MPCC Urdu News 29 April 25

کانگریس کی ’سدبھاؤنا یاترا‘ کو ناسک میں زبردست عوامی پذیرائی

ہنگامہ آرائی کے ذمہ داروں کو سخت سزا دی جائے: ہرشوردھن سپکال

ناسک میں کانگریس کی قیادت میں آئین اور سماجی ہم آہنگی کے تحفظ کی ریلی، 1 مئی کو پرلی میں ستیہ گرہ اور 4 و 5 مئی کو پربھنی میں آئین بچاؤ یاترا

ممبئی/ناسک: مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرشوردھن سپکال نے ناسک میں حالیہ پرتشدد واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ قصورواروں کو قانون کے مطابق سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے والی طاقتوں کو روکا جا سکے۔ اُنہوں نے کہا کہ چھترپتی شیواجی مہاراج، شاہو مہاراج، مہاتما پھولے اور ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر جیسے عظیم رہنماؤں کے نظریات پر قائم ریاست میں نفرت اور تعصب پھیلانے کی کوششیں ناقابلِ برداشت ہیں۔

ان خیالات کا اظہار ہرشوردھن سپکال نے ناسک شہر میں ’ہُتاتما اسمارک‘ سے ’گاڈگے مہاراج پُل‘ تک نکالی گئی ’آئین سدبھاؤنا یاترا‘ کے دوران کیا، جس میں ہزاروں کارکنان اور پارٹی عہدیداران شریک ہوئے۔ اس یاترا کی قیادت خود سپکال کر رہے تھے جبکہ اُن کے ہمراہ کانگریس کے ریاستی نائب صدر شرد اہیر، ریاستی جنرل سیکریٹری برج دت، ضلعی صدر شریش کوٹوال، رکن پارلیمان شوبھابچاو، ریاستی نائب صدر کنال پاٹل اور ناسک شہر کانگریس صدر آکاش چھاجیڈ سمیت دیگر قائدین موجود تھے۔

سپکال نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہندوستانی آئین نے دلت، محروم، خواتین اور اقلیتوں کو مساوی حقوق عطا کیے، جو ماضی میں چند افراد کے ہاتھوں میں اقتدار اور قانون کی بالادستی کی شکل میں محدود تھے۔ آج کچھ عناصر ذات پات اور مذہب کے نام پر معاشرے میں دراڑیں ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو مہاراشٹر کی ثقافت اور روایت کے منافی ہے۔ کانگریس پارٹی ریاست بھر میں ’سدبھاؤنا یاترا‘ کے ذریعے عوام میں بھائی چارے اور آئین کے تئیں شعور اجاگر کر رہی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 1 مئی کو پرلی میں "آئینی عہد ستیہ گرہ" جبکہ 4 اور 5 مئی کو پربھنی میں ’آئین بچاؤ یاترا‘ منعقد کی جائے گی، جس کا مقصد آئینی اقدار اور جمہوری حقوق کا تحفظ ہے۔

سپکال نے ناسک میں ماضی قریب میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قانون شکنی کے مرتکب افراد کو سزا ضرور ملنی چاہیے، تاہم انصاف کے تقاضے یہ بھی ہیں کہ بےگناہوں کو نشانہ نہ بنایا جائے۔ اُنہوں نے زور دے کر کہا کہ سماجی ہم آہنگی، بھائی چارہ اور روایتی اقدار کے بغیر مہاراشٹر میں پرامن بقائے باہمی ممکن نہیں۔ اس موقع پر اُنہوں نے عوام سے اپیل کی کہ نیک نیتی اور اتحاد کی شمع کو جلائے رکھیں تاکہ مہاراشٹر کی تہذیبی شناخت محفوظ رہ سکے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading