میں غیر تسلیم شدہ اسکولوں کے خلاف کی گئی اب تک کی کارروائی کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔ ان میں طلبہ اور والدین میں بیداری، غیر تسلیم شدہ اسکولوں کی فہرست کی اشاعت، فوجداری و انتظامی کارروائیاں، جرمانے، پانی کی فراہمی بند کرنا، اور تجاوزات کی رپورٹ طلب کرنا شامل ہے۔
میونسپل انتظامیہ نے واضح کیا کہ غیر تسلیم شدہ اسکولوں پر جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور ان کی وصولی پراپرٹی ٹیکس کے تحت کی جا رہی ہے۔ اب تک 32 اسکولوں کی پانی کی فراہمی بند کی جا چکی ہے، اور کئی عمارتوں کے خلاف تجاوزات کی بنیاد پر قانونی کارروائی جاری ہے۔
مزید برآں، مہاراشٹر انگلش اسکول ایسوسی ایشن (میسٹا) کی طرف سے دائر کردہ رٹ پٹیشن کے تناظر میں معزز ہائی کورٹ کی ہدایات کے مطابق 2025-26 کے تعلیمی سال میں غیر تسلیم شدہ اسکولوں میں طلبہ کا داخلہ نہ دینے کے احکامات جاری کیے جا چکے ہیں۔
غیر تسلیم شدہ اسکولوں میں زیر تعلیم تقریباً 19,708 طلبہ کو تسلیم شدہ اسکولوں میں منتقل کرنے کے لیے 9 خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ ان ٹیموں نے والدین سے رابطہ کر کے بچوں کا قریبی اسکولوں میں داخلہ یقینی بنایا ہے۔ تسلیم شدہ اسکولوں نے تعلیمی فیس میں رعایت دینے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے، جس سے طلبہ کی منتقلی کا عمل آسان بنایا جا رہا ہے۔
انتظامیہ کی ان کوششوں کے باوجود اگر اسکول بند کرنے کی تحریک جاری رہی تو طلبہ کا تعلیمی مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے کارپوریشن نے تمام فریقین سے اپیل کی ہے کہ طلبہ کے حق میں فیصلہ لیتے ہوئے تحریک کو فوری طور پر ختم کریں اور قانونی و تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے میں تعاون کریں۔