
ممبئی : 26 مئی (یو این آئی) مہاراشٹرا میں کورونا کیا امیر اور کیا غریب کیا راجہ اور کیا رنک سب کو اپنی لپیٹ میں لےرہا ہے۔ ابھی وزیر جتیندر آوہاڑ کورونا وائرس کو شکست دے کر واپس ہوئے تو مہاراشٹرا کے سابق وزیر اعلیٰ اور ریاستی کانگریس کے قد اور لیڈر اشوک چوہان اس کی لپیٹ میں آنے کی غیر تصدیق شدہ اطاعات ہیں۔ میڈیا میں گردش کر رہی خبروں کے مطابق اشوک چوہان علیل ہیں اور علاج کے لیے اپنے وطن ناندیڑ سے ممبئی پہنچے ہیں۔
بتایا جا رہا ہے کہ کل انکی طبعیت خراب ہونے پر انھیں ناندیڑ کے ایک نجی اسپتال میں بھرتی کیا گیا تھا۔ جس کے بعد مہاراشٹرا کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے فون پر انکی عیادت کی اور مزید علاج کے لیے انھیں ممبئی انے کا مشورہ دیا۔ جس کے بعد اشوک چوہان اورنگ آباد۔ پونا ہوتے ہوئے ممبئی پہنچے۔
دریں اثناء ناندیڑ سے ملی اطلاع کے مطابق وزیر محنت و ضلعی سرپرست وزیر اشوک چوان کے خلاف فیس بک پر ایک قابل اعتراض پوسٹ لکھنے پر اس کے خلاف نائیگاؤں تعلقہ کے رامتیرتھ پولیس اسٹیشن میں مقدمہ مقدمہ درج کر دیا گیا ہے۔ اس نوجوان کی جانب سے لکھتے گئے انتہائی قابل مذمت پوسٹ کانگریس کارکنان مشتعل ہوگئے۔
بتایا جا رہا ہے کہ اتوار کے روز اشوک چوان کو کورونا تشخیص ہوا تھا۔ جس کے بعد ضلع بھر میں انکے حامیوں اور ان سے محبت کرنے والے قائدین انکی کی جلد صحتیابی کی دعا کررہے ہیں۔ اسی بیچ گووند پاٹل پدم قدم شیرشیکر نامی نوجوان نے انکے خلاف ایک قابل اعتراض پوسٹ لکھی ،جس میں مبینہ طور پر کہا گیا ہے کہ
"جسکا جیسا عمل خدا اس کے مطابق پھل دیتاہے۔ خبر صحیح ہے یا غلط میں نہیں جانتا ۔سچ ہے تو بہت خوب، بچنا نہیں چایئے”
یہ پوسٹ فیس بک پر کی گئی تھی۔
اس ضمن میں ، سدھاکر بھلووندے ، نذیر باغوان ، نذیر فرید شیخ اور فاروق محبوب بیگ پٹیل نے شکایت درج کی تھی جس پر گووند پاٹل پدم قدم شیرشیکر کے خلاف نرسی پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا ۔اس پوسٹ کو دیکھنے کے بعد ، کانگریس کارکنوں اور اشوک چوان کے نوجوانوں حامیوں نے گووند پاٹل پدم قدم شیرشیکر سے موبائل پر رابطہ کیا اور انہیں معذرت کرنے پر مجبور کیا۔