چھترپتی کی سرزمین پر راہل گاندھی کے استقبال کی تیاریاں مکمل: نانا پٹولے
ایم وی اے میں سیٹوں کی تقسیم پر کوئی تنازعہ نہیں، مودی کو شکست دینا اولین ترجیح
’انڈیا ‘اتحاد سے خوفزدہ مودی کی عجلت میں 38پارٹیوں کے ساتھ میٹنگ: پرتھوی راج چوہان
ممبئی: مرکز کی مودی حکومت نے سیاسی انتقام کے تحت کانگریس کے لیڈرورکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کے خلاف کارروائی کی لیکن راہل گاندھی نے بہادری سے مودی کی آمریت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔کانگریس کی خواہش تھی کہ ملک میں پائے جانے والے خوف کے ماحول میں ’ڈرومت‘ پیغام دینے والے راہل گاندھی کا چھترپتی کی سرزامین پر استقبال کیا جائے، اسی لیے یکم ستمبر کو کانگریس پارٹی کی جانب سے عوامی لیڈرراہل گاندھی کا زبردست استقبال کیا جائے گا۔ یہ اطلاع مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ناناپٹولے نے دی ہے۔
تلک بھون میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے پٹولے نے مزید کہا کہ راہل گاندھی پر جھوٹا الزام لگاتے ہوئے ان کی پارلیمنٹ کی رکنیت منسوخ کردی گئی، جس کے بعد انہیں سرکاری گھر بھی چھوڑنے پر مجبور کیا گیا لیکن راہل گاندھی پیچھے نہیں ہٹے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مودی حکومت کو راہل گاندھی کی رکنیت بحال کرنی پڑی۔ مودی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں حصہ لیتے ہوئے راہل گاندھی نے مودی حکومت پر سخت تنقید کی۔ ملک میں مودی حکومت کی آمریت کو منھ توڑ جواب دینے والے کانگریس کے نڈر جنگجوراہل گاندھی کا استقبال یکم ستمبر کو شام پانچ بجے کیا جائے گا۔اس موقع پر کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے، پارٹی کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال سمیت پارٹی کے سینئر لیڈران موجود رہیں گے۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ناناپٹولے نے کہا کہ ایم وی اے میں لوک سبھا کی سیٹوں کی تقسیم پر کوئی مقابلہ یا تنازعہ نہیں ہے۔ ادھو ٹھاکرے نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ سیٹیں میرٹ کے مطابق تقسیم کی جائیں گی اور کانگریس پارٹی کا بھی یہی موقف ہے۔ ایم وی اے کا مقصد مودی حکومت کو شکست دینا ہے اور اس اتحادکی توجہ اسی مرکوز ہے۔
اس موقع پر سابق وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوہان نے کہا کہ انڈیا اتحادکی میٹنگ پر بی جے پی کی جانب سے کی جانے والی تنقید مضحکہ خیز ہے۔ ملک بھر کی 28 پارٹیاں مودی حکومت کے خلاف متحد ہو ئی ہیں۔ بنگلور میں انڈیا اتحاد کی دوسری میٹنگ کے دوران نریندرمودی نے نہایت عجلت میں این ڈی اے کی میٹنگ بلائی۔ انڈیا اتحاد کی طاقت دیکھ کر مودی اور بی جے پی خوفزدہ ہیں۔ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں 62 فیصد لوگوں نے مودی کے خلاف ووٹ دیا۔ اپوزیشن پارٹیوں نے اس بارفیصلہ کیا ہے کہ ووٹوں کی تقسیم نہیں ہونے دی جائے گی۔چونکہ انڈیا اتحاد مضبوطی کے ساتھ کھڑی ہے اس لیے ووٹوں کے تقسیم کے لیے بی آر ایس جیسی پارٹیوں کو آگے بڑھایا جارہا ہے۔
پرتھوی راج چوہان نے کہا کہ ریاست میں بی جے پی کی قیادت والی شندے حکومت میں تضاد ہے۔اس حکومت کو ایک سال سے زائدعرصہ ہوگیا لیکن ابھی تک نگراں وزیر کا تقرر نہیں کیا جاسکا، کابینہ کی توسیع تک نہیں کی جاسکی۔ فنڈز کی تقیسم کے معاملے میں بھی حکمراں پارٹیوں کے درمیان تنازعہ چل رہا ہے۔حکومت کے درمیان چل رہے ان تنازعات کے شکار کسان، نوجوان، مزدور وریاست کی سرمایہ کاری ہورہی ہے۔ مہاراشٹر میں غیر مستحکم سیاسی صورتحال کی وجہ سے کوئی بڑی سرمایہ کاری نہیں ہورہی ہے۔ ویدانتا فاکسکان جیسا بڑا پروجیکٹ ریاست سے باہر چلا گیا۔ ا بھی حال میں ایپل کمپنی نے 5ہزارکروڑ روپئے کی سرمایہ کاری کرناٹک و تمل ناڈو میں کی ہے۔ جس کی وجہ سے ریاست کے نوجوان روزگار سے محروم رہ رہے ہیں۔ پیاز پر 40 فیصد ایکسپورٹ ڈیوٹی بڑھانے سے کسانوں کو نقصان ہو رہا ہے۔جاپان وچین میں پیاز 200-300روپئے کلو ہے۔ اگر پیازایکسپورٹ کیا گیا تو کسانوں کو زائد پیسے ملیں گے، اس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ مرکزی حکومت فوری طور پر ایکسپورٹ ڈیوٹی کو ختم کرے۔
اس پریس کانفرنس میں سابق وزیر اور ریاستی کارگزار صدر نسیم خان، سابق ایم پی ڈاکٹر بھال چندر منگیکر، شعبہ خواتین کی ریاستی صدر سندھیا سوالاکھے، سوشل میڈیا کے ریاستی سربراہ وشال متیموار اور ریاستی ترجمان بھرت سنگھ وغیرہ موجود تھے۔
فوٹوکیپشن:
راشٹریہ جنتا دل کے صدر، بہار کے سابق وزیر اعلی لالو پرساد یادو اور بہار کے نائب وزیر اعلی تیجسوی یادو 31 اگست اور یکم ستمبر کو ہونے والی انڈیااتحاد کی میٹنگ میں شرکت کے کے لیے ممبئی پہنچ گئے۔ ریاستی کانگریس کے کارگزار صدرو سابق وزیر نسیم خان، ممبئی کانگریس کے سابق صدر سنجے نروپم، سابق وزیر بابا صدیقی، شیو سینا کے ایم ایل اے سچن اہیر نے ان کا ممبئی ایئرپورٹ پر استقبال کیا۔