بلڈھانہ میں بالوں کے جھڑنے کی رپورٹ کہاں گئی؟ حکومت رپورٹ کیوں چھپا رہی ہے؟ – ہرش وردھن سپکال
ریاستی حکومت کا عوام کی صحت سے کھلواڑ، راشن میں 14.52 فیصد سیلینیم والی گندم تقسیم
کیا حکومت نے پدم شری ڈاکٹر ہمت راؤ باوسکر کی تحقیق کو نظرانداز کر دیا؟
ممبئی: بلڈھانہ ضلع کے تین تعلقوں میں ہزاروں افراد شدید بال جھڑنے کے مسئلے سے دوچار ہیں۔ گنجے پن کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باوجود اس کے اسباب پر تحقیقاتی رپورٹ تین ماہ گزرنے کے بعد بھی منظرعام پر نہیں آئی۔ حکومت اس معاملے پر ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے اور حقائق چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ باتیں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کہی ہیں۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ دسمبر کے دوسرے نصف میں بلڈھانہ ضلع کے تین تعلقوں کے 19 دیہاتوں میں شہریوں کو شدید بال جھڑنے کے مسئلے کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد گنجے پن کا شکار ہوگئے۔ لیکن یہ کیوں ہوا؟ اس کا سائنسی جواز حکومت آج تک پیش نہیں کر سکی۔ اب حکومت دعویٰ کر رہی ہے کہ لوگوں کے سر پر دوبارہ بال اگ رہے ہیں، تو کیا عوام کو یہ اب بھی پوچھنا ہوگا کہ وہ کون سا تیل استعمال کریں؟ سپکال نے طنزیہ انداز میں کہا کہ حکومت بال جھڑنے کی سائنسی وجہ نہیں بتا رہی، جبکہ متاثرہ علاقے کھارے پانی کے زون میں آتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے شکایات موصول ہونے کے بعد تحقیقات ضرور کرائی، لیکن اب تک انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (ICMR) کی رپورٹ کا انتظار کرنے کا دعویٰ کر رہی ہے۔ اگر حکومت سنجیدہ ہوتی، تو وہ اپنی ٹیم بھیج کر رپورٹ حاصل کر چکی ہوتی۔ کیا ICMR چاند پر واقع ہے؟ ایسا لگتا ہے کہ حکومت یا تو رپورٹ دبا رہی ہے یا اس میں تبدیلی کی کوشش کر رہی ہے۔
سپکال نے کہا کہ حکومت کی رپورٹ ابھی تک سامنے نہیں آئی، لیکن معروف طبی ماہر اور محقق، پدم شری ڈاکٹر ہمت راؤ سالوبا باوسکر نے اس معاملے پر تفصیلی تحقیق کی۔ انہوں نے متاثرہ علاقوں سے جلد، ناخن، مٹی اور راشن کے تحت تقسیم ہونے والے گندم کے نمونے اکٹھے کیے اور انہیں تجربہ گاہ میں جانچنے کے بعد اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کی۔ ان کی تحقیق سے واضح ہوا کہ اس مسئلے کی اصل جڑ عوامی تقسیم کے نظام (PDS) کے تحت فراہم کیا گیا گندم تھا، جس میں غیرمعمولی مقدار میں سیلینیم موجود تھا۔
تحقیقات میں یہ ثابت ہوا کہ گندم میں سیلینیم کی مقدار 14 فیصد سے زیادہ تھی، جبکہ 1.9 فیصد تک یہ نقصان دہ نہیں ہوتا۔ زیادہ مقدار میں سیلینیم کی موجودگی متلی، خارش اور ذیابیطس جیسی سنگین صحت کے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ ڈاکٹر باوسکر نے اپنی تفصیلی رپورٹ حکومت کو پیش کی، لیکن حکومت نے اسے مسترد کرتے ہوئے کوئی کارروائی نہیں کی۔
سپکال نے حکومت کے رویے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر ہمت راؤ باوسکر کو وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی سفارش پر اور وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کے ذریعے پدم شری ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ لیکن آج جب وہ سائنسی تحقیق کے ذریعے عوامی صحت کا ایک سنگین مسئلہ سامنے لا رہے ہیں، تو انتظامیہ ان کے ساتھ تحقیر آمیز رویہ اپنا رہی ہے۔
ضلع کلکٹر کے نامناسب بیانات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سپکال نے کہا کہ ضلع کلکٹر جیسے سرکاری ملازم کو عوامی خدمت کے لیے رکھا گیا ہے، نہ کہ پدم شری ایوارڈ یافتہ سائنسدانوں کی توہین کرنے کے لیے۔ کیا حکومت نے انہیں کسی بڑے عہدے کا لالچ دے رکھا ہے؟ حکومت کو واضح کرنا ہوگا کہ آیا ڈاکٹر باوسکر کی تحقیق غلط ہے یا نہیں۔ اگر وہ غلط ہیں تو سائنسی بنیادوں پر اس کی وضاحت کی جائے، بجائے اس کے کہ ان کا مذاق اڑایا جائے۔
بلڈھانہ میں بال جھڑنے کے اس مسئلے کو جب ریاستی اسمبلی میں اٹھایا گیا تو متعلقہ وزیر نے گمراہ کن معلومات فراہم کیں۔ سپکال نے کہا کہ یہ معاملہ محض سیاست کا نہیں بلکہ عوامی صحت کا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کسی بڑے فرد کو بچانے کے لیے اس معاملے کو دبایا جا رہا ہے۔ کانگریس نے حکومت کو متنبہ کیا کہ وہ عوام کی زندگیوں سے کھلواڑ نہ کرے اور فوری طور پر تحقیقاتی رپورٹ عوام کے سامنے لائے۔