
ممبئی:(ورق تازہ نیوز) بی جے پی کے اقتدار والی ریاستوں میں کوروناکے مریضوں کی تعدادکوچھپایا جارہا ہے اورافسوسناک باب یہ ہے کہ گجرات میں کوروناکے ٹیسٹ بھی نہیں کیے جارہے ہیں۔ ہائی کورٹ نے گجرات کے نظامِ صحت کا پردہ فاش کرتے ہوئے اس کا موازنہ ڈوبتے ہوئے ٹائٹینک جہاز سے کیا ہے اور کہا ہے کہ وہاں کے اسپتال کال کوٹھریوں سے بھی خطرناک ہیں۔ گجرات میں ٹیسٹ نہیں کیے جارہے ہیں،اترپردیش و مدھیہ پردیش میں بھی یہی صورتحال ہے۔بی جے پی کے زیراقتدار ریاستوں کی حکومتوں نے کورونا کے آگے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔ ریاست کے بی جے پی لیڈران پہلے گجرات ماڈل کے چاند پر پڑنے والے گڑھے دیکھیں اور اس کے بعد مہاراشٹر کی حکومت کے بارے میں کچھ کنے کی جرات کریں۔ یہ تنبیہ آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری وترجمان سچن ساونت نے کی ہے۔
سچن ساونت نے مزید کہا کہ گجرات ہائی کورٹ نے ڈاکٹروں کے شکایات پر نوٹس لیتے ہوئے کورونا پر سماعت کی اورگجرات میں صحت کے نظام کی حقیقت کو اجاگر کیا ہے۔ اس سماعت کے دوران جو باتیں ہائی کورٹ نے کہی ہیں وہ بی جے پی حکومت کی ناکامیوں کو بے نقاب کرتا ہے۔ احمدآباد میں کورونا کی صورت حال پر حکومت کی جانب سے جواب دیتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل نے جو معلومات ہائی کورٹ کے روبرو رکھی ہیں وہ حیران کن ہیں۔ایڈووکیٹ جنرل نے ہائی کورٹ کے روبر اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ کورونا کی ٹیسٹنگ نہیں کی جارہی ہے ، اگر ٹیسٹ کیا جائے تو صرف احمدآباد میں 70فیصد کورونا کے مریض پائے جائیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ
احمدآباد کی موجودہ صورت حال یونائیٹیڈ نیشن کے اندازے کے مطابق احمد آباد کی موجودہ آبادی کا تخمینہ اگر 78 لاکھ یالگائی جائے یا 2011 کی مردم شماری کے مطابق اگر55.7 لاکھ پرہی غور کیا جائے تو 70 فیصد یعنی زائد از55 لاکھ اوراقل ترین40 لاکھ کورونا مریض ہیں اوریقینی طور پر یہ تعدادچھپائی جارہی ہے۔
بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں کی صورتحال انتہائی خراب ہے اور اتر پردیش ، مدھیہ پردیش و کرناٹک کی بھی صورتحال اس سے مختلف نہیں ہے۔ بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں کی اس صورتحال کے پیش نظرمہاراشٹر کی صورت حال پر ریاستی بی جے پی کے لیڈران کو بولنے کا اخلاقی حق نہیں ہے۔
ساونت نے کہا کہ مہاراشٹر میں حکومت سائنسی طریقہ کاراپناتے ہوئے کام کررہی ہے۔یہ حکومت تالیاں بجانے، دیئے جلانے و مینڈکوں کی طرح چھلانگیں نہیں لگاتی ہے۔ فی الوقت کا چیلنج بڑا ہے۔ اگرکہیں کوئی سقم نظر آتا ہے تو حزبِ مخالف سے توقع ہے کہ وہ اس کی نشاندہی کرتے ہوئے حکومت سے تعاون کرے۔ کورونا سبھی کا دشمن ہے، انسانیت کا دشمن ہے لیکن بی جے پی کے ریاستی لیڈران حکومت کو ہی دشمن سمجھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے مرکزی لیڈران اقتدار کے بھوکے تو ہیں ہی لیکن ریاستی لیڈران بھی اقتدار کے لئے پاگل ہورہے ہیں۔ انھیں عوام کے معاملات سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ریاست میں جب سیلاب آیا تھا تو فڈنویس کے کام کاج کو سبھی نے دیکھا ہے۔چندرکانت پاٹل کے بیانات بھی نہایت غیرذمہ دارانہ تھے۔فڈنویس کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ کانگریس اس وقت اپوزیشن میں تھی اور اس نے کوئی تحریک نہ چلاتے ہوئے اپنے مدد کا ہاتھ بڑھایا تھا۔ مہاراشٹر ایک بڑے بحران سے دوچار ہے۔ ایسے میں ایک ذمہ دار اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کے بجائے ریاست کو غیر مستحکم کرنے کی سازش رچی جارہی ہے۔
نرائن رانے وسبرامنیم سوامی نے ریاست میں صدر راج لاگو کرنے کے بیانات ویسے ہی نہیں دیے ہیںبلکہ یہ مرکزی بی جے پی قیادت کے اشارے پر دیئے ہیں۔
سچن ساونت نے کہا کہ مرکزی حکومت ریاست کو فنڈ نہیں دے رہی ہے، مہاجر مزدوروں کو ان کے اپنی اپنی ریاست میں بھیجنے کے لیے جتنی ٹرینوں کی ضرورت ہے وہ نہیں دے رہی ہے۔ ہر جانب سے مہاراشٹر کو مشکلات میں ڈالنے کی سازش رچی جارہی ہے۔ جو لوگ محکمہ ریل تک ٹھیک سے نہیں چلاپارہے ہیں، وہ ریاست چلانے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ گجرات کے بالمقابل مہاراشٹر میں مہاجرمزدوروں کی تعداد زیادہ ہونے کے باوجود ٹرینیں صرف گجرات سے ہی زیادہ روانہ ہورہی ہیں۔ ریاستی حکومت روزآنہ 80ٹرینوں کا مطالبہ کررہی ہے لیکن اسے صرف 40ٹرینیں ہی دی جارہی ہیں۔ محکمہ ریلوے کو 157ٹرینوں کی فہرست دیئے جانے کے باوجود ریلوے کے وزیر ٹوئیٹ کررہے ہیں۔ ٹرینوں میں سفر کرنے والوں کی فہرست قبل ازوقت دیئے جانے کی مرکزی حکومت کی کوئی ہدایت نہ ہونے کے باوجود یہ فہرست مانگی جارہی ہے۔ یہ سب قصداً کیا جارہا ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مرکزی حکومت کا رویہ تعاون کا نہیں ہے۔ قصداً مشکلات پیدا کرکے ریاستی حکومت کو ناکام ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
سچن ساونت نے سوال کیا کہ جب کرناٹک حکومت نے 161 کروڑ روپئے کے پیکیج جبکہ گجرات نے 650 کروڑ روپئے کا پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ ایسے میں دیوندر فڈنویس کس بنیاد پر 50ہزار کروڑ کے پیکیج کا مطالبہ کررہے ہیں؟ ساونت نے کہا کہ بی جے پی لیڈران کو چاہئے کہ وہ اپنا غیر ذمہ دارنہ رویہ ترک کرتے ہوئے ریاست کے مفاد کے لیے مرکزی حکومت سے ریاست کو بڑی مدددلائیں۔