پیوش گوئیل ریلوے کی ناکامیوں کو چھپانے کے بجائے اسے دور کرنے کی فکر کریں
ممبئی: سابق وزیراعلیٰ دیوندر فڈنویس کے ذریعے حکومت کو قرض لینے کا مشورہ دینے پر اقلیتی کابینی وزیرنواب ملک نے سخت تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ جنہوں نے ریاست پر پانچ سال تک مسلسل قرض کا بوجھ بڑھایا، قرض بازاری کی وہ برائے مہربانی قرض لینے کا مشورہ نہ دیں۔ان کے مشورے کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہم میں ریاست کی معیشت کو بہتر بنانے کی قابلیت ہے۔ اگرانہیں قرض لینے کا مشورہ دینا ہے تو انہیں کمپنی کھول لینی چاہئے ۔
نواب ملک نے دیوندر فڈنویس نے پریس کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کا کہنا ہے کہ مرکز نے ریاست کو 28ہزار کروڑ روپئے دیئے ہیں۔ مرکز کو مختلف اسکیموں کے لیے رقم دینی ہوتی ہے جو لازمی ہوتا ہے۔ متعلقہ اسکیموں کے فنڈ کسی دوسری اسکیم میں خرچ نہیں کیے جاسکتے۔ دیوندر فڈنویس کا کہنا ہے کہ مرکز نے فنڈ دیا ہے جو سراسر غلط ہے۔ اس کا فائد ریاستی حکومت کو ہوا ہی نہیں۔ لازمی فنڈ سرکار اورعوام کو دیا گیا ہے۔ دیوندرفڈنویس کا مشورہ ہے کہ مہاراشٹر کو ڈیڑھ لاکھ کروڑ روپئے قرض لینا چاہئے۔ دنیا بھرمیں، ملک بھر میں اور ریاست بھر میں لوگ قرض لینا چاہتے ہیں۔ اگر فڈنویس کمپنی کھول لیں تو ان کا کاروبار اچھی طرح سے چلے گا۔
نواب ملک نے کہا کہ فڈنویس کا یہ کہنا ہے کہ ہم ریاستی حکومت کو غیرمستحکم نہیں کررہے ہیں ، جبکہ مہاراشٹر حکومت غیرمستحکم نہیں ہوسکتی۔ تینوں پارٹیاں نہایت مضبوطی سے حکومت چلارہی ہیں۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ دہلی سے لے کر مہاراشٹر تک بی جے پی کے لوگ حکومت کو گرانے کی کوشش کررہے ہیں۔ لیکن ہم حکومت کو کسی بھی صورت کو کمزور نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں صدر راج نافذ کرنے کی افواہ پھیلایاجارہا ہے، لیکن یہ حکومت پانچ سال تک بغیر کسی پریشانی اور کمزوری کے چلتی رہے گی۔ہم تینوں پارٹیاں متحدہ طور پر کام کررہے ہیں۔ بی جے پی کے لوگ چاہے جتنی افواہ پھیلائیں مگر وہ حکومت کو کمزور نہیں کرسکیں گے۔
نواب ملک نے اس موقع پر محکمہ ریلوے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ وہ اپنی ناکامیوں کوچھپانے کے بجائے اسے دور کرنے کی فکر کرے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ ریلوے کا یہ کہنا ہے کہ مہاجر مزدوروں کو ان کے آبائی ریاستوں میں روانہ کرنے میں لاک ڈاون کے اصولوں کے خلاف ورزی ہورہی ہے۔ جبکہ یہ محکمہ ریلوے کا محض ایک بہانہ ہے۔ اسے اپنی ناکامیوں وخامیوں کو چھپانے کے بجائے اسے دور کرنے کی فکر کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مہاجر مزدوروں کو ان کے آبائی وطن روانہ کرنے کے جو رہنما خطوط مرکزی حکومت نے بنایا ہے
اس کے مطابق نوڈل آفیسرس ومتعلقہ ریاستوں کی منظوری کے بعد ٹرینوں کو روانہ کرنے کا ہم انتظام کررہے ہیں۔ محکمہ ریلوے کی جانب سے 150ٹرینوں کا انتظام نہیں ہوپارہا ہے ۔ روزآنہ 150ٹرینوں کی پینڈنگ لسٹ رہ جاتی تھی اور آج بھی یہی صورت حال ہے۔ لیکن محکمہ ریلوے کے وزیر پیوش گوئیل ریلوے کی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے کبھی ٹوئیٹر تو کبھی پریس کانفرنس کے ذریعے کوشش کررہے ہیں۔
انہیں ریلوے کی ناکامیوں کو چھپانے کے بجائے اسے دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔نواب ملک نے یہ بھی کہا کہ مہاجر مزدوروں کو روانہ کرنے کا مسئلہ ریلوے کو اپنی ناکامیوں کو چھپانے سے حل نہیں ہوگا۔ پیوش گوئیل کی اس طرح کی کوششوں سے گجرات میں تذبذب پیدا ہورہے ہے۔ مزدوروں کے جتنے ٹرینیں روانہ کی جارہی ہیں، ان کی تعداد اس سے زیادہ ہوتی جارہی ہے۔ پیوش گوئیل کو اس پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔
