شیواجی مہاراج کی توہین کرنے والوں کو سرکاری سرپرستی حاصل، ’توہین کرو اور انعام و تحفظ حاصل کرو‘ ریاستی حکومت کی پالیسی
خواتین پر بڑھتے جرائم حکومت کی ناکامی، محکمہ داخلہ کی کارکردگی ’گھاشی رام کوتوال‘ جیسی
رائے گڑھ/ ممبئی: ہندووی سوراجیہ کے بانی چھترپتی شیواجی مہاراج کی تخت نشینی سے انکار کرنے والے اور ان کے خلاف غلط پروپیگنڈا کرنے والے نظریات کے حامل لوگ آج مرکز اور ریاست میں بر سرِ اقتدار ہیں۔ وہی سوچ جس نے شیواجی مہاراج کو ستایا، آج بھی زندہ ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ مہاراج کی توہین کرنے والوں کو سرکاری سرپرستی حاصل ہے، اسی لیے انہیں انعامات اور تحفظ دیا جا رہا ہے۔ لیکن ہم ایسے نظریات کو ’ٹکمک ٹوک‘ سے ختم کرنے کا عزم رکھتے ہیں، یہ بات مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کہی ہے۔ (’ٹکمک ٹوک‘ قلعہ رائے گڑھ کا ایک بلند اور خطرناک پہاڑی کنارہ ہے، جہاں سے چھترپتی شیواجی مہاراج کے دور میں مجرموں اور غداروں کو سزا کے طور پر نیچے گہری کھائی میں پھینک دیا جاتا تھا، تاکہ ان کا وجود ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے۔)
ریاستی کانگریس کے صدر ہرش وردھن سپکال نے آج رائے گڑھ کے قلعے پر پہنچ کر چھترپتی شیواجی مہاراج کو خراج عقیدت پیش کیا اور اس کے بعد مہاڈ میں چودار تالاب کا دورہ کرکے بھارت رتن ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کو خراج عقیدت پیش کیا۔ بعد ازاں، صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چھترپتی شیواجی مہاراج نے نہ صرف عادل شاہی اور نظام شاہی کے خلاف جنگ لڑی بلکہ ذات پات کے امتیاز اور غیر مساوی سماجی نظریات کے خلاف بھی لڑائی کی۔ جن کے خلاف انہوں نے جنگ لڑی وہ تو ختم ہو گئے لیکن فرقہ پرستی کا نظریہ آج بھی قائم ہے۔
ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ ایک اداکار نے شیواجی مہاراج کی توہین کی، لیکن حکومت نے اس کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے اس کے گھر کے باہر پولیس تعینات کر دی۔ تاریخ داں اندرجیت ساونت کو فون پر دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جبکہ دوسری طرف مہاراج کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے جا رہے ہیں۔ یہی نہیں، شیواجی مہاراج اور سمبھاجی مہاراج کی توہین کرنے والے ساورکر کو حکومت ایوارڈ دے کر سرفراز کر رہی ہے، جو کہ بدقسمتی کی انتہا ہے۔
ریاستی کانگریس کے صدر نے کہا کہ آزادی کی جدوجہد کے دوران صرف اقتدار کی منتقلی کا سوال نہیں تھا بلکہ نظام کی تبدیلی کا بھی خواب دیکھا گیا تھا۔ آزادی کے بعد ملک کو جو آئین دیا گیا، اس میں بھی ہندووی سوراجیہ کا تصور موجود ہے۔ کانگریس کی پالیسیاں بھی ہندووی سوراجیہ پر مبنی ہیں۔ رائے گڑھ پر پہنچنے کا مقصد یہ عہد کرنا ہے کہ مہاراج کے خواب کے مطابق ہم عوامی حکومت قائم کریں گے۔
پونے میں حالیہ جنسی زیادتی کے واقعے پر بات کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ خواتین پر بڑھتے جنسی جرائم حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ محکمہ داخلہ کی کارکردگی ایسے ہے جیسے ’گھاشی رام کوتوال‘ کے ہاتھ میں انتظام ہو۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جس طرح شیواجی مہاراج نے پیشواؤں کو اقتدار دیا اور بعد میں پیشواؤں نے سوراجیہ کو نقصان پہنچایا، آج بھی ویسا ہی کچھ ہو رہا ہے؟
مہاڈ میں سانپ کے زہر پر تحقیق کرکے مؤثر دوا تیار کرنے والے معروف ڈاکٹر پدم شری ہمت راؤ باوسکر کے گھر جاکر کانگریس کے پردیش صدر نے ان سے خیر سگالی ملاقات کی اور ان کے اہل خانہ سے گفتگو کی۔ اس موقع پر ہرش وردھن سپکال کے ہمراہ کانگریس کے ترجمان اتل لونڈھے، رائے گڑھ ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر مہندر گھرَت، پردیش کانگریس کے جنرل سیکریٹری اور رائے گڑھ کے انچارج شری رنگ برگے، کانگریس کی ایڈوکیٹ شردھا ٹھاکر، یوتھ کانگریس کے صدر ہیم راج مہاتر، سینئر رہنما آر سی گھرَت، دلیپ پاڈگاوکر اور دیگر عہدیداران موجود تھے۔